طاقت اور دولت کبھی بوڑھے نہیں ہوتے،یادیں ہر شخص کے ماضی کا عظیم سرمایہ ہوتی ہیں، ماضی سے یوں جڑی ہوتی ہیں جیسے مقناطیس سے میخیں
مصنف کا تعارف
مصنف: شہزاد احمد حمید
قسط: 2
یہ بھی پڑھیں: پاکستان نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو نوبیل پرائز 2026 کے لیے نامزد کرنے کی سفارش کر دی
ایک عام شخص کی کہانی
آپ بیتی بڑے لوگ لکھتے، لکھواتے ہیں یا ان کی سوانح عمری لکھی جاتی ہیں۔ یہ ایک عام شخص کی کہانی ہے۔ یوں ہی ایک روز خیال آیا میں بھی گزرے کل کو یاد کرکے صفحات پر منتقل کرتا ہوں۔ لکھنے بیٹھا تو بہت کچھ یاد آ گیا۔ وہ بھی جو دماغ کے خانوں میں کہیں جم چکا تھا۔ کبھی ان باتوں کو یاد کرکے ہنسی نکل جاتی اور کبھی لگتا کیسی کیسی حماقتیں سرزد ہوتی رہی تھیں۔ کہیں سچ کے کڑوے گھونٹ نگلنے پڑے تھے۔
یہ بھی پڑھیں: کراچی میں موسم سرما کی پہلی بارش کی پیش گوئی، بادل کہاں کہاں برسیں گے؟ جانیے
یادداشتوں کا سفر
سوچا ان یادداشتوں کا نام ”کچھ حماقتیں کچھ صداقتیں“ رکھتے ہیں۔ آپ جو کچھ بھی پڑھیں گے سچ ہو گا۔ میں نے کوشش کی ہے جو کچھ لوگوں اور تجربے سے سیکھا نئی نسل کو منتقل کرکے اپنے فرض کا قرض ادا کروں۔ شاید یہ سطور کسی کی زندگی بہتر بنانے میں معاون ہو سکیں۔
یہ بھی پڑھیں: 7 ارب ڈالر کا پروگرام؛ آئی ایم ایف جائزہ مشن پاکستان پہنچ گیا
شکریہ اور عقائد
میں ان تمام لوگوں کا ممنون ہوں جنہوں نے ان حماقتوں اور صداقتوں کو مرتب کرنے میں میری مدد کی ہے۔ کچھ واقعات، کچھ صداقتوں اور کچھ حماقتوں کی توثیق کی ہے۔ کہیں کچھ یاد دلایا ہے اور کہیں کسی بات کی درستگی کی ہے۔ میں ہمیشہ اس بات کا قائل رہا ہوں کہ کچھ یار کچھ دنوں کے بعد یار نہیں رہتے عادت بن جاتے ہیں۔ سچ تو یہ ہے کہ طاقت اور دولت کبھی بوڑھے نہیں ہوتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: دل سے پاکستانی ہوں،پاکستانی برانڈ استعمال کرتی ہوں: وزیر اعلیٰ مریم نواز کی چین سٹور ایسوسی ایشن پاکستان کے وفد سے ملاقات میں گفتگو
یادیں اور ماضی
واہ! یادیں بھی ہر شخص کے ماضی کا عظیم سرمایہ ہوتی ہیں۔ یہ ماضی سے یوں جڑی ہوتی ہیں جیسے مقناطیس سے میخیں۔ جہاں گھماؤ گھوم جاتی ہیں۔ کمال اتفاق ہے انسان ماضی ہی کو یاد کرتا ہے اور بڑھاپے میں ماضی کے سہارے زندگی کے باقی دن گزارتا ہے۔ ماضی کبھی کبھار اس شدت سے یاد آتا ہے کہ انسان خود بھی حیران رہ جاتا ہے اور ان میں ایسا ڈوبتا ہے کہ کوئی یار ہی پار لگاتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان نے بھارتی سفارتکار کو ناپسندیدہ شخصیت قرار دے کر ملک چھوڑنے کی ہدایت کر دی
پرانے یاروں کی محفلیں
پرانے یاروں کی محفلیں بڑھاپے میں مرجھائے چہروں پر خوشی کے ایسے رنگ بکھیرتی ہیں کہ ساری اداسی، ساری تھکن، ساری پریشانی ایسے غائب ہوتی ہے جیسے کبھی ان سے واسطہ ہی نہ تھا۔ ان یادوں میں دنیا سے رخصت ہوئے دوست آنکھوں میں آنسوؤں کی جھڑی اتار جاتے ہیں۔ یادیں رلاتی بھی ہیں، ہنساتیں بھی ہیں اور ماضی کی فلم دماغ کے زنگ آلود خانوں سے نکال کر یوں دکھاتی ہیں جیسے ابھی ابھی فلمائی گئی ہوں۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعلیٰ کے پی علی امین کا گورنر فیصل کریم کنڈی سے پہلا باضابطہ رابطہ
نسل در نسل
یہ چار نسلوں کی کہانی میرے دادا سے شروع ہو کر میرے والد سے ہوتی مجھ تک پہنچی ہے۔ عمر کے چونسٹھویں سال میں میں اگلی نسل یعنی اپنے بیٹوں عمر اور احمد کو منتقل کر رہا ہوں بلکہ اب پانچویں نسل یعنی احمد کی بیٹی اور میری پوتی امیرہ احمد بھی ماشا اللہ ایک سال کی ہونے لگی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: وطن عزیز میں سیاسی مفاہمت، شائستگی، امن، بھائی چارے اور آئین و قانون کی حکمرانی کا ماحول پیدا کرنے کے لیے اپنا مثبت کردار ادا کریں
امیرہ احمد کی معصومیت
یہ معصوم سی جان اپنی ننھی ننھی معصوم شرارتوں، پرائس لیس ہنسی، چمکتے موتیوں جیسے چھوٹے چھوٹے دانتوں اور ”ہوں ہوں“ کرتی اپنی ساری باتیں منوانے کا فن جانتی ہے۔ یہ جانتی ہے کسے دانت دکھانا ہے، کسے دیکھ کر مسکرانا ہے، کسے دیکھ کر شرمانا ہے، کسے دیکھ کر ہوں ہوں کرنی ہے اور کسے دیکھ کر روں روں کرنی ہے۔ نئے دور کے جدید بچے۔ یہ جاگتی آنکھوں سے دنیا میں آتے ہیں اور بند آنکھوں سے بھی سب کچھ دیکھ لیتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: عمران خان اور علی امین گنڈاپور کے خلاف نیا مقدمہ درج
وقت کا سفر
کل میری گود میں عمر اور احمد ہوتے تھے۔ آج احمد کی بیٹی ”امیرہ احمد“ ہے۔ اس سفر کے درمیان تنتیس (33) برس کا طویل فاصلہ ہے۔ اللہ اسے دنیا بھر کی خوشیوں سے نوازے، صحت والی لمبی عمر دے۔ آمین۔ ماں باپ، تایا اور دادا دادی کا نام روشن کرے آمین۔ وقت تیزی سے مگر خوشگوار گزرا۔ اللہ عمر اور احمد کو بھی دین اور دنیا کی خوشیاں عطا کرے، ان پر اپنی رحمتیں اور برکتیں نازل کرے اور انہیں اپنے حفظ و امان میں رکھے۔ آمین۔ (جاری ہے)
نوٹ
یہ کتاب ”بک ہوم“ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں) ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔








