بھکاری بھیجنے میں تو اب ہم انٹرنیشنل ہو چکے ہیں، کتنی شرم کی بات ہے،جسٹس امین الدین
اسلام آباد میں لاپتہ بچوں کا معاملہ
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) ملک بھر سے لاپتہ بچوں کے حوالے سے دائر درخواست پر آئینی بنچ کے سربراہ جسٹس امین الدین نے ریمارکس دیے کہ بھکاری بھیجنے میں تو اب ہم انٹرنیشنل ہو چکے ہیں، بیرون ملک بھکاریوں کا جانا کتنی شرم کی بات ہے۔
یہ بھی پڑھیں: وفاقی آئینی عدالت کی ویب سائٹ کا اجرا کیا گیا
سماعت کی تفصیلات
نجی ٹی وی چینل جیو نیوز کے مطابق، آئینی بنچ میں ملک بھر سے لاپتہ بچوں کے حوالے سے دائر درخواست پر سماعت ہوئی۔ جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں 6 رکنی لارجر بنچ نے سماعت کی۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان اور ترکیہ کا تعاون جاری رکھنے کا عزم، جو کچھ وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے اسے ہمارا مشترکہ اعلامیہ سمجھا جائے: ترک وزیر خارجہ
قانونی ماہرین کے خدشات
جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ کوئٹہ میں 6 دن سے اغوا بچہ نہیں مل رہا، احتجاج سے پورا شہر جام ہو چکا ہے لیکن حکومت کو پرواہ نہیں۔ کوئٹہ میں سکول کے بچوں نے بھی جلوس نکالا ہے۔ جسٹس محمد علی مظہر نے سوال کیا کہ کیا کسی صوبے میں کوئی ادارہ یا کمیشن ہے جو مغوی بچوں پر کام کر رہا ہو؟
یہ بھی پڑھیں: قومی اسمبلی کا اجلاس کل دوبارہ شروع ہوگا
حکومتی بے عملی
جسٹس جمال مندوخیل نے مزید کہا کہ ایک بچے کے اغوا پر پورا شہر بند ہو جاتا ہے، حکومت کو فکر نہیں۔ حکومت بلوچستان ایک بچہ بازیاب نہیں کر پا رہی۔ جسٹس مسرت ہلالی نے واضح کیا کہ بچوں کا اغوا ایک اہم مسئلہ ہے، جس پر سرکاری وکلا کی تیاری نہیں۔
یہ بھی پڑھیں: اب میں انچار ہوں، اچھے دوست بھارت کو 25 فیصد تک ٹیرف کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، ڈونلڈ ٹرمپ
پرانی تاریخ اور موجودہ صورتحال
جسٹس جمال نے کہا کہ کیس 2018 سے چل رہا ہے لیکن بچے اب بھی اغوا ہو رہے ہیں۔ ہر دوسرا کیس بچوں کے اغوا کا آتا ہے۔ سپریم کورٹ نے بچوں کے اغوا پر کمیٹی بنائی جو کہ آج تک کام نہیں کر سکی۔
یہ بھی پڑھیں: لوڈشیڈنگ کا عذاب؛ کے الیکٹرک کیخلاف جماعت اسلامی کی درخواست بحال
عدالت کا سخت موقف
درخواست گزار نے کہا کہ سپریم کورٹ کی کمیٹی آج تک بنی ہی نہیں۔ ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل نے عدالت میں بچوں کے اغوا پر رپورٹ جمع کرانے کی پیشکش کی۔ جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ ہمیں رپورٹ نہیں چاہیے، بچوں کے اغوا کا تدارک چاہئے۔
یہ بھی پڑھیں: میری سیاست اس روز ختم ہو گئی تھی جب بھٹو صاحب کو پھانسی دی گئی اور جو تھوڑا بہت سیاست کا کیڑا بچا تھا وہ بی بی کی شہادت نے ختم کر دیا تھا
تفتیش کی ضرورت
جسٹس جمال نے پوچھا کہ ملک میں ہو کیا رہا ہے؟ بنچ سربراہ نے کہا کہ تمام آئی جیز کو طلب کیا جائے۔ جسٹس مسرت ہلالی نے کہا کہ خیبرپختونخوا کی رپورٹ میں ہر چیز پر دھول جھونکی گئی ہے۔
بھیک مانگنے کا مسئلہ
جسٹس حسن اظہر نے کہا کہ کراچی میں بچے ٹریفک سگنلز پر بھیک مانگتے ہیں۔ جسٹس امین الدین نے مزید کہا کہ بھکاری بھیجنے میں ہم اب بین الاقوامی سطح پر پہنچ چکے ہیں، بیرون ملک بھکاریوں کا جانا کتنی شرم کی بات ہے۔








