جب یہ سمجھیں کہ آپ دوسروں کی مرضی اور خواہش کے مطابق مؤقف اختیار کر رہے ہیں تو فوراً اس روئیے کی اصلاح کریں اور نیا و مختلف رویہ اپنائیں
مصنف کی تفصیلات
مصنف: ڈاکٹر وائن ڈبلیو ڈائر
ترجمہ: ریاض محمود انجم
قسط: 58
یہ بھی پڑھیں: خیبرپختونخوا میں موسلا دھار بارش، دریاؤں اور ندی نالوں میں سیلاب کا خدشہ، الرٹ جاری
اختلاف رائے اور احساسات
جب کوئی شخص آپ سے اختلاف رائے کا اظہار کرتا ہے تو پھر خود سے یہ سوال پوچھیے: ”اگر وہ میرے مؤقف سے متفق ہوتے تو کیا میں بہتر محسوس کرتا؟“ ظاہر ہے کہ اس کا جواب نفی میں ہے۔ دوسرے لوگ آپ کے متعلق جو کچھ بھی سوچتے ہیں، اس کے اثرات آپ پر اس وقت تک مرتب نہیں ہوتے جب تک آپ ان اثرات کو قبول نہیں کرتے۔ مزید برآں، زیادہ تر امکان یہ ہے کہ دوسرے لوگ آپ کے افسر کے مانند آپ کو پسند کریں گے، قطع نظر اس کے کہ آپ بغیر تردد کے ان کے ساتھ اختلاف رائے اپنائیں۔
یہ بھی پڑھیں: بھارت کو دھول چٹانے والے آپریشن پر فلم کا مطالبہ، ایئر وائس مارشل کے کردار کیلئے نام سامنے آگئے
اختلاف رائے کا قبول کرنا
یہ حقیقت تسلیم کر لیجیے کہ اکثر لوگ آپ کے مؤقف کے ساتھ متفق نہیں ہوں گے لیکن پھر اس میں آپ کے لیے فکر و پریشانی کی کوئی بات نہیں۔ اسی طرح آپ اپنے قریبی افراد کے ساتھ بھی اختلاف رائے کا اظہار کر سکتے ہیں، یہ امر ان کے لیے اطمینان بخش ہے کہ آپ ان کے ساتھ اختلاف رائے کرتے ہیں اور سب سے بنیادی یہ ہے کہ آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ان کا مؤقف آپ کے نزدیک قابل قبول نہیں۔
یہ بھی پڑھیں: نوازشریف آئی ٹی سٹی میں 23 بڑی آئی ٹی کمپنیاں ادارے قائم کرنے کو تیار، اراضی حاصل کرلی
مکالمے کی اہمیت
”جو لوگ ایک دوسرے کے مؤقف کو نہیں سمجھ سکتے، اگر کم از کم یہ سمجھ لیں کہ وہ ایک دوسرے کا مؤقف نہیں سمجھتے، تو پھر وہ ان لوگوں کی نسبت ایک دوسرے کو زیادہ بہتر طور پر سمجھ سکتے ہیں جو ایک دوسرے کو نہیں سمجھتے، اور انہیں یہ بھی نہیں معلوم کہ وہ ایک دوسرے کا مؤقف نہیں سمجھتے۔“
یہ بھی پڑھیں: باغوں کا شہر لاہور دنیا کے آلودہ شہروں میں آج بھی دوسرے نمبر پر
اپنے مؤقف پر اعتماد
آپ اپنے درست مؤقف سے دوسروں کو باخبر کرنے کے لیے مکالمہ بازی سے انکار کر سکتے ہیں اور اسے نظر انداز کر سکتے ہیں۔ جب آپ اپنے لیے کوئی چیز خرید رہے ہوتے ہیں تو پھر دوسرے شخص کی رائے کو اپنے سے بہتر جانتے ہوئے بھی آپ اپنی رائے اور مؤقف پر اعتماد اور بھروسا کر سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: پروفیسر میاں مسعود احمد خان بسی شریف انتقال کر گئے، تدفین کل پاکپتن میں ہو گی
مؤقف کی تصدیق کی ضرورت نہیں
یہ فقرہ کہتے ہوئے کسی سے اپنے مؤقف کی تصدیق طلب نہ کیجیے: ”کیا یہ ٹھیک ہے؟“ ‘ ”کیا ایسا ہی ہے؟“ یا ”اس سے پوچھیے وہ آپ کو بتائے گا۔“
یہ بھی پڑھیں: بھارت نے افغان شہریوں کیلئے ایمرجنسی ویزا ختم کرکے نیا ویزا سسٹم متعارف کروادیا۔
دوسروں کی مرضی سے آزادی
جب آپ یہ سمجھیں کہ آپ دوسروں کی مرضی اور خواہش کے مطابق اپنا مؤقف اختیار کر رہے ہیں، تو فوراً اس رویے کی اصلاح کریں اور نیا و مختلف رویہ اپنائیں۔
یہ بھی پڑھیں: میٹرک امتحان میں تیسری پوزیشن سے متعلق نابینا طالبہ کی درخواست پر ڈائریکٹر محکمہ تعلیم اور کنٹرولر امتحانات تعلیمی بورڈ کو نوٹس جاری
معافی کی طلب سے بچیں
جب درحقیقت آپ سے کوئی بھی غلطی سرزد نہیں ہوتی، تو پھر بھی آپ دوسروں سے بار بار معذرت کرنے اور معافی طلب کرنے کی عادت ترک کر دیں۔ تمام معافیاں اور معذرتیں، معافی کی درخواست ہوتی ہیں اور معافی و معذرت کی درخواست کا مطلب دوسروں کی مرضی اور خواہش کو اپنانا ہے۔ معافی کی طلب وقت ضائع کرنے والا کام ہے۔ اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ کے بہتر محسوس کرنے سے قبل ہی دوسرا شخص آپ کو معاف کر دے، تو اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ اپنے احساسات اس کے حوالے کر رہے ہیں۔
نتیجہ
معذرت و معافی طلب کرنے پر مبنی رویہ ایک منفی اور غیر تعمیری رجحان ہے جس کے باعث آپ کے احساسات دوسرے شخص کے ہاتھ میں چلے جاتے ہیں۔
(جاری ہے)
نوٹ: یہ کتاب ”بک ہوم“ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں) ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔








