یہی پڑھایا اور سکھایا جاتا ہے کہ اپنے متعلق کچھ نہ سوچیں، چاپلوسی ہی کامیابی کا زینہ ہے، سرزنش سنیں اور مہینوں احساس جرم میں مبتلا رہیں
مصنف کی معلومات
مصنف: ڈاکٹر وائن ڈبلیو ڈائر
ترجمہ: ریاض محمود انجم
قسط: 47
یہ بھی پڑھیں: ٹرمپ نے سعودی عرب کو ساڑھے تین ارب ڈالر کا امریکی اسلحہ فروخت کرنے کی منظوری دیدی
سکول میں خوشنودی کا حصول
جب آپ نے اپنے گھر سے باہر قدم رکھا اور سکول کے پھاٹک کے اندر داخل ہوئے تو آپ ایک ادارے میں داخل ہو گئے۔ یہ ادارہ اس لیے قائم کیا گیا ہے کہ دوسروں کی خوشنودی اور رضامندی پر مبنی رویہ اور طرزعمل آپ کے روزمرہ معمولات زندگی میں داخل کر دیا جائے۔ یہ ایک ایسا ادارہ ہے جہاں ہر معمولی کام انجام دینے سے پہلے اجازت لینا پڑتی ہے۔ اس میں آپ کی مرضی اور خواہش کا کوئی عمل دخل نہیں ہوتا۔
یہ بھی پڑھیں: الیکشن کمیشن مخصوص نشستوں پر فی الفور نوٹیفکیشن جاری کرے: بیرسٹر سیف
سکول میں روزمرہ کی روایات
غسل خانے جانا ہو تو پہلے استاد سے اجازت لیں، ایک مخصوص نشست پر بیٹھیں۔ ہر چیز دوسروں کے احکامات کے تحت وقوع پذیر ہوتی ہے۔ آپ کو سکول میں یہی پڑھایا اور سکھایا جاتا ہے کہ اپنے متعلق کچھ نہ سوچیں۔ آپ کو ہدایات دی جاتی ہیں کہ کاغذ پر کچھ نہ لکھیں اور مخصوص طریقوں سے سبق پڑھیں اور یاد کریں۔
یہ بھی پڑھیں: خیبر پختونخوا اسمبلی، ہزارہ صوبے کے قیام کے لیے درکار آئینی عمل فوری شروع کرنے سے متعلق مشترکہ قرارداد منظور
تعلیمی نصاب کا مقصد
اگر آپ کو سکول کے قیام کا مقصد پڑھنے کا موقع ملے، تو آپ کو ذیل میں درج الفاظ تحریر کی شکل میں ملیں گے:
"ہم…… سکول، ہر طالب علم کی بھرپور اور مکمل تعلیمی نشوونما پر یقین رکھتے ہیں۔ ہمارا تعلیمی نصاب اس طرح ترتیب دیا گیا ہے کہ ہمارے سکول میں ہر ایک طالب علم کی انفرادی ضروریات کی تکمیل ہو سکے۔"
یہ بھی پڑھیں: پاکستانیوں کی اوسط آمدنی 97 فیصد اضافے سے 82 ہزار روپے ماہانہ ہوگئی، حکومتی سروے
اساتذہ کا رویہ
کتنے سکول اور اساتذہ ایسے ہیں جو ان الفاظ کو عملی جامہ پہنانے کی کوشش کرتے ہیں؟ جو بھی طالب علم اپنی صلاحیتوں کو استعمال کرنے کی کوشش کرتا ہے، اسے اس کی اوقات یاد دلا دی جاتی ہے۔
مشکل طلبہ وہ ہوتے ہیں جو اپنے وجود اور ذات سے محبت کرتے ہیں۔ جو بچے اپنی مرضی سے سوچتے ہیں، ان کے ساتھ سکول میں برا رویہ اختیار کیا جاتا ہے۔ اکثر سکولوں میں طلبہ کی کامیابی اساتذہ کی خوشامد پر منحصر ہوتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: نااہلی کے بعد احمد خان بچھر پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر کے عہدے سے فارغ
نتیجہ
اگر آپ اساتذہ کی نظروں میں تعریف کے قابل ثابت ہونا چاہتے ہیں تو ان کے احکامات کے مطابق رویہ اختیار کریں۔ پھر اکثر سکولوں میں خوداعتمادی کی حوصلہ شکنی کی جاتی ہے، جس سے دوسروں کی خوشنودی حاصل کرنے کا احساس پیدا ہوتا ہے۔
(جاری ہے)
نوٹ
یہ کتاب "بک ہوم" نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں) ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔








