حکومت نے الیکٹرک وہیکلز پالیسی بنالی، زبردست پیشکش کر دی

حکومت کی نئی الیکٹرک وہیکلز پالیسی
اسلام آباد (ویب ڈیسک) حکومت نے آئندہ پانچ سال کیلئے الیکٹرک وہیکلز پالیسی 2025-30 جاری کر دی ہے۔ نئی پالیسی کے تحت سرمایہ کاری پر پرکشش مراعات دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: گردوں کی غیرقانونی پیوند کاری کا کیس؛ڈاکٹر، نرس اور ہیلپر کو جرم ثابت ہونے پر سزائیں
ہدف اور سرمایہ کاری
نجی ٹی وی جیونیوز کے مطابق پاکستان میں 2030 تک 30 فیصد الیکٹرک گاڑیاں چلانے کا ہدف ہے، جبکہ سال 2040 تک الیکٹرک گاڑیوں کا مجموعی ہدف 90 فیصد مقرر کر دیا گیا ہے۔ ابتدائی پانچ برس میں 3 ارب روپے کی سرمایہ کاری پر مراعات دی جائیں گی۔
یہ بھی پڑھیں: عارف علوی کی بطور صدر مملکت تقرری کیخلاف درخواست، آئینی بینچ نے درخواستگزار کو نوٹس جاری کردیا
سرمایہ کاری کی بہترین شرائط
سرمایہ کاری کرنے والی کمپنیوں کو 50 سال رعایتی لیز پر اراضی دی جائے گی، اور مخصوص پارٹس درآمد کرنے پر ایک فیصد کسٹمز ڈیوٹی عائد کی جائے گی۔ ملک میں الیکٹرک گاڑیوں سے 2064 تک درآمدی بل میں 64 ارب ڈالر کی کمی آئے گی۔
یہ بھی پڑھیں: قومی وائٹ بال کوچ گیری کرسٹن پی سی بی کو بلیک میل کرنے لگ گئے؟
وزیر صنعت و پیداوار کا بیان
وفاقی وزیر صنعت و پیداوار رانا تنویر حسین نے کہا کہ غیر مقامی پارٹس پر 15 فیصد کسٹمز ڈیوٹی عائد کرنے کی تجویز ہے۔ نئی پانچ سالہ الیکٹرک وہیکلز (ای وی) پالیسی 2025-30 کا مسودہ تمام شراکت داروں کی مشاورت سے تیار کر لیا گیا ہے۔
الیکٹرک وہیکلز کے متعارف ہونے کی تفصیلات
رانا تنویر حسین کا کہنا ہے کہ وزیراعظم محمد شہباز شریف نے الیکٹرک وہیکلز متعارف کروانے کے لیے اعلی سطحی اسٹیئرنگ کمیٹی تشکیل دی تاکہ الیکٹرک وہیکل پالیسی حتمی کی جا سکے۔ کوشش ہے کہ کمپنیوں کو زیادہ مراعات دیں تاکہ الیکٹرک وہیکلز کی پیداوار بڑھے۔ آئندہ سال سے ملک میں فور ویل الیکٹرک وہیکلز بننا شروع ہوں گی۔