پولیس اہلکار کے جاں بحق ہونے کا مقدمہ پی ٹی آئی قیادت کیخلاف درج
پولیس کانسٹیبل کی ہلاکت کا مقدمہ درج
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) ہکلہ انٹرچینج کے قریب پولیس کانسٹیبل کے جاں بحق ہونے کا مقدمہ پی ٹی آئی قیادت کے خلاف درج کرلیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: سعودی عرب کے 95ویں قومی دن اور دفاعی معاہدے کی مناسبت پر اسپنزر ہال میں مہر عبدالخالق لک نے شاندار تقریب کا اہتمام کیا
مقدمے کی تفصیلات
تفصیلات کے مطابق تھانہ ٹیکسلا میں پولیس کی مدعیت میں درج مقدمے میں بانی پی ٹی آئی، وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور، سالار خان کاکڑ، اور شاہد خٹک کو نامزد کیا گیا ہے۔ مقدمے میں تعزیرات پاکستان کی دفعہ 14 اور انسداد دہشت گردی ایکٹ کی دفعات بھی شامل کی گئی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: عالمی اسٹیبلشمنٹ کے اسکالر شریعت کا وہ پرچار کر رہے ہیں جو مغرب کو قبول ہے، مولانا فضل الرحمان
حملے کی شدت
مقدمے کے مطابق حملہ آور ملزمان ٹیئر گیس گن، ربڑ بلٹس گنز اور دیگر اسلحہ سے مسلح تھے جنہوں نے پولیس افسران اور اہلکاروں پر ڈنڈوں، پتھروں سے حملہ کیا۔ ملزمان نے دفعہ 144 کی خلاف ورزی کی، اور بانی پی ٹی آئی سمیت دیگر قیادت کی مجرمانہ سازش کے تحت پولیس پر حملہ کیا، جس کے نتیجے میں پولیس کو منتشر ہونا پڑا۔
کانسٹیبل مبشر حسن کا نقصان
ملزمان نے کانسٹیبل مبشر حسن کو زخمی کیا اور لال وین میں اغواء کرکے لے گئے۔ اس حملے میں کانسٹیبل عدنان، ریئس، اور نعیم بھی زخمی ہوئے۔ بعد میں اطلاع ملی کہ ملزمان کانسٹیبل مبشر حسن کو ہکلہ پل کے نیچے پھینک کر فرار ہوگئے۔ کانسٹیبل مبشر حسن کو اسپتال منتقل کیا گیا، لیکن وہ جانبر نہ ہو سکا۔








