یہی پڑھایا اور سکھایا جاتا ہے کہ اپنے متعلق کچھ نہ سوچیں، چاپلوسی ہی کامیابی کا زینہ ہے، سرزنش سنیں اور مہینوں احساس جرم میں مبتلا رہیں

مصنف کی معلومات

مصنف: ڈاکٹر وائن ڈبلیو ڈائر
ترجمہ: ریاض محمود انجم
قسط: 47

یہ بھی پڑھیں: اسلام آباد میں مجلس وحدت المسلمین اور ملی یکجہتی کونسل کے زیر اہتمام ’’پیغمبر عشق اعظم کانفرنس‘‘، قطر پر حملے کی مذمت

سکول میں خوشنودی کا حصول

جب آپ نے اپنے گھر سے باہر قدم رکھا اور سکول کے پھاٹک کے اندر داخل ہوئے تو آپ ایک ادارے میں داخل ہو گئے۔ یہ ادارہ اس لیے قائم کیا گیا ہے کہ دوسروں کی خوشنودی اور رضامندی پر مبنی رویہ اور طرزعمل آپ کے روزمرہ معمولات زندگی میں داخل کر دیا جائے۔ یہ ایک ایسا ادارہ ہے جہاں ہر معمولی کام انجام دینے سے پہلے اجازت لینا پڑتی ہے۔ اس میں آپ کی مرضی اور خواہش کا کوئی عمل دخل نہیں ہوتا۔

یہ بھی پڑھیں: یورپ میں شدید برفباری، نظام زندگی مفلوج، حادثات میں 6 افراد ہلاک، سینکڑوں پروازیں منسوخ

سکول میں روزمرہ کی روایات

غسل خانے جانا ہو تو پہلے استاد سے اجازت لیں، ایک مخصوص نشست پر بیٹھیں۔ ہر چیز دوسروں کے احکامات کے تحت وقوع پذیر ہوتی ہے۔ آپ کو سکول میں یہی پڑھایا اور سکھایا جاتا ہے کہ اپنے متعلق کچھ نہ سوچیں۔ آپ کو ہدایات دی جاتی ہیں کہ کاغذ پر کچھ نہ لکھیں اور مخصوص طریقوں سے سبق پڑھیں اور یاد کریں۔

یہ بھی پڑھیں: پنجاب کے شہریوں کے لیے بڑی خوشخبری، سرکاری نمبر پلیٹ کی شرط ختم کر دی گئی

تعلیمی نصاب کا مقصد

اگر آپ کو سکول کے قیام کا مقصد پڑھنے کا موقع ملے، تو آپ کو ذیل میں درج الفاظ تحریر کی شکل میں ملیں گے:
"ہم…… سکول، ہر طالب علم کی بھرپور اور مکمل تعلیمی نشوونما پر یقین رکھتے ہیں۔ ہمارا تعلیمی نصاب اس طرح ترتیب دیا گیا ہے کہ ہمارے سکول میں ہر ایک طالب علم کی انفرادی ضروریات کی تکمیل ہو سکے۔"

یہ بھی پڑھیں: صدر مملکت نے پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس 2 مارچ کی دوپہر 3 بجے طلب کر لیا

اساتذہ کا رویہ

کتنے سکول اور اساتذہ ایسے ہیں جو ان الفاظ کو عملی جامہ پہنانے کی کوشش کرتے ہیں؟ جو بھی طالب علم اپنی صلاحیتوں کو استعمال کرنے کی کوشش کرتا ہے، اسے اس کی اوقات یاد دلا دی جاتی ہے۔
مشکل طلبہ وہ ہوتے ہیں جو اپنے وجود اور ذات سے محبت کرتے ہیں۔ جو بچے اپنی مرضی سے سوچتے ہیں، ان کے ساتھ سکول میں برا رویہ اختیار کیا جاتا ہے۔ اکثر سکولوں میں طلبہ کی کامیابی اساتذہ کی خوشامد پر منحصر ہوتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: لاہور میں محدود سطح پر بسنت منانے کی اجازت دینے کی تجویز

نتیجہ

اگر آپ اساتذہ کی نظروں میں تعریف کے قابل ثابت ہونا چاہتے ہیں تو ان کے احکامات کے مطابق رویہ اختیار کریں۔ پھر اکثر سکولوں میں خوداعتمادی کی حوصلہ شکنی کی جاتی ہے، جس سے دوسروں کی خوشنودی حاصل کرنے کا احساس پیدا ہوتا ہے۔
(جاری ہے)

نوٹ

یہ کتاب "بک ہوم" نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں) ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

Related Articles

Back to top button
Doctors Team
Last active less than 5 minutes ago
Vasily
Vasily
Eugene
Eugene
Julia
Julia
Send us a message. We will reply as soon as we can!
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Mehwish Sabir Pakistani Doctor
Ali Hamza Pakistani Doctor
Maryam Pakistani Doctor
Doctors Team
Online
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Dr. Mehwish Hiyat
Online
Today
08:45

اپنا پورا سوال انٹر کر کے سبمٹ کریں۔ دستیاب ڈاکٹر آپ کو 1-2 منٹ میں جواب دے گا۔

Bot

We use provided personal data for support purposes only

chat with a doctor
Type a message here...