اگر حکومت کے پاس پی ٹی آئی پر پابندی کا قانونی جواز ہے تو سپریم کورٹ میں کیس دائر کر دے: سینیٹر ساجد میر

سیاسی تشہیر کا ایک نیا رخ
لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) مرکزی جمعیت اہلِ حدیث پاکستان کے سربراہ اور سینیٹر ساجد میر نے الزام لگایا ہے کہ علی امین گنڈاپور اور بشریٰ بی بی جدید سیاست کی بجائے دہشت گردی کے راستے پر چل رہے ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا ہے کہ اگر حکومت کے پاس پی ٹی آئی پر پابندی عائد کرنے کا قانونی جواز موجود ہے تو وہ سپریم کورٹ میں یہ کیس دائر کرے۔
یہ بھی پڑھیں: وفاقی حکومت نے معاشی بحالی کے پروگرام کی حتمی شکل دے دی
دہشت گردی کی تشبیہ
لاہور میں ایک پریس کانفرنس کے دوران ساجد میر نے کہا کہ اسلام آباد میں علی امین گنڈاپور اور بشریٰ بی بی کا طرز عمل ایک دہشت گرد تنظیم کے طرز عمل کے مشابہ ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کے بانی کی سیاست ہمیشہ مفادات کے گرد گھومتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: نو پرائیویٹائزیشن، آؤٹ سورس کیے گئے سکولز آج بھی ریاست کی ملکیت ہیں: وزیر تعلیم پنجاب
ہماری وفاداری کا اعلان
سینیٹر نے زور دیا کہ پختون قوم جمہوریت، فوج اور ملک کے وفادار ہیں، نہ کہ دہشت گردوں کے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ادارے ان کی حمایت کریں، تو یہ پھر اداروں کے حق میں نعرے لگائیں گے۔
حکومتی اقدامات کا جائزہ
"جنگ" کے مطابق، ساجد میر نے یہ بھی کہا کہ حکومت کو خود پی ٹی آئی پر پابندی عائد کرنے کے اقدامات نہیں کرنے چاہئیں۔ اگر سپریم کورٹ سمجھتی ہے کہ پابندی عائد کرنا ضروری ہے، تو وہ اس پر عمل درآمد کرے۔