جسٹس نسیم حسن شاہ نے اسمبلیاں بحال کر دیں لیکن وزیراعظم اسٹیبلشمنٹ کیساتھ چل نہیں سکے،معاہدہ کے تحت صدر اور وزیراعظم مستعفی ہو گئے
مصنف کی معلومات
مصنف: جسٹس (ر) بشیر اے مجاہد
قسط: 90
یہ بھی پڑھیں: بھارتی سرکاری افسران بھی بی جے پی غنڈوں کے ہاتھوں غیر محفوظ
جنرل ضیاء الحق کی حکومت کا پس منظر
جنرل ضیاء الحق کی حکومت کو متعدد آئینی درخواستوں میں چیلنج کیا گیا۔ سپریم کورٹ آف پاکستان نے ایک دفعہ پھر جسٹس منیر کے استدلال کی آڑ لے کر اسے جائز قرار دے دیا اور مارشل لاء انتظامیہ کو حسب ضرورت آئین میں ترامیم کرنے کا اختیار بھی دے دیا۔
یہ بھی پڑھیں: جنگ کی صورت میں مسلح افواج کو ایندھن فراہمی کے لئے پاکستانی ریفائنریوں نے تیاری کر لی
آئینی ترامیم اور ان کے اثرات
جنرل ضیاء الحق اور ان کے ساتھیوں نے اس تفویض کئے گئے حق کو خوب استعمال کیا اور آئین میں متعدد ترامیم کیں۔ سپریم کورٹ اور ہائی کورٹس کے ججوں کو نکالنے کے لئے بھی ترامیم کی گئیں کیونکہ یہ جج مارشل لاء انتظامیہ کے لئے قابل قبول نہیں تھے۔
یہ بھی پڑھیں: پی ٹی آئی قیادت کو بات چیت سے قبل بہنوں کی غلامی سے نکلنا ہوگا: طلال چودھری
ریفرنڈم اور صدر بنتے ہوئے جنرل ضیاء الحق
جنرل ضیاء الحق نے ملک بھر میں ایک ریفرنڈم کرایا جس کے نتیجہ میں وہ ملک کے صدر منتخب ہو گئے۔ اس سے قبل انہوں نے نامزد ارکان اسمبلی پر مشتمل ایک مجلس شوریٰ بھی بنائی تھی جو کہ چاروں صوبوں میں بھی کام کرتی رہی۔
یہ بھی پڑھیں: چمن اور گردونواح میں زلزلے کے جھٹکے، شدت 3.3 ریکارڈ
غیر جماعتی انتخابات اور اسمبلی کی تشکیل
صدر مملکت منتخب ہونے کے بعد جنرل ضیاء الحق نے ملک میں غیر جماعتی بنیادوں پر الیکشن کرانے کا پروگرام دیا۔ اس کے نتیجہ میں بننے والی اسمبلی نے محمد خان جونیجو کو وزیراعظم بنا دیا۔ تاہم، وہ اس حکومت سے بھی مطمئن نہ ہوئے اور 29 مئی 1988ء کو اسمبلیوں سمیت اسے برخاست کر دیا۔
یہ بھی پڑھیں: انڈین آرمی چیف کا یہ بیان کہ ہم نے آپریشن سندور کے دوران ایک ٹریلر دکھایا خود فریبی کی حامل سوچ کا عکاس ہے: ڈی جی آئی ایس پی آر
جنرل ضیاء الحق کا حادثہ
جنرل ضیاء الحق 17 اگست 1988ء کو ایک فضائی حادثہ میں جاں بحق ہو گئے۔ ان کے انتقال کے بعد سینٹ آف پاکستان کے چیئرمین غلام اسحاق خان ملک کے صدر بن گئے، جبکہ ڈپٹی چیف آف آرمی سٹاف جنرل اسلم بیگ چیف آف دی آرمی سٹاف بن گئے۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعلیٰ مریم نواز کی پنجاب بار کونسل کے انتخابات میں فاتح انڈیپینڈنٹ گروپ کو مبارکباد
جماعتی انتخابات اور بے نظیر بھٹو کی حکومت
جنرل ضیاء الحق کے انتقال کے بعد عدالت نے ملک میں جماعتی بنیادوں پر عام انتخابات کا حکم جاری کر دیا۔ 1988ء میں عام انتخابات ہوئے جس میں پاکستان پیپلز پارٹی نے سادہ اکثریت حاصل کی اور بے نظیر بھٹو کی حکومت قائم ہوئی۔
یہ بھی پڑھیں: مشرق وسطیٰ میں جنگ، پاکستان سے مسلسل چھٹے روز 145 پروازیں منسوخ
صدر غلام اسحاق خان کی کارروائیاں
6 اگست 1990ء کو صدر غلام اسحاق خان نے آئین کی دفعہ 58 ٹو بی کا استعمال کرتے ہوئے بے نظیر بھٹو کی حکومت کو بدعنوانی کے الزامات کے تحت برطرف کر دیا۔ نئے انتخابات میں میاں نواز شریف بھاری اکثریت سے کامیاب ہوئے۔
یہ بھی پڑھیں: حکومت کی یو اے ای سے 3 ارب ڈالر قرض رول اوور کرنے کی درخواست
میاں نواز شریف کی حکومت کا خاتمہ
میاں نواز شریف بھاری اکثریت کے باوجود صدر غلام اسحاق خان کو خوش نہ رکھ سکے، اور انہوں نے دوبارہ 18 اپریل 1993ء کو میاں نواز شریف کی حکومت کو برطرف کر دیا۔ تاہم، سپریم کورٹ نے مداخلت کرتے ہوئے اس فیصلے کو غیر آئینی قرار دیا۔
یہ بھی پڑھیں: ایمل ولی خان نے خیبر پختون خوا میں حکومت کی تبدیلی کی مخالفت کر دی
نتیجہ اور معاہدہ
میاں نواز شریف کی بحالی کے بعد وہ اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ چل نہ سکے، اور ایک معاہدے کے تحت صدر غلام اسحاق خان اور وزیراعظم دونوں مستعفی ہو گئے۔
نوٹ
یہ کتاب ”بک ہوم“ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں)۔ ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔








