ڈپٹی وزیراعظم اسحاق ڈار کی تقرری لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج
لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج
لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن)ڈپٹی وزیراعظم اسحاق ڈار کی تقرری کو لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کر دیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: عمران خان کے بچوں کی پاکستان آمد کا معاملہ، رضوان رضی نے دلچسپ قصہ شیئر کردیا
درخواست کی تفصیلات
نجی ٹی وی چینل آج نیوز کے مطابق ڈپٹی وزیراعظم اسحاق ڈارکی تقرری کے خلاف درخواست شہری ندیم سرور نے لاہورہائیکورٹ دائر کی، درخواست میں وفاقی حکومت سمیت دیگر کو فریق بنایا گیا۔ درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ آئین پاکستان میں ڈپٹی وزیراعظم کا کوئی عہدہ نہیں ہے، وزیراعظم شہباز شریف نے وزیر خزانہ اسحاق ڈار کو ڈپٹی وزیراعظم مقرر کیا۔
یہ بھی پڑھیں: ہم نے جیلیں کاٹی ہیں، کبھی چیخیں نہیں ماری تھیں، یہ بچاؤ بچاؤ کی آوازیں مار رہے ہیں: احسن اقبال
آئینی تحفظات
درخواست میں کہا گیا کہ ڈپٹی وزیراعظم پاکستان کے وزیراعظم کا نائب تصور کیا جاتا ہے، وزیراعظم کو اراکین قومی اسمبلی ووٹ کے ذریعے منتخب کرتے ہیں، اسحاق ڈار سینیٹر ہونے کی بنا پر ڈپٹی وزیراعظم نہیں بن سکتے، وزیر خزانہ اسحاق ڈار کو غیر آئینی طور پر ڈپٹی وزیراعظم کی مراعات دی گئیں۔
یہ بھی پڑھیں: لاہور؛66ہزار بل آنے پر ڈیڑھ ماہ سے شہری اہلخانہ سمیت بغیر بجلی زندگی گزارنے پر مجبور، ماں جی کی دل خراش گفتگو
عدالت سے استدعا
درخواست میں استدعا کی گئی کہ عدالت سینیٹر اسحاق ڈار کی ڈپٹی وزیراعظم کے عہدے پر تقرری کالعدم قرار دے اور فیصلے تک اسحاق ڈار کو ڈپٹی وزیراعظم کے عہدے پر کام سے روکنے کا حکم دے۔
تاریخی پس منظر
واضح رہے کہ اپریل 2024 میں وزیر اعظم شہباز شریف نے وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار کو نائب وزیرِ اعظم مقرر کیا تھا۔








