سپریم کورٹ نے آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کیخلاف درخواست خارج کردی
سپریم کورٹ کا فیصلہ
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) سپریم کورٹ کے آئینی بینچ نے آرمی چیف جنرل عاصم منیر کی مدت ملازمت میں توسیع کے خلاف درخواست خارج کردی۔
یہ بھی پڑھیں: آپ کا آج (پیر) کا دن ستاروں کی روشنی میں کیسا رہے گا؟
آئینی بینچ کی تشکیل
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق، جسٹس امین الدین کی سربراہی میں 7 رکنی آئینی بینچ نے آرمی چیف جنرل عاصم منیر کی مدت ملازمت میں توسیع سے متعلق درخواست پر سماعت کی۔
یہ بھی پڑھیں: دہشتگردوں سے کوئی ہمدردی نہیں ہو سکتی، خیبرپختونخوا میں سی ٹی ڈی کیوں نہیں بنائی گئی؟ وزیر مملکت طلال چوہدری قومی اسمبلی میں کھل کر بول پڑے
درخواست کا فیصلہ
عدالت عظمیٰ نے کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے درخواست کو خارج کردیا۔ آئینی بینچ نے عدم پیروی پر درخواست کو خارج کیا جبکہ رجسٹرار آفس کی جانب سے درخواست پر ناقابلِ سماعت کے اعتراضات برقرار رہے۔
یہ بھی پڑھیں: ثنا یوسف کے قتل کے بعد ٹک ٹاکرز کے لیے نئی ایڈوائزری جاری کردی گئی۔
مکمل مقدمات کی سماعت
گزشتہ ہفتے سپریم کورٹ کے آئینی بینچ نے آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع اور آڈیو لیکس کمیشن کی تشکیل سمیت مجموعی طور پر 2 ہزار سے زائد مقدمات رواں ہفتے سماعت کیلئے مقرر کئے تھے۔
یہ بھی پڑھیں: سپریم کورٹ نے طلاق یافتہ بیٹی کو والد کی پینشن شادی کی حیثیت سے نہیں بلکہ حق کی بنیاد پر دینے کا فیصلہ جاری کردیا
درخواست گزار کی معلومات
واضح رہے کہ پاک فوج کے سربراہ جنرل عاصم منیر کی مدت ملازمت میں توسیع کے خلاف درخواست محمود اختر نقوی نے دائر کی تھی۔
یہ بھی پڑھیں: لاہور میں بسنت کی حتمی تیاریاں جاری، لاہور میں 40 علاقوں کو ریڈ زون قرار دیدیا گیا
آئینی بینچ کے اراکین
جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں آئینی بینچ جسٹس جمال خان مندو خیل، جسٹس محمد علی مظہر، جسٹس عائشہ ملک، جسٹس حسن اظہر رضوی، جسٹس مسرت ہلالی اور جسٹس نعیم اختر افغان پر مشتمل ہے۔
نئی ترمیمی بل
یاد رہے کہ رواں ماہ کے شروع میں تینوں مس Armed Forces کے سربراہان کی مدت ملازمت 3 سے بڑھا کر 5 سال کے حوالے سے ترمیمی بل منظور کیا گیا تھا۔ بعد ازاں قومی اسمبلی و سینیٹ سے آرمی چیف، ایئرچیف اور نیول چیف کی مدت ملازمت 3 سے 5 کرنے کے حوالے سے منظور ہونے والے بل پر قائم مقام صدر سید یوسف رضا گیلانی نے دستخط کردیے تھے۔








