پاکستان اور بیلاروس کے درمیان متعدد مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط
پاکستان اور بیلاروس کے درمیان مفاہمت
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) پاکستان اور بیلاروس کے درمیان متعددمفاہمتی یادداشتوں پر دستخط ہو گئے۔
یہ بھی پڑھیں: وفاق کی فاٹا کیلئے بنائی گئی کمیٹی کو مسترد کرتے ہیں، پاکستان تحریک انصاف
بزنس فورم کی تقریب
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق پاکستان بیلاروس بزنس فورم کے دوران دونوں ممالک کے درمیان مفاہمتوں اور معاہدوں پر دستخط ہوئے، پاک بیلاروس 5سالہ تعاون پر نیوٹریفوڈ اینڈ فارماسیوٹیکل کمپنی اور بیلاکٹ سمیت مختلف مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے گئے۔
یہ بھی پڑھیں: صدر ایشین کرکٹ کونسل محسن نقوی کی زیر صدارت خصوصی اجلاس، نئے ٹورنامنٹس کا حتمی پلان طلب کر لیا
مصنوعات کی فراہمی کے معاہدے
تقریب میں "شہزاد ٹریڈ لنکس" اور "منسک موٹر پلانٹ" کے درمیان مصنوعات کی فراہمی کے لئے مفاہمتی یادداشت پر دستخط ہوئے، "شہزاد ٹریڈ لنکس" اور "بیلشینا" کے مابین پاکستانی منڈی میں ٹائرز کی فراہمی کے لئے مفاہمتی یادداشت پر دستخط ہوئے۔
یہ بھی پڑھیں: 56 Pakistanis Imprisoned in Sri Lanka for Years to Return Home Today
وفاقی وزیر کا خطاب
قبل ازیں بزنس فورم سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر تجاری سردار جام کمال نے کہا کہ پاکستان اور بیلاروس کے درمیان تجارت میں اضافہ ضروری ہے، پاکستان میں بیلاروس کے ٹریکٹرز پائیداری اور مضبوطی کی علامت سمجھے جاتے ہیں، دونوں ممالک کے درمیان 27-2025 کے لیے روڈ میپ پر اتفاق ہوا ہے، اور دونوں ممالک تعاون کے لیے عملی اقدامات کریں گے۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعلیٰ مریم نواز کا سینیٹری ورکر کے مین ہول میں گرنے کا نوٹس، رپورٹ طلب کر لی
تجارتی رکاوٹوں کا خاتمہ
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان اور بیلاروس علاقائی تجارت اور کنیکٹیویٹی کے فروغ کے لیے شنگھائی تعاون تنظیم میں شراکت دار ہیں، پاکستان بیلاروس سے ٹیکنالوجی کی منتقلی اور مشترکہ منصوبوں میں سرمایہ کاری کا خواہاں ہے۔ پاکستان میں غیر ملکی سرمایہ کاری کے لیے توانائی، زراعت، آئی سی ٹی اور دیگر شعبے کھلے ہیں، اور دونوں ممالک کے درمیان دو طرفہ تجارت میں تنوع لانے کی ضرورت ہے۔
پاکستان کی برآمدات کی بہتری
ان کا مزید کہنا تھا کہ Pakistan کے گوشت، ڈیری، زرعی مصنوعات اور کاغذی مصنوعات کی برآمدات بڑھائی جا سکتی ہیں، بیلاروس کے ساتھ تجارتی رکاوٹوں کو کم کرنے اور مارکیٹ تک رسائی کو آسان بنانے کی ضرورت ہے، پاکستان خطے میں تجارتی اور ٹرانزٹ حب بننے کے لیے پر عزم ہے۔








