علامتیں اور شناختیں بچپن سے ہی آپ کو لاحق ہو جاتی ہیں، آپ کبھی بھی دور نہیں کر سکتے، انہیں محض معمولاتِ زندگی کی حیثیت سے قبول کر لیا جاتا ہے.

مصنف اور مترجم
مصنف: ڈاکٹر وائن ڈبلیو ڈائر
ترجمہ: ریاض محمود انجم
قسط: 63
یہ بھی پڑھیں: فضل الرحمان نے کیا واقعی آئینی ترمیم پر رضامندی ظاہر کردی؟ جے یو آئی کا اہم بیان سامنے آ گیا
لٹل ہوپ کی کہانی
پہلی قسم سب سے زیادہ مروج ہے۔ لٹل ہوپ نامی بچی دوسری جماعت میں ہے۔ وہ ہر روز اپنی مصوری کی جماعت میں بہت خوش جاتی ہے اور رنگوں کے ساتھ کھیلتے ہوئے بہت اطمینان و مسرت حاصل کرتی ہے۔ اس کی استانی اسے بتاتی ہے کہ درحقیقت وہ مصوری میں کچھ زیادہ اچھی نہیں ہے لہٰذا یہ بچی اپنی استانی سے دور رہنا شروع کر دیتی ہے کیونکہ وہ اپنے بارے میں استانی کی متضاد رائے پسند نہیں کرتی۔
یہ بھی پڑھیں: ڈونلڈ ٹرمپ نے یورپی یونین کو وارننگ دے دی
شناخت و علامات
پھر فوراً ہی اس کی ذات میں یہ شناخت اور علامت پیدا ہونا شروع ہوگئی: "میں مصوری میں بہت کم زور ہوں۔" آہستہ آہستہ مصوری کی جماعت سے الگ رہنے کے باعث اس کے اس رویے کو مزید تقویت ملتی ہے۔ بالغ ہونے پر جب اس سے پوچھا جاتا ہے کہ وہ مصوری کیوں نہیں کرتی تو اس کا جواب یہ ہوتا ہے: "اوہ مجھے مصوری زیادہ اچھی نہیں آتی، میری تو ہمیشہ ہی یہی عادت ہے۔"
یہ بھی پڑھیں: حکومت اور پی ٹی آئی کے مذاکرات سے کچھ نہیں نکلنا، شیخ رشید
پیدائشی علامات
علامتیں اور شناختیں بچپن سے ہی آپ کو لاحق ہو جاتی ہیں۔ یہ اس وقت سے آپ پر سوار ہیں جب آپ نے اس قسم کے فقرات سنے تھے: "وہ تو بڑا فضول قسم کا انسان ہے، اس کا بھائی بہت اچھا کھلاڑی ہے لیکن وہ بہت محنتی ہے" یا "تم بالکل میرے جیسے ہو؛ میرے بچے ہمیشہ سے کمزور تھے" یا "بل ہمیشہ سے ہی بہت شرمیلا تھا"۔
یہ بھی پڑھیں: حکومت نے بجلی کی قیمت کم کرنے کے لیے نیپرا میں درخواست جمع کرادی
گفتگو اور شناخت
ان لوگوں کے ساتھ گفتگو کریں جنہوں نے آپ کی زندگی میں آپ کو یہ شناختیں اور علامتیں عطا کیں، جیسے والدین، خاندانی دوست، سابقہ اساتذہ وغیرہ۔ ان سے پوچھیں کہ ان کا کیا خیال ہے کہ آپ نے یہ عادات کیسے اپنائیں اور کیا آپ ہمیشہ سے ہی ان عادات میں مبتلا تھے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان کا بھارت میں جوہری، تابکاری مواد کی چوری اور فروخت پر اظہار تشویش
دوسری قسم کی شناختیں
ان شناختوں اور علامات کی دوسری قسم وہ ہے جن کا ماخذ آپ کا سہل پسند رویہ ہے جس کے باعث آپ مشکل اور پیچیدہ کام کرنے سے ہمیشہ اجتناب کرتے رہے۔
یہ بھی پڑھیں: کتب بینی کے فروغ اور پبلک لائبریریوں کی اپ گریڈیشن کے حوالے سے متعدد فیصلے
کالج میں داخلہ
میں اپنے ایک گاہک کے ساتھ کام کر رہا تھا، جس کی عمر چھیالیس سال تھی، جسے کالج میں داخل ہونے کی شدید خواہش تھی، لیکن ناکامی کے خوف اور اپنی عقل و سمجھ پر شک کی وجہ سے اس کے دل میں خوف بیٹھ گیا تھا کہ وہ کالج میں داخلہ لینے کے قابل نہیں ہے۔
یہ بھی پڑھیں: آئی فون کی 16 سیریز کی قیمتیں گر گئیں
نتیجہ
یہ شخص اپنی شناخت و علامت کو اس امر سے محفوظ رہنے کے لیے استعمال کرتا ہے جو وہ واقعی چاہتا ہے۔ یہ قسم کی شناختیں اور علامتیں خود آپ کی اپنی اختیار کردہ ہیں، لیکن یہ تمام عذرہائے لنگ ہیں۔
نوٹ
یہ کتاب "بک ہوم" نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں)۔ ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔