بانی پی ٹی آئی کی درخواستوں پروکیل الیکشن کمیشن نے عدالتی دائرہ اختیار کا اعتراض عائد کردیا

الیکشن کمیشن کا دائرہ اختیار کا اعتراض
لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن) بانی پی ٹی آئی کی توشہ خانہ میں نااہلی اور پارٹی چیئرمین شپ سے ہٹانے کیخلاف درخواستوں پر الیکشن کمیشن کے وکیل نے عدالتی دائرہ اختیار کا اعتراض عائد کردیا۔ وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ میں یہ کیس پہلے ہی سماعت کے لیے مقرر ہے، لاہور ہائیکورٹ اس کیس پر دائرہ اختیار نہیں رکھتی۔
یہ بھی پڑھیں: انگلینڈ کیخلاف پاکستان کی فتح میں علیم ڈار نے اہم کردار ادا کیا، کیا مشورے دیے؟
سماعت کی تفصیلات
نجی ٹی وی چینل جیو نیوز کے مطابق لاہور ہائیکورٹ میں بانی پی ٹی آئی کی توشہ خانہ میں نااہلی اور پارٹی چیئرمین شپ سے ہٹانے کیخلاف درخواستوں پر سماعت ہوئی، جسٹس شمس محمود مرزا کی سربراہی میں 5 رکنی لارجر بنچ نے سماعت کی۔ الیکشن کمیشن کے وکیل نے عدالتی دائرہ اختیار کا اعتراض عائد کردیا، وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ میں یہ کیس پہلے ہی سماعت کے لیے مقرر ہے، لاہور ہائیکورٹ اس کیس پر دائرہ اختیار نہیں رکھتی۔
یہ بھی پڑھیں: نشے میں دھت شخص پٹاخوں کے ڈبے پر بیٹھنے کی شرط میں جان گنوابیٹھا
عدالتی ریمارکس
جسٹس شاہد کریم نے کہا کہ آپ اہم کیس میں دلائل دے رہے ہیں، مکمل آرگنائزڈ ہونا چاہئے تھا، آپ کو تمام عدالتی فیصلوں کی کاپی بنا کر تمام ججز کو دینی چاہئے تھی۔ جسٹس شمس محمود مرزا نے پوچھا کہ آپ کی اسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست کا کیا بنا؟ بیرسٹر علی ظفر نے بتایا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست واپسی کی استدعا کی، تاہم درخواست مسترد کردی گئی۔
درخواست گزار کی مرضی
جسٹس شاہد کریم نے کہا کہ اگر درخواست گزار نہیں چاہتا کہ اس کا کیس سنا جائے تو عدالت کیوں سننے پر مصر ہے؟ درخواست گزار کی مرضی ہے کہ کیس اسلام آباد ہائیکورٹ سنے یا لاہور ہائیکورٹ۔ عدالت نے الیکشن کمیشن کے وکیل کو عدالتی دائرہ اختیار پر مزید دلائل دینے کی ہدایت کردی۔