کیسز میں پرسنل نہ ہوا کریں، چھوڑ دیں قاضی صاحب کی جان، جسٹس مسرت ہلالی کا وکیل درخواستگزار سے مکالمہ، قاضی فائز عیسیٰ کیخلاف دائر نظرثانی درخواست خارج

سپریم کورٹ کا فیصلہ
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) سپریم کورٹ کے آئینی بینچ نے سابق چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف دائر نظرثانی درخواست خارج کردی۔ جسٹس مسرت ہلالی نے درخواست گزار سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ کیسز میں پرسنل نہ ہوا کریں، چھوڑ دیں قاضی صاحب کی جان۔
یہ بھی پڑھیں: پی ٹی آئی کا احتجاج ناکام بنانے کیلئے اسلام آباد میں کتنے ہزار اہلکار تعینات کر دیئے گئے؟ ناقابل یقین اعداد و شمار
سماعت کی تفصیلات
سپریم کورٹ میں سابق چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی بطور چیف جسٹس بلوچستان ہائیکورٹ تعیناتی نظرثانی درخواست پر سماعت ہوئی۔ جسٹس امین الدین کی سربراہی میں 6 رکنی آئینی بینچ نے آئینی کیس کی سماعت کی۔ عدالت عظمیٰ کے آئینی بینچ نے قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف دائر نظرثانی درخواست خارج کردی۔
یہ بھی پڑھیں: خیبرپختونخوا حکومت گورنر کے ساتھ ملکر پارا چنار کے مسئلے پر بیٹھے:اعظم تارڑ کا مشورہ
دلائل کا تبادلہ
دوران سماعت جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ یہ نظرثانی درخواست ہے، کیس کو دوبارہ نہیں کھول سکتے، جس پر درخواست گزار کے وکیل ریاض حنیف نے کہا کہ سپریم کورٹ نے بھٹو کیس بھی 40 سال بعد سنا۔
جسٹس مسرت ہلالی نے کہا کہ یہ فورم سیاسی تقاریر اور نہ بیک بائٹنگ کا ہے، قانون سے نہیں ہٹ سکتے۔ جسٹس محمدعلی مظہر نے کہا کہ آپ غصے میں کیوں آرہے ہیں؟ عدالت کی بات سنیں۔
جسٹس امین الدین نے استفسار کیا کہ عدالت آپ سے سوالات پوچھ رہی ہے لیکن آپ جواب کیوں نہیں دے رہے؟
جسٹس جمال مندوخیل نے پوچھا کہ کیا آپ کیس دوبارہ کھولنا چاہتے ہیں؟ جس پر درخواست گزار وکیل ریاض حنیف نے جواب دیا کہ میں عدالت کو حقائق بیان کر رہا ہوں، میرے پاس ریکارڈ نہیں لیکن بلوچستان سے ریکارڈ منگوایا جا سکتا ہے۔
عدالت کے آخری ریمارکس
جسٹس امین الدین نے کہا کہ قانون بتائیں کہ وزیراعلیٰ کے ساتھ مشاورت کیسے ضروری ہے؟ جسٹس مسرت ہلالی نے کہا کہ کیسز میں پرسنل نہ ہوا کریں، چھوڑ دیں قاضی صاحب کی جان۔
جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ ایسی درخواست پر بینچ کے سربراہ سے درخواست کروں گا کہ معاملہ پاکستان بار کونسل کو بھیجیں۔ آئینی بینچ نے درخواست گزار وکیل ریاض حنیف کی نظرثانی درخواست خارج کردی۔
جسٹس مسرت ہلالی نے کہا کہ مقدمات میں ذاتیات پر نہیں آتے، یہ مقدمہ قانونی کم اور سیاسی زیادہ لگ رہا ہے، پیٹھ پیچھے کسی کی برائی کرنے کا کوئی فائدہ نہیں۔