طاقت اور دولت کبھی بوڑھے نہیں ہوتے،یادیں ہر شخص کے ماضی کا عظیم سرمایہ ہوتی ہیں، ماضی سے یوں جڑی ہوتی ہیں جیسے مقناطیس سے میخیں

مصنف کا تعارف
مصنف: شہزاد احمد حمید
قسط: 2
یہ بھی پڑھیں: حکومت کا توانائی شعبے کی اصلاحات کیلئے بڑا اقدام، بجلی کی پیداوار اور خرید کیلئے انڈپینڈنٹ مارکیٹ بنانے کی منظوری
ایک عام شخص کی کہانی
آپ بیتی بڑے لوگ لکھتے، لکھواتے ہیں یا ان کی سوانح عمری لکھی جاتی ہیں۔ یہ ایک عام شخص کی کہانی ہے۔ یوں ہی ایک روز خیال آیا میں بھی گزرے کل کو یاد کرکے صفحات پر منتقل کرتا ہوں۔ لکھنے بیٹھا تو بہت کچھ یاد آ گیا۔ وہ بھی جو دماغ کے خانوں میں کہیں جم چکا تھا۔ کبھی ان باتوں کو یاد کرکے ہنسی نکل جاتی اور کبھی لگتا کیسی کیسی حماقتیں سرزد ہوتی رہی تھیں۔ کہیں سچ کے کڑوے گھونٹ نگلنے پڑے تھے۔
یہ بھی پڑھیں: سونے کی فی تولہ قیمت میں یک دم 5 ہزار روپے کی بڑی کمی
یادداشتوں کا سفر
سوچا ان یادداشتوں کا نام ”کچھ حماقتیں کچھ صداقتیں“ رکھتے ہیں۔ آپ جو کچھ بھی پڑھیں گے سچ ہو گا۔ میں نے کوشش کی ہے جو کچھ لوگوں اور تجربے سے سیکھا نئی نسل کو منتقل کرکے اپنے فرض کا قرض ادا کروں۔ شاید یہ سطور کسی کی زندگی بہتر بنانے میں معاون ہو سکیں۔
یہ بھی پڑھیں: کیا بابراعظم آئندہ ٹی ٹوینٹی ٹیم میں شامل ہوں گے؟ ہیڈ کوچ نے واضح اعلان کر دیا
شکریہ اور عقائد
میں ان تمام لوگوں کا ممنون ہوں جنہوں نے ان حماقتوں اور صداقتوں کو مرتب کرنے میں میری مدد کی ہے۔ کچھ واقعات، کچھ صداقتوں اور کچھ حماقتوں کی توثیق کی ہے۔ کہیں کچھ یاد دلایا ہے اور کہیں کسی بات کی درستگی کی ہے۔ میں ہمیشہ اس بات کا قائل رہا ہوں کہ کچھ یار کچھ دنوں کے بعد یار نہیں رہتے عادت بن جاتے ہیں۔ سچ تو یہ ہے کہ طاقت اور دولت کبھی بوڑھے نہیں ہوتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: چیچہ وطنی کی ادیبہ مبارک انصاری: 3 سال بعد بھی پولیس کا سراغ نہ لگا سکی
یادیں اور ماضی
واہ! یادیں بھی ہر شخص کے ماضی کا عظیم سرمایہ ہوتی ہیں۔ یہ ماضی سے یوں جڑی ہوتی ہیں جیسے مقناطیس سے میخیں۔ جہاں گھماؤ گھوم جاتی ہیں۔ کمال اتفاق ہے انسان ماضی ہی کو یاد کرتا ہے اور بڑھاپے میں ماضی کے سہارے زندگی کے باقی دن گزارتا ہے۔ ماضی کبھی کبھار اس شدت سے یاد آتا ہے کہ انسان خود بھی حیران رہ جاتا ہے اور ان میں ایسا ڈوبتا ہے کہ کوئی یار ہی پار لگاتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سرکاری ملازمین کو پلاٹ دینے کیلئے منصوبہ طلب
پرانے یاروں کی محفلیں
پرانے یاروں کی محفلیں بڑھاپے میں مرجھائے چہروں پر خوشی کے ایسے رنگ بکھیرتی ہیں کہ ساری اداسی، ساری تھکن، ساری پریشانی ایسے غائب ہوتی ہے جیسے کبھی ان سے واسطہ ہی نہ تھا۔ ان یادوں میں دنیا سے رخصت ہوئے دوست آنکھوں میں آنسوؤں کی جھڑی اتار جاتے ہیں۔ یادیں رلاتی بھی ہیں، ہنساتیں بھی ہیں اور ماضی کی فلم دماغ کے زنگ آلود خانوں سے نکال کر یوں دکھاتی ہیں جیسے ابھی ابھی فلمائی گئی ہوں۔
یہ بھی پڑھیں: بشریٰ بی بی کو کوئی چھوڑ کر نہیں گیا، ان سمیت سب بھاگے تھے: خواجہ آصف
نسل در نسل
یہ چار نسلوں کی کہانی میرے دادا سے شروع ہو کر میرے والد سے ہوتی مجھ تک پہنچی ہے۔ عمر کے چونسٹھویں سال میں میں اگلی نسل یعنی اپنے بیٹوں عمر اور احمد کو منتقل کر رہا ہوں بلکہ اب پانچویں نسل یعنی احمد کی بیٹی اور میری پوتی امیرہ احمد بھی ماشا اللہ ایک سال کی ہونے لگی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ایچ بی ایل پاکستان سپر لیگ کے 10ویں ایڈیشن کے لیے غیر ملکی کھلاڑیوں کی رجسٹریشن کا عمل شروع
امیرہ احمد کی معصومیت
یہ معصوم سی جان اپنی ننھی ننھی معصوم شرارتوں، پرائس لیس ہنسی، چمکتے موتیوں جیسے چھوٹے چھوٹے دانتوں اور ”ہوں ہوں“ کرتی اپنی ساری باتیں منوانے کا فن جانتی ہے۔ یہ جانتی ہے کسے دانت دکھانا ہے، کسے دیکھ کر مسکرانا ہے، کسے دیکھ کر شرمانا ہے، کسے دیکھ کر ہوں ہوں کرنی ہے اور کسے دیکھ کر روں روں کرنی ہے۔ نئے دور کے جدید بچے۔ یہ جاگتی آنکھوں سے دنیا میں آتے ہیں اور بند آنکھوں سے بھی سب کچھ دیکھ لیتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: مونال ریستوران اور ‘ریچھ’ کا غصہ: جسٹس فائز عیسیٰ کی الوداعی تقریب میں کیا کچھ ہوا
وقت کا سفر
کل میری گود میں عمر اور احمد ہوتے تھے۔ آج احمد کی بیٹی ”امیرہ احمد“ ہے۔ اس سفر کے درمیان تنتیس (33) برس کا طویل فاصلہ ہے۔ اللہ اسے دنیا بھر کی خوشیوں سے نوازے، صحت والی لمبی عمر دے۔ آمین۔ ماں باپ، تایا اور دادا دادی کا نام روشن کرے آمین۔ وقت تیزی سے مگر خوشگوار گزرا۔ اللہ عمر اور احمد کو بھی دین اور دنیا کی خوشیاں عطا کرے، ان پر اپنی رحمتیں اور برکتیں نازل کرے اور انہیں اپنے حفظ و امان میں رکھے۔ آمین۔ (جاری ہے)
نوٹ
یہ کتاب ”بک ہوم“ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں) ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔