لاہور ہائیکورٹ کا عدالتی احکامات تسلیم نہ کرنے پر سکولوں کو بند کرنے کا عندیہ
لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ
لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن) لاہور ہائیکورٹ نے عدالتی احکامات تسلیم نہ کرنے پر سکولوں کو بند کرنے کا عندیہ دے دیا۔ عدالت نے ہدایت جاری کی کہ سکولوں کو کم از کم 50 فیصد بچوں کو ٹرانسپورٹ مہیا کرنا ہو گا۔
یہ بھی پڑھیں: ساری بیورو کریسی اور ایگزیکٹو مل کر عدلیہ سے مذاق کر رہے ہیں: جسٹس محسن اختر کیانی
سموگ تدارک کیس کے حوالے سے سماعت
نجی ٹی وی چینل آج نیوز کے مطابق لاہور ہائیکورٹ نے سموگ تدارک کیس کی گزشتہ سماعت کا تحریری فیصلہ جاری کر دیا ہے۔ سموگ تدارک کے حوالے سے سماعت کا 2 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جسٹس شاہد کریم نے جاری کیا۔
یہ بھی پڑھیں: یونان کشتی حادثہ، ملزم کی 2مقدمات میں درخواست ضمانت خارج
پنجاب حکومت کی جانب سے معلومات
فیصلے میں تحریر کیا گیا کہ وکیل پنجاب حکومت نے عدالت کو آگاہ کیا کہ بچوں کو سکول بسوں کی فراہمی کے حوالے سے ایک میٹنگ کی گئی ہے۔ نجی سکولوں کو بتایا جائے گا کہ اگر عدالتی احکامات تسلیم نہ کیے گئے تو سردیوں کی چھٹیوں کے بعد کام نہیں کرنے دیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: بیٹے کی پیدائش کی افواہیں، نصیبو لعل نے خاموشی توڑ دی، دادی بننے کی خوشخبری سنادی
عدالت کی مزید ہدایات
لاہور ہائیکورٹ نے ہدایت جاری کی کہ سکولوں کو کم از کم 50 فیصد بچوں کو ٹرانسپورٹ مہیا کرنا ہو گا۔ عدالت نے مزید تحریر کیا کہ وکیل پنجاب حکومت محکمہ ٹرانسپورٹ کو بسوں، ٹرکوں کی باقاعدہ جانچ پڑتال کی پالیسی بنانے کے حوالے سے آگاہ کریں۔
ماحولیاتی مسائل
وکیل پی ایچ اے نے عدالت کو بتایا کہ لاہور میں کونوکارپس کے مزید درخت نہیں لگائے جا رہے۔ پہلے سے موجود کونوکارپس درخت کو اکھاڑ کر مقامی درخت لگائے جائیں گے جبکہ عدالت کو آگاہ کیا گیا کہ سٹون کرشنگ پر محکمہ ماحولیات کی جانب سے مکمل پابندی ہے۔








