کیا یہی بہار ہے !

بہار کا انتظار
ہاں! یہی بہار ہے
ہوا بھی مشکبار ہے
گلوں پہ بھی نکھار ہے
وہ انتظار جس کا تھا
ہاں! یہی بہار ہے
یہ بھی پڑھیں: اٹک میں سواری بٹھانے پر تنازع، ٹیکسی ڈرائیور باپ بیٹے سمیت 3 افراد قتل
پربتوں کی خوبصورتی
وہ پربتوں کے سلسلے
ہیں دور تک وہ گل کھلے
طیور کے و قافلے
وہ زمزمے وہ ولولے
ردائے آبشار سے
وہ مطربا سے سرملے
وہ انتظار جس کا تھا
ہاں! یہی بہار ہے
یہ بھی پڑھیں: وزیرتوانائی نے بجلی مزید 5 روپے تک سستی ہونے کی نوید سنا دی
گلستان کی خوشبو
صحن میں گلستان کے
شمیم کے وہ سلسلے
خوشبوؤں کے قافلے
چمن میں سب مہک گئے
خوشی میں پات پات بھی
تالیاں بجا گئے
وہ انتظار جس کا تھا
ہاں! یہی بہار ہے
یہ بھی پڑھیں: ہنی مون پر اختلاف، سسر نے داماد پر تیزاب پھینک دیا
گاوں کی رونق
کہ گاوں میں وہ پو پھٹے
گڈریے اٹھ کھڑے ہوۓ
”مویشیوں کو لے چلے“
بانسری پہ سر سجے
مویشیوں کی گھنٹیاں
جلترنگ سے بج اٹھے
وہ انتظار جس کا تھا
ہاں! یہی بہار ہے
یہ بھی پڑھیں: راستوں کی بندش؛ سیالکوٹ میں ٹماٹر 700روپے فی کلو ہو گئے
طبیعت کی تازگی
ندی نے چھیڑی راگنی
فضا میں بھی وہ نغمگی
ہے صبح کی وہ دلکشی
ہے زرد سی وہ روشنی
سماں کو بھی وہ دیکھنے
چٹک گئی کلی کلی
وہ انتظار جس کا تھا
ہاں! یہی بہار ہے
یہ بھی پڑھیں: 12 سالہ لڑکی پر 80 برس کے بزرگ کے قتل کے الزام میں مقدمہ درج
کھیتوں کی رونق
وہ شبنمی سی کھیتیاں
سجائی اوس نے یہاں
وہ آفتابی گرمیاں
فلک ہوا دھواں دھواں
لٹایا موتیوں کو یوں
نظر کو بھا گیا سماں
وہ انتظار جس کا تھا
ہاں! یہی بہار ہے
یہ بھی پڑھیں: مندر میں ہر طرف اندھیرا چھا گیا، کان پھاڑ دینے والی چیخ و پکار گونجنا شروع ہوگئی، بڑی دیوار پر کچھ سائے لہرائے پھر فرعونوں کے چہرے صاف نظر آنے لگے
شام کی خوبصورتی
دلھن وہ شام کی سجی
لیے ردائے ملگجی
سکوت میں وہ دلکشی
فدا ہو جس پہ خامشی
وہ رفتہ رفتہ عرش پر
دمکتی انجمن سجی
وہ انتظار جس کا تھا
ہاں! یہی بہار ہے
یہ بھی پڑھیں: چیف آف آرمی سٹاف جنرل سید عاصم منیر کا نیشنل کاؤنٹر ٹیررازم سینٹر کا دورہ
دوستوں کی یاد
وہ دوستانِ بزم شب
چلے تھے یار مل کے سب
جنھیں بہار کی طلب
کہاں گئے وہ، کیا غضب
خزاں کی بھینٹ چڑھ گئے
کہ میں بچا ہوں بوالعجب
وہ انتظار جس کا تھا!
کیا یہی بہار ہے!!
کلام
کلام: ڈاکٹر ارشاد خان (بھارت)