حمزہ شہباز کو وزیراعلیٰ کے عہدے سے ہٹانے کے معاملے پر نظرثانی پر پرویز الٰہی کو نوٹس جاری

سپریم کورٹ کا فیصلہ
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) سپریم کورٹ کے آئینی بنچ نے حمزہ شہباز کو وزیراعلیٰ کے عہدے سے ہٹانے کے معاملے پر نظرثانی پر پرویز الٰہی و دیگر کو نوٹس جاری کر دیئے۔ اٹارنی جنرل نے کہاکہ میں اس کیس میں پیش نہیں ہو سکتا۔ کیس میں حمزہ شہباز کا وکیل میں تھا، میری جگہ پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل عدالت کی معاونت کریں گے۔
یہ بھی پڑھیں: شامی باغیوں کی دمشق کی طرف پیش قدمی: بشار الاسد کی قسمت غیر ملکی اتحادیوں کے ہاتھ میں
سماعت کی تفصیلات
نجی ٹی وی چینل جیو نیوز کے مطابق، حمزہ شہباز کو وزیراعلیٰ کے عہدے سے ہٹانے کے معاملے پر نظرثانی پر سماعت ہوئی، جس میں جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں آئینی بنچ نے سماعت کی۔ جسٹس جمال مندوخیل نے استفسار کیا کہ ووٹ کیلئے ارکان کو ہدایات کون دے گا؟ پارلیمانی لیڈر یا پارٹی ہیڈ؟
یہ بھی پڑھیں: 25 سالہ انڈین پائلٹ کی خودکشی کی تحریک دینے والے بوائے فرینڈ کی گرفتاری: ‘وہ توہین آمیز سلوک کرتا اور مجھے گوشت کھانے سے منع کرتا تھا’
عدالت کے سوالات اور جوابات
جسٹس محمد علی نے کہا کہ 63اے کے فیصلے پر انحصار کرکے 3 رکنی بنچ نے حمزہ شہباز کو ڈالے گئے 10 ووٹ نکالنے کا فیصلہ دیا۔ جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ آرٹیکل 63اے میں ووٹ کی ہدایات کیلئے پارلیمانی ہیڈ کا نام دیا گیا ہے۔ وکیل حمزہ شہباز نے کہا کہ 17 ججز کا فیصلہ تین ججز تبدیل نہیں کر سکتے۔
یہ بھی پڑھیں: امریکی شہری کو یوکرین کی جنگ میں شامل ہونے پر سزا سنائی گئی
اٹارنی جنرل کا موقف
جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ 63اے کا فیصلہ نظرثانی میں ختم ہو گیا ہے، جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ یہ بڑا اہم معاملہ ہے۔ جسٹس امین الدین نے کہا کہ عدالت اٹارنی جنرل کو بھی نوٹس جاری کر رہی ہے۔ اٹارنی جنرل نے کہاکہ میں اس کیس میں پیش نہیں ہو سکتا، کیس میں حمزہ شہباز کا وکیل میں تھا، میری جگہ پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل عدالت کی معاونت کریں گے۔
نتیجہ
سپریم کورٹ نے حمزہ شہباز نظرثانی پر پرویز الٰہی کو نوٹس کردیا، آئینی بنچ نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل و دیگر فریقین کو بھی نوٹس کردیا۔