پی ٹی آئی کے خلاف آپریشن کی رات ہسپتالوں کی کیا صورتحال تھی؟ پاکستانی ڈاکٹر کی بی بی سی سے گفتگو
اسلام آباد کے ڈاکٹروں کی تشویش
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) بی بی سی سے بات کرتے ہوئے پولی کلینک اور پمز کے ڈاکٹرز نے کارروائی کے خدشے کی وجہ سے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ وہ اس بارے میں بات نہیں کر سکتے۔
یہ بھی پڑھیں: سکولوں میں 5 ہزار نئے کلاس رومز بنانے کی منظوری، موبائل بس لائبریری پراجیکٹ لانچ کرنے پر غور
آپریشن کی رات کی تفصیلات
ایک ڈاکٹر نے آپریشن کی رات کی صورتحال کے حوالے سے بتایا کہ انہوں نے "آج تک ایک رات میں اتنی سرجریز نہیں کی ہیں، جتنی آپریشن کی رات کی گئیں۔"
یہ بھی پڑھیں: یکم جنوری 2028 سے ملک سے سود کا نظام ختم ہوجانا چاہیے، مولانا فضل الرحمان کا بیان
زخمیوں کی حالت
پولی کلینک میں ایک ڈاکٹر نے بتایا کہ "بعض زخمی اس قدر تشویشناک حالت میں آئے کہ انہیں انیستھیزیا دینے کا انتظار کرنے کی بجائے ہمیں سرجریز شروع کرنی پڑیں۔ بہت سے مریض ایسے تھے جن کا خون بہت زیادہ بہہ چکا تھا۔"
ڈاکٹرز کی یادیں
بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ایک اور ڈاکٹر نے کہا کہ "ہمارے پاس رش اس قدر زیادہ تھا کہ ہم نے ایک بیڈ پر دو دو سرجریز کیں اور گولیاں نکالی ہیں۔ جو میں نے رات کو یہاں دیکھا، وہ میں کبھی بھول نہیں سکوں گی۔"








