سپریم کورٹ نے آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کیخلاف درخواست خارج کردی
سپریم کورٹ کا فیصلہ
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) سپریم کورٹ کے آئینی بینچ نے آرمی چیف جنرل عاصم منیر کی مدت ملازمت میں توسیع کے خلاف درخواست خارج کردی۔
یہ بھی پڑھیں: خانیوال کچہری بازار کے کھلے سیوریج نالے میں 3 بچے گر گئے، وزیراعلیٰ مریم نواز کا نوٹس
آئینی بینچ کی تشکیل
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق، جسٹس امین الدین کی سربراہی میں 7 رکنی آئینی بینچ نے آرمی چیف جنرل عاصم منیر کی مدت ملازمت میں توسیع سے متعلق درخواست پر سماعت کی۔
یہ بھی پڑھیں: امریکی صدارتی الیکشن: بل گیٹس کا کملا ہیرس کی مہم کیلئے 50 ملین ڈالر کا عطیہ
درخواست کا فیصلہ
عدالت عظمیٰ نے کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے درخواست کو خارج کردیا۔ آئینی بینچ نے عدم پیروی پر درخواست کو خارج کیا جبکہ رجسٹرار آفس کی جانب سے درخواست پر ناقابلِ سماعت کے اعتراضات برقرار رہے۔
یہ بھی پڑھیں: سابق سینیٹر مشتاق احمد خان نے نئی سیاسی جماعت بنا لی
مکمل مقدمات کی سماعت
گزشتہ ہفتے سپریم کورٹ کے آئینی بینچ نے آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع اور آڈیو لیکس کمیشن کی تشکیل سمیت مجموعی طور پر 2 ہزار سے زائد مقدمات رواں ہفتے سماعت کیلئے مقرر کئے تھے۔
یہ بھی پڑھیں: کراچی کے گیمر نے Temu کی بدولت اپنے گیمنگ سیٹ اپ کو نئی بلندی پر پہنچا دیا
درخواست گزار کی معلومات
واضح رہے کہ پاک فوج کے سربراہ جنرل عاصم منیر کی مدت ملازمت میں توسیع کے خلاف درخواست محمود اختر نقوی نے دائر کی تھی۔
یہ بھی پڑھیں: عمران خان اور بشریٰ بی بی کے حوالے سے آرٹیکل لکھنے والی تسکین بشریٰ کا ایکس اکاؤنٹ بند ہوگیا
آئینی بینچ کے اراکین
جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں آئینی بینچ جسٹس جمال خان مندو خیل، جسٹس محمد علی مظہر، جسٹس عائشہ ملک، جسٹس حسن اظہر رضوی، جسٹس مسرت ہلالی اور جسٹس نعیم اختر افغان پر مشتمل ہے۔
نئی ترمیمی بل
یاد رہے کہ رواں ماہ کے شروع میں تینوں مس Armed Forces کے سربراہان کی مدت ملازمت 3 سے بڑھا کر 5 سال کے حوالے سے ترمیمی بل منظور کیا گیا تھا۔ بعد ازاں قومی اسمبلی و سینیٹ سے آرمی چیف، ایئرچیف اور نیول چیف کی مدت ملازمت 3 سے 5 کرنے کے حوالے سے منظور ہونے والے بل پر قائم مقام صدر سید یوسف رضا گیلانی نے دستخط کردیے تھے۔








