اپنی ذات میں موجود مختلف صلاحیتوں کا اظہار کرنے میں بذات خود کوئی برائی نہیں لیکن مسئلہ یہ ہے کہ انہیں ضرررساں انداز میں استعمال کیا جا سکتاہے

مصنف اور مترجم
مصنف: ڈاکٹر وائن ڈبلیو ڈائر
ترجمہ: ریاض محمود انجم
قسط: 60
یہ بھی پڑھیں: وزرائے اعظم کے ساتھ زیادتی کا رونا رویا جاتا ہے کیا عمران خان وزیر اعظم نہیں رہے؟ علی محمدخان
ذاتی خصوصیات کا اظہار
اپنی ذات میں موجود مختلف خصوصیات، خوبیوں اور صلاحیتوں کا اظہار کرنے میں بذات خود کوئی برائی نہیں ہے۔ تاہم، یہ مسئلہ ہے کہ انہیں نقصان دہ اور ضرررساں انداز میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔ اپنی ان خوبیوں، صلاحیتوں اور خصوصیات کا اظہار مختلف علامتوں اور شناختوں کے ذریعے آپ کی ترقی اور کامیابی کے لیے رکاوٹ بن سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: فیفا اور اے ایف سی کی نگرانی میں ہونے والی پی ایف ایف کی کانگریس کے التوا کا فیصلہ
شناخت کی چالاکی
یہ ایک حقیقت ہے کہ ان خصوصیات کی بنیاد پر ان کے اظہار کو بآسانی جائز قرار دیا جا سکتا ہے۔ ایک مشہور مصنف کا کہنا ہے: "جب آپ میری کوئی شناخت و علامت مقرر کرتے ہیں، آپ میری نفی کر دیتے ہیں۔" جب کوئی شناخت یا علامت ناگزیر ہو جاتی ہے تو فرد کی اپنی شخصیت مغلوب ہو جاتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سارہ شریف کے والد اور سوتیلی والدہ کا پاکستان میں روپوش ہونا: “بین الاقوامی تلاش کے آپریشن کے دوران میں نے انہیں چھپایا تھا”
ماضی کی گرفت
اپنی ذات کی علامتیں اور شناختیں آپ کے ماضی کا شاخسانہ ہیں، لیکن یاد رکھیں کہ ماضی کبھی واپس نہیں آتا۔ اپنے آپ کا جائزہ لیں کہ آپ کس حد تک ماضی کے چنگل میں گرفتار ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: کراچی میں بن گئی پیرس سٹریٹ، دیکھ کر یقین نہ آئے کہ یہ بھی کراچی کا حصہ ہے
ذہنی رجحانات
اپنے آپ کو بے وقعت سمجھنے پر مبنی جو شناختیں آپ کی خصوصیات اور استعدادوں کی عکاسی کرتی ہیں، وہ مندرجہ ذیل چار ذہنی رجحانات کا شاخسانہ ہیں:
- “میں ہی سب کچھ ہوں۔”
- “میں تو ہمیشہ ہی ایسا ہوں۔”
- “میں اپنی یہ عادت ترک نہیں کر سکتا۔”
- “یہ میری فطرت ہے۔”
یہ رکاوٹیں ہیں جن کی وجہ سے آپ اپنی زندگی کو ایک انقلابی رخ دینے میں ناکام رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: سکیورٹی واپس لینے پر کچھ ججز کے تبادلے کردیئے: پشاور ہائیکورٹ
مثال
میں ایک ایسی دادی کو جانتا ہوں جو ہر اتوار کو کھانے کے دوران ہر ایک فرد کو مخصوص مقدار میں کھانا دیتی ہیں۔ جب ان سے پوچھا جاتا ہے کہ وہ ایسا کیوں کرتی ہیں، تو جواب ہوتا ہے: “میں تو ہمیشہ سے ہی ایسے کرتی آئی ہوں۔” یہ ان کی شناخت ہے جو ان کی ماضی کی عادات کی عکاسی کرتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان تحریک انصاف نے علی امین گنڈا پور کی بازیابی کے لئے نئی ڈیڈ لائن جاری کر دی
معیاری روئیے
کچھ لوگ اپنے روئیے سے ان چار رجحانات کا ایک ہی تسلسل میں اظہار کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر، اگر کسی سے پوچھا جائے کہ وہ حادثات کے وقت کیوں پریشان ہو جاتا ہے، تو وہ کہے گا: “یہ میری عادت اور فطرت ہے، میں تو ہمیشہ ایسا ہی کرتا ہوں۔”
یہ ایک عجب منطق ہے! یہ شخص بیک وقت ان چاروں فقرات کا استعمال کر رہا ہے، اور ہر فقرہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ وہ اپنی یہ عادات کبھی تبدیل نہیں کرے گا۔
نوٹ
یہ کتاب "بک ہوم" نے شائع کی ہے۔ (جملہ حقوق محفوظ ہیں) ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔