پی ٹی آئی کا احتجاج: گنڈا پور کی قیادت میں قافلہ پنجاب میں داخل، جڑواں شہر مکمل سیل
پی ٹی آئی کا احتجاجی قافلہ پنجاب کی حدود میں داخل
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) بانی پی ٹی آئی عمران خان کی کال پر وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا اور اپوزیشن لیڈر عمر ایوب کی قیادت میں احتجاجی قافلے پنجاب کی حدود میں داخل ہوگئے۔
یہ بھی پڑھیں: دبئی کی ایئر لائن نے پروازوں کا نیٹ ورک 110 شہروں تک بڑھا دیا
قافلے کی پیشرفت
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈا پور کی قیادت میں پی ٹی آئی کا قافلہ اٹک سے ہوتا ہوا حسن ابدال پہنچ گیا، بشریٰ بی بی بھی پی ٹی آئی کے احتجاجی قافلے میں شامل ہیں تاہم سابق خاتون اول الگ گاڑی میں سوار ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان اور بھارت خوش ہیں، تجارت پر کام ہورہا ہے:ٹرمپ
قافلوں کی روانگی
پاکستان تحریک انصاف کے احتجاج کے لیے پنجاب، سندھ، بلوچستان اور خیبرپختونخوا سے قافلے اسلام آباد کیلئے روانہ ہوئے، بلوچستان اور سندھ کے قافلے خیبرپختونخوا پہنچے اور ایک جگہ جمع ہوئے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان کو جرمانستان میں تبدیل کر دیا گیا: شیخ رشید احمد
وزیراعلیٰ کا پیغام
وزیراعلیٰ نے صوابی میں کارکنان سے مختصر خطاب میں کہا کہ اب ہمیں آگے بڑھنا ہے اور عمران خان کی رہائی تک واپس نہیں آنا، اپنی ساری طاقت راستہ کھولنے میں لگانی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بابراعظم سڑک پر مداحوں سے الجھ پڑے، ویڈیو وائرل
پولیس کی کارروائیاں
علی امین گنڈاپور کی زیر قیادت صوابی سے روانہ ہونے والا پی ٹی آئی کا بڑا قافلہ پنجاب کی حدود میں داخل ہوا تو اٹک پل، چھچھ انٹرچینج اور غازی بروتھا نہر پر پولیس کی جانب سے شدید شیلنگ کی گئی۔
وزیراعلیٰ نے تھوڑی دیر کیلئے قافلے کو غازی کے مقام پر رکنے کی ہدایت کی اور خطاب میں کہا کہ کارکنان تیاری کریں کیونکہ آگے مقابلہ کرنا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: لاہور میں بسنت کے دوران فلائٹ آپریشنز کو محفوظ رکھنے کیلئے اہم حکم نامہ جاری
کارکنان کا عزم
بشریٰ بی بی نے کارکنان سے مختصر خطاب میں کہا کہ آپ اپنی گاڑیوں میں بیٹھیں، ہمیں تیز جانا ہے اور خان کو لیے بغیر واپس نہیں آنا، اس طرح کرنے سے آپ لوگ تھک جائیں گے۔
یہ بھی پڑھیں: گوگل میپ کا استعمال، خاتون گاڑی سمیت نالے میں جا گری
احتجاج کا جواب
ہری پور سے آنے والے قافلے کے شرکا اٹک پل پر پہنچے تو پولیس کی جانب سے شدید شیلنگ کی گئی جس پر مظاہرین نے اطراف میں موجود گرین بیلٹس کو آگ لگائی جبکہ غازی پل پر کھڑی ایک سوزوکی کو بھی نذر آتش کیا۔
بعد ازاں احتجاجی مظاہرین نے آنسو گیس چلانے والے ماہر پولیس ملازم کو موٹر سائیکل کی ٹکر مارکر زخمی کیا اور پھر اسے تشدد کا نشانہ بنایا۔
یہ بھی پڑھیں: اگر میری زندگی پر کبھی کوئی فلم بنی تو۔۔۔دھرمیندر نے کس بھارتی اداکار کو اپنے جیسا کہا تھا ؟
حکمت عملی کی تبدیلی
پاکستان تحریک انصاف نے پنجاب کی حدود میں قافلے داخل ہونے کے بعد حکمت عملی تبدیل کر لی اور ٹیکسلا پہنچنے والے ہزارہ ڈویژن کے قافلوں کو بذریعہ جی ٹی روڈ واپس موٹروے برہان ریسٹ ایریا پر پہنچ کر علی امین گنڈاپور کے قافلے میں شامل ہونے کی ہدایت کردی۔
یہ بھی پڑھیں: 20 ماہ کے دوران صدر مملکت اور وزیراعظم کے غیرملکی دوروں کی تفصیلات منظرعام پر آگئیں
پولیس سے تصادم
قبل ازیں قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر عمر ایوب قافلے کی صورت میں ٹیکسلا پہنچے جہاں چیک پوسٹ پر پولیس کی جانب سے قافلے پر شیلنگ کی گئی، بعد ازاں پی ٹی آئی کارکنان کی پیش قدمی پر پولیس کو پیچھے ہٹنا پڑا۔
ہزارہ ہری پور سے عمر ایوب کی قیادت میں آنے والا بڑا قافلہ گانگو باہتڑ پر پولیس رکاوٹ کو عبور کرکے پنجاب کی حدود میں داخل ہو گیا جس میں کارکنان بڑی تعداد میں موجود ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: بلوچستان میں آٹھ لاکھ گندم کی بوریاں خراب ہونے کے انکشاف
مزید قافلے کی شمولیت
ٹیکسلا سے تیمور مسعود کی قیادت میں پی ٹی آئی کا قافلہ بھی عمر ایوب کے قافلے میں شامل ہوگیا، گانگو باہتڑ کے مقام کو پار کرنے کے بعد عمر ایوب کے قافلے کا ٹیکسلا جی ٹی روڈ پر واقع کٹی پہاڑی مارگلہ کے مقام پر پولیس اور رینجرز سے آمنے سامنے ہوگا۔
اس کے علاوہ کٹی پہاڑی مارگلہ، ٹیکسلا کے مقام پر اسلام آباد پولیس اور رینجرز کی بھاری نفری آنسو گیس شیلوں اور ربڑ بلٹ گنز و اینٹی رائیٹ آلات سے بھی لیس ہے۔
پتوکی میں تصادم
پتوکی سے اسلام آباد جانے والے تحریک انصاف کی ریلی کا ملتان روڈ پر پولیس کے ساتھ تصادم ہوا، جس پر پولیس نے شیلنگ جبکہ مظاہرین نے پتھراؤ کیا۔








