نیٹ فلکس سیریز کا تنازع ، دھنش نے نین تھارا کے خلاف مقدمہ دائر کردیا
تنازعہ کی شدت
ممبئی (ویب ڈیسک) تامل فلم انڈسٹری کے دو مشہور ستاروں، دھنش اور نین تھارا، کے درمیان تنازع شدت اختیار کرگیا ہے۔ دھنش نے مدراس ہائی کورٹ میں نین تھارا، ان کے شوہر وگنیش شیون، اور ان کی پروڈکشن کمپنی روڈی پکچرز پرائیویٹ لمیٹڈ کے خلاف مقدمہ دائر کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: کینال منصوبہ اگر ہمارے ہاتھ سے نکل گیا تو پھر احتجاج کیلئے نکلیں گے: وزیراعلیٰ سندھ
نیٹ فلکس کی دستاویزی فلم کا مسئلہ
ایکسپریس نیوز کے مطابق دھنش کا دعویٰ ہے کہ نیٹ فلکس کی دستاویزی فلم "نینتھارا: بیونڈ دی فیری ٹیل" میں ان کی پروڈکشن فلم "نانم روڈی دھن" کے مناظر ان کی اجازت کے بغیر شامل کیے گئے۔
یہ بھی پڑھیں: New Petition Filed Against Proposed Constitutional Amendments in Supreme Court
مقدمہ دائر کرنے کی اجازت
دھنش کی پروڈکشن کمپنی ونڈربر فلمز پرائیویٹ لمیٹڈ نے نیٹ فلکس کے مواد کی سرمایہ کاری کے بھارتی شاخ لاس گیٹوس پروڈکشن سروسز انڈیا ایل ایل پی پر بھی مقدمہ دائر کرنے کی اجازت طلب کی، جسے مدراس ہائی کورٹ نے منظور کرلیا۔
یہ بھی پڑھیں: بھارت اور پاکستان کشیدگی نہ بڑھائیں، مسئلے کا حل نکالیں: امریکا
قانونی نوٹس اور ہرجانے کا دعویٰ
دھنش نے نینتھارا کو گزشتہ ہفتے ایک قانونی نوٹس کے ذریعے 24 گھنٹے کے اندر مواد ہٹانے کا مطالبہ کیا تھا۔ نوٹس میں کہا گیا تھا کہ اگر مواد نہیں ہٹایا گیا تو دھنش 10 کروڑ روپے ہرجانے کا دعویٰ کریں گے۔
نینتھارا کا جواب
نینتھارا نے دھنش کے اس اقدام کو انسٹاگرام پر سخت تنقید کا نشانہ بنایا اور اسے "مایوس کن" قرار دیا۔ انہوں نے شاہ رخ خان، چرنجیوی اور رام چرن سمیت دیگر پروڈیوسرز کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے ان کی دستاویزی فلم کے لیے اپنے مناظر بلا جھجک استعمال کرنے کی اجازت دی۔








