علامتیں اور شناختیں بچپن سے ہی آپ کو لاحق ہو جاتی ہیں، آپ کبھی بھی دور نہیں کر سکتے، انہیں محض معمولاتِ زندگی کی حیثیت سے قبول کر لیا جاتا ہے.
مصنف اور مترجم
مصنف: ڈاکٹر وائن ڈبلیو ڈائر
ترجمہ: ریاض محمود انجم
قسط: 63
یہ بھی پڑھیں: کیا آپ اپنی آنتوں کی صفائی کر رہے ہیں؟ یہ کیوں ضروری ہے؟
لٹل ہوپ کی کہانی
پہلی قسم سب سے زیادہ مروج ہے۔ لٹل ہوپ نامی بچی دوسری جماعت میں ہے۔ وہ ہر روز اپنی مصوری کی جماعت میں بہت خوش جاتی ہے اور رنگوں کے ساتھ کھیلتے ہوئے بہت اطمینان و مسرت حاصل کرتی ہے۔ اس کی استانی اسے بتاتی ہے کہ درحقیقت وہ مصوری میں کچھ زیادہ اچھی نہیں ہے لہٰذا یہ بچی اپنی استانی سے دور رہنا شروع کر دیتی ہے کیونکہ وہ اپنے بارے میں استانی کی متضاد رائے پسند نہیں کرتی۔
یہ بھی پڑھیں: وفاقی آئینی عدالت میں آئندہ ہفتے صرف ایک بینچ مقدمات کی سماعت کرے گا۔
شناخت و علامات
پھر فوراً ہی اس کی ذات میں یہ شناخت اور علامت پیدا ہونا شروع ہوگئی: "میں مصوری میں بہت کم زور ہوں۔" آہستہ آہستہ مصوری کی جماعت سے الگ رہنے کے باعث اس کے اس رویے کو مزید تقویت ملتی ہے۔ بالغ ہونے پر جب اس سے پوچھا جاتا ہے کہ وہ مصوری کیوں نہیں کرتی تو اس کا جواب یہ ہوتا ہے: "اوہ مجھے مصوری زیادہ اچھی نہیں آتی، میری تو ہمیشہ ہی یہی عادت ہے۔"
یہ بھی پڑھیں: لاہور میں ڈاکو 90 سالہ بزرگ خاتون کے کانوں سے سونے کی بالیاں نوچ کر فرار ہو گیا
پیدائشی علامات
علامتیں اور شناختیں بچپن سے ہی آپ کو لاحق ہو جاتی ہیں۔ یہ اس وقت سے آپ پر سوار ہیں جب آپ نے اس قسم کے فقرات سنے تھے: "وہ تو بڑا فضول قسم کا انسان ہے، اس کا بھائی بہت اچھا کھلاڑی ہے لیکن وہ بہت محنتی ہے" یا "تم بالکل میرے جیسے ہو؛ میرے بچے ہمیشہ سے کمزور تھے" یا "بل ہمیشہ سے ہی بہت شرمیلا تھا"۔
یہ بھی پڑھیں: امریکی عدالت نے وائس آف امریکا کے 1000 ملازمین کی بحالی روک دی
گفتگو اور شناخت
ان لوگوں کے ساتھ گفتگو کریں جنہوں نے آپ کی زندگی میں آپ کو یہ شناختیں اور علامتیں عطا کیں، جیسے والدین، خاندانی دوست، سابقہ اساتذہ وغیرہ۔ ان سے پوچھیں کہ ان کا کیا خیال ہے کہ آپ نے یہ عادات کیسے اپنائیں اور کیا آپ ہمیشہ سے ہی ان عادات میں مبتلا تھے۔
یہ بھی پڑھیں: کینیڈا نے 13 ممالک کے شہریوں کے لیے ویزا فری انٹری کا اعلان کر دیا
دوسری قسم کی شناختیں
ان شناختوں اور علامات کی دوسری قسم وہ ہے جن کا ماخذ آپ کا سہل پسند رویہ ہے جس کے باعث آپ مشکل اور پیچیدہ کام کرنے سے ہمیشہ اجتناب کرتے رہے۔
یہ بھی پڑھیں: لاہور میں نشئیوں نے بھکاری کو قتل کردیا
کالج میں داخلہ
میں اپنے ایک گاہک کے ساتھ کام کر رہا تھا، جس کی عمر چھیالیس سال تھی، جسے کالج میں داخل ہونے کی شدید خواہش تھی، لیکن ناکامی کے خوف اور اپنی عقل و سمجھ پر شک کی وجہ سے اس کے دل میں خوف بیٹھ گیا تھا کہ وہ کالج میں داخلہ لینے کے قابل نہیں ہے۔
یہ بھی پڑھیں: فلمساز جمشید محمود عرف جامی کو ہتکِ عزت کے کیس میں 2 سال قید کی سزا سنادی گئی
نتیجہ
یہ شخص اپنی شناخت و علامت کو اس امر سے محفوظ رہنے کے لیے استعمال کرتا ہے جو وہ واقعی چاہتا ہے۔ یہ قسم کی شناختیں اور علامتیں خود آپ کی اپنی اختیار کردہ ہیں، لیکن یہ تمام عذرہائے لنگ ہیں۔
نوٹ
یہ کتاب "بک ہوم" نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں)۔ ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔








