کیا یہی بہار ہے !
بہار کا انتظار
ہاں! یہی بہار ہے
ہوا بھی مشکبار ہے
گلوں پہ بھی نکھار ہے
وہ انتظار جس کا تھا
ہاں! یہی بہار ہے
یہ بھی پڑھیں: پاکستان کا کرنٹ اکاؤنٹ 14 سال بعد سرپلس ہوگیا
پربتوں کی خوبصورتی
وہ پربتوں کے سلسلے
ہیں دور تک وہ گل کھلے
طیور کے و قافلے
وہ زمزمے وہ ولولے
ردائے آبشار سے
وہ مطربا سے سرملے
وہ انتظار جس کا تھا
ہاں! یہی بہار ہے
یہ بھی پڑھیں: کراچی میں امریکی قونصل خانے پر ہنگامہ آرائی میں 11 افراد کی ہلاکت، انکوائری کا آغاز
گلستان کی خوشبو
صحن میں گلستان کے
شمیم کے وہ سلسلے
خوشبوؤں کے قافلے
چمن میں سب مہک گئے
خوشی میں پات پات بھی
تالیاں بجا گئے
وہ انتظار جس کا تھا
ہاں! یہی بہار ہے
یہ بھی پڑھیں: عمر ایوب اور شبلی فراز نے الیکشن دھاندلی کیخلاف احتجاج نہ کرنے کی ڈیل کی، فواد چوہدری کا دعویٰ
گاوں کی رونق
کہ گاوں میں وہ پو پھٹے
گڈریے اٹھ کھڑے ہوۓ
”مویشیوں کو لے چلے“
بانسری پہ سر سجے
مویشیوں کی گھنٹیاں
جلترنگ سے بج اٹھے
وہ انتظار جس کا تھا
ہاں! یہی بہار ہے
یہ بھی پڑھیں: کیرایو تھراپی یا کوبلیشن مشین کیا کسی طرح بھی کیموتھراپی کا متبادل ہے یا نہیں ؟ڈاکٹر وقاص نوازنے ڈاکٹر فیضان ملک کی شفایوسفزئی سے گفتگو کی ویڈیو شیئر کردی
طبیعت کی تازگی
ندی نے چھیڑی راگنی
فضا میں بھی وہ نغمگی
ہے صبح کی وہ دلکشی
ہے زرد سی وہ روشنی
سماں کو بھی وہ دیکھنے
چٹک گئی کلی کلی
وہ انتظار جس کا تھا
ہاں! یہی بہار ہے
یہ بھی پڑھیں: آج بھی غزہ میں کربلا دہرایا جا رہا ہے اور عالم اسلام بدستور خاموش ہے: خواجہ آصف
کھیتوں کی رونق
وہ شبنمی سی کھیتیاں
سجائی اوس نے یہاں
وہ آفتابی گرمیاں
فلک ہوا دھواں دھواں
لٹایا موتیوں کو یوں
نظر کو بھا گیا سماں
وہ انتظار جس کا تھا
ہاں! یہی بہار ہے
یہ بھی پڑھیں: نوکنڈی سے سبی تک ریلوے ٹریک اپ گریڈ کرنے کا منصوبہ، کب شروع ہوگا، کتنی لاگت آئے گی؟ جانیے
شام کی خوبصورتی
دلھن وہ شام کی سجی
لیے ردائے ملگجی
سکوت میں وہ دلکشی
فدا ہو جس پہ خامشی
وہ رفتہ رفتہ عرش پر
دمکتی انجمن سجی
وہ انتظار جس کا تھا
ہاں! یہی بہار ہے
یہ بھی پڑھیں: بشارالاسد کون ، اقتدار کیسے ملا؟ وہ تمام باتیں جو آپ جاننا چاہتے ہیں
دوستوں کی یاد
وہ دوستانِ بزم شب
چلے تھے یار مل کے سب
جنھیں بہار کی طلب
کہاں گئے وہ، کیا غضب
خزاں کی بھینٹ چڑھ گئے
کہ میں بچا ہوں بوالعجب
وہ انتظار جس کا تھا!
کیا یہی بہار ہے!!
کلام
کلام: ڈاکٹر ارشاد خان (بھارت)








