زلزلہ متاثرین کیس؛ حکومت رقم دے دیتی تو لوگ اب تک خود گھر بنا چکے ہوتے، جسٹس جمال مندوخیل کے ریمارکس
سپریم کورٹ کی جانب سے زلزلہ متاثرین کی بحالی کی رپورٹس کا مطالبہ
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) اکتوبر 2005 زلزلہ متاثرین کیس میں سپریم کورٹ کے آئینی بینچ نے حکومتوں سے پراگرس رپورٹ طلب کر لی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان میں 2026 کا پہلا سورج بہتر مستقبل کی امیدوں اور دعاؤں کے ساتھ طلوع
جسٹس جمال مندوخیل کے ریمارکس
جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس میں کہا کہ زلزلے کے بعد گھروں کی تعمیر کیلئے جنگلات زمین کیوں الاٹ کی گئی۔ زلزلے سے جہاں گھر گر گئے وہیں دوبارہ تعمیر کر دیتے، حکومت تعمیرات کے چکر میں پڑنے کے بجائے متاثرین کو رقم دے دیتی۔ اگر متاثرین کو رقم ملتی تو وہ اب تک اپنے گھر خود بنا چکے ہوتے۔
یہ بھی پڑھیں: سیلاب متاثرہ علاقوں میں سڑکوں کی بحالی شروع
عدالتی بینچ کے سوالات
نجی ٹی وی چینل ایکسپریس نیوز کے مطابق جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں چھ رکنی بینچ نے سماعت کی۔ آئینی بینچ نے ریمارکس دیئے کہ بتایا جائے متاثرین آباد کاری اور منصوبوں کی تاخیر کا ذمہ دار کون ہے۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعظم شہباز شریف سے ڈاکٹر عافیہ کی ہمشیرہ فوزیہ صدیقی کی ملاقات
وقت کی اہمیت
جسٹس حسن رضوی نے کہا کہ 2005 کا زلزلہ آئے 19 سال ہو چکے ہیں، اتنے عرصہ بچے جوان اور جوان بوڑھے ہو چکے ہوں گے، حکام نے متاثرین کی بحالی کیلئے اب تک کیا کام کیا؟
یہ بھی پڑھیں: پی ایس ایل الیون کے ٹکٹوں کی فروخت کا آغاز ہو گیا
دوسرے ججز کے تبصرے
جسٹس مسرت ہلالی نے کہا کہ زلزلہ متاثرین کی تباہیوں میں نے خود اپنی آنکھوں سے دیکھی ہیں۔ نشست و گفت و گو سے زیادہ زلزلہ متاثرہ علاقوں میں کچھ نہیں ہوا۔
یہ بھی پڑھیں: آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی کا ممکنہ شیڈول سامنے آگیا
موثر حکومتی کارکردگی کی ضرورت
جسٹس نعیم اختر افغان نے ریمارکس دیئے کہ زلزلہ متاثرین کی بحالی وفاق اور صوبے کے تعاون سے ہونی تھی۔ محکموں کی بیڈ گورننس اور عدم تعاون سے متاثرین مشکلات جھیل رہے ہیں۔ بیڈ گورننس کی وجہ سے معاملات عدالتوں میں آتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان اور ازبکستان کے مابین 29 معاہدوں اور مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط
مالی فنڈز کی شفافیت
جسٹس امین الدین خان نے پوچھا کہ متاثرین کیلئے کتنے فنڈز آئے اور کہاں خرچ ہوئے۔ عدالتی سوالات پر جامع رپورٹ دی جائے۔
یہ بھی پڑھیں: دریائے راوی میں سیلابی صورتحال، میٹرو بس لاہور کے 2 مرکزی اسٹیشنز بند
جنگلات کی کٹائی کا معاملہ
بعدازاں، جنگلات کی کٹائی کیس کی سماعت کے دوران جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں چھ رکنی آئینی بینچ نے وفاقی صوبائی حکومتوں سے رپورٹ طلب کی۔
یہ بھی پڑھیں: شرارت کی نہیں قائد اعظم کی سیاست کریں گے ہم سیاسی لوگ ہیں مل بیٹھ کر مسائل کو حل کریں گے، گورنر سندھ نہال ہاشمی
جنگلات کی زمین کا تحفظ
آئینی بینچ نے پوچھا ہے کہ جنگلات کے کتنے رقبہ پر قبضہ کیا گیا اور کتنے واگزار کرائے گئے۔ جنگلات کی کٹائی روکنے کے اقدامات اور ذمہ داروں کے خلاف ایکشن کیا گیا؟
یہ بھی پڑھیں: وزیر اعلیٰ پنجاب سے ایشیائی ترقیاتی بینک کی کنٹری ڈائریکٹر برائے پاکستان ریزیڈنٹ مشن کی ڈاکٹر ایما ژاؤچن فین کی ملاقات
مارگلہ ہلز کے معاملے پر تشویش
جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ مارگلہ ہلز کے پیچھے فارم ہاؤس اور ہاؤسنگ سوسائیٹیز بن رہی ہیں۔ جنگلات کی کٹائی اور جنگلات رقبہ پر قبضہ کا بہت بڑا مافیا ہے۔ سرکاری حکام کی ملی بھگت سے تجاوزات اور کٹائی ہو رہی ہے۔
حکومتی پالیسی کی وضاحت
جسٹس امین الدین خان نے کہا کہ جنگلات کی زمین کسی دوسرے مقصد کیلئے الاٹ نہیں ہو سکتی۔








