پی ٹی آئی احتجاج پر پشاور ہائیکورٹ میں ہنگامہ، ججز اٹھ گئے

پشاور ہائیکورٹ میں سماعت

پشاور (ڈیلی پاکستان آن لائن) پشاور ہائیکورٹ میں پی ٹی آئی احتجاج کے خلاف کیس کی سماعت کے دوران ایڈووکیٹ جنرل اور وکلا کے درمیان لفظی تکرار ہوئی، جس کی وجہ سے ججز سماعت کو ادھورا چھوڑ کر چلے گئے۔

یہ بھی پڑھیں: بلوچستان میں حقوق کی جدوجہد نہیں بلکہ دہشتگردی ہو رہی ہے، خواجہ آصف

کیس کی تفصیلات

نجی ٹی وی چینل آج نیوز کے مطابق، پی ٹی آئی احتجاج کے خلاف کیس کی سماعت پشاور ہائیکورٹ کے جسٹس ارشد علی اور جسٹس وقار احمد نے کی۔ ججز نے ایڈووکیٹ جنرل سے استفسار کیا کہ الزام ہے کہ صوبائی حکومت سرکاری وسائل لے کر اسلام آباد جاتی ہے۔ کیا صوبائی حکومت نے ہدایات جاری کی ہیں کہ مشینری کا استعمال کیا جائے؟ اس پر ایڈووکیٹ جنرل نے جواب دیا کہ یہ غلط بیانی ہے، حکومت نے کوئی ہدایت نہیں دی اس لیے درخواست قابل سماعت نہیں، خارج کی جائے۔

یہ بھی پڑھیں: خلیل الرحمان قمر کے ہنی ٹریپ کیس ، عدالت نے آمنہ عروج سمیت 12ملزمان پر فرد جرم عائد کردی

ججز کے ریمارکس

جسٹس شکیل احمد نے ریمارکس دیے کہ ایسا احتجاج نہ ہو کہ سڑکیں بند ہوں اور لوگوں کو مشکلات کا سامنا ہو۔ ایڈووکیٹ جنرل نے بتایا کہ وفاقی حکومت نے 800 کنٹینرز لگا رکھے ہیں اور شہری حقوق سلب ہورہے ہیں۔ جس پر جسٹس ارشد علی نے ریمارکس دیے کہ عوام صوبائی اور مرکزی حکومت دونوں سے تنگ ہیں۔

عدالت میں ہنگامہ

ایڈووکیٹ جنرل نے عدالت کو بتایا کہ آئین مجھے جلسے کرنے کی اجازت دیتا ہے اور یہ کسی اور کے کہنے پر رٹ پٹیشن دائر کی گئی ہے۔ اسی دوران درخواست گزار کے وکلا اور ایڈووکیٹ جنرل آپس میں الجھ پڑے، جس پر پشاور ہائیکورٹ کے ججز احتجاجاً اٹھ کر چلے گئے اور سماعت کو ادھورا چھوڑ دیا۔

Related Articles

Back to top button
Doctors Team
Last active less than 5 minutes ago
Vasily
Vasily
Eugene
Eugene
Julia
Julia
Send us a message. We will reply as soon as we can!
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Mehwish Sabir Pakistani Doctor
Ali Hamza Pakistani Doctor
Maryam Pakistani Doctor
Doctors Team
Online
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Dr. Mehwish Hiyat
Online
Today
08:45

اپنا پورا سوال انٹر کر کے سبمٹ کریں۔ دستیاب ڈاکٹر آپ کو 1-2 منٹ میں جواب دے گا۔

Bot

We use provided personal data for support purposes only

chat with a doctor
Type a message here...