اسلام آباد میں دوبارہ احتجاج کی کوئی کال نہیں دی، پی ٹی آئی کی تردید
پی ٹی آئی کے مرکزی سیکریٹری اطلاعات کا بیان
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی سیکریٹری اطلاعات شیخ وقاص اکرم نے کہا ہے کہ 7 دسمبر کو دوبارہ اسلام آباد احتجاج کے حوالے سے سامنے آنے والی خبر درست نہیں ہے۔
یہ بھی پڑھیں: شامی باغیوں کا دارالحکومت میں داخل ہونے کا دعویٰ، بشارالاسد دمشق سے نکل گئے
فیک نیوز کا ذکر
ایکسپریس نیوز کے پروگرام میں اینکر رحمان اظہر کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے شیخ وقاص اکرم نے کہا کہ کچھ دنوں سے فیک نیوز کا بازار گرم ہے۔ کہا گیا کہ پارٹی کا نیا چیئرمین بنا دیا گیا ہے اور سلمان اکرم راجہ کو عہدے سے ہٹا دیا گیا، یہ خبریں غلط ہیں کیونکہ سلمان اکرم راجہ بھی بدستور اپنے عہدے پر کام کر رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: خیبر پختونخوا حکومت نے انڈس ریور اور دریائے کابل کے کناروں پر غیر قانونی کان کنی اور پلَیسر گولڈ نکالنے پر دفعہ 144 کے تحت پابندی لگا دی
احتجاج کی خبروں کی حقیقت
انہوں نے کہا کہ 7 دسمبر کو اسلام آباد دوبارہ احتجاج کے لیے آنے کی خبر درست نہیں، اسد قیصر نے 7 دسمبر کو دوبارہ اسلام آباد جانے کے حوالے سے کوئی بیان نہیں دیا اور نہ ہی ایسا کوئی فیصلہ پارٹی کی سطح پر ہوا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: گلگت بلتستان کے تین اضلاع میں امن برقرار رکھنے کے لئے فوج تعینات
پارٹی کے امور اور چیلنجز
شیخ وقاص اکرم نے کہا کہ پارٹی معاملات کو ہم دیکھ لیں گے، پی ٹی آئی کو اپنے کپڑے باہر دھونے کی ضرورت نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ابھی بھی ہمارے لوگ لاپتا ہیں اور ہر چیز کا ریکارڈ ہمارے پاس موجود ہے۔ سیکریٹری اطلاعات پی ٹی آئی نے کہا کہ اسلام آباد میں کارکنوں کی شہادتوں کا معاملہ اور بانی پی ٹی آئی کی رہائی ہمارے لیے بڑے چیلنجز ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: جاپان، 30 سال کی سروس کے بعد بس ڈرائیور ایک غلطی سے 84 ہزار ڈالر کی پینشن سے محروم ہوگیا۔
ڈی چوک کے واقعات کی وضاحت
شیخ وقاص اکرم نے واضح کیا کہ مشال یوسفزئی کی پارٹی میں کوئی پوزیشن نہیں ہے، البتہ وہ بشری بی بی کی ذاتی ترجمان ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ کہنا سراسر جھوٹ ہے کہ ڈی چوک میں گولیاں نہیں چلیں۔ وزیر دفاع کا بیان آیا کہ جنازے دکھاؤ جبکہ ہم نے کل کی پریس کانفرنس میں جنازے کی فوٹیج دکھائی تھیں۔
یہ بھی پڑھیں: فارمولا ون والے بلنڈر پر میرے اپنے بچوں نے میرا مذاق اڑایا تھا، ندا یاسر
بین الاقوامی میڈیا کی رپورٹنگ
مرکزی سیکریٹری اطلاعات پی ٹی آئی نے کہا کہ بین الاقوامی میڈیا نے بھی ہمارے کارکنوں کی ہلاکتوں کو رپورٹ کیا ہے۔ ہمارا مطالبہ ہے کہ اس معاملے پر ایک اعلیٰ سطح کا جوڈیشل کمیشن بنایا جائے اور تحقیقات کی جائیں۔
خلاصہ اور مطالبات
انہوں نے کہا کہ ہمارے پاس کل کی تاریخ تک 12 کارکنوں کی ہلاکتوں کا کنفرم ڈیٹا موجود تھا، ہم الزام تراشی نہیں بلکہ شواہد کے ساتھ بات کریں گے۔ ریاست ماں کے جیسی ہوتی ہے، ریاست کے صبر کا پیمانہ لبریز نہیں ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ پہلے تو یہ کہہ رہے تھے کہ ڈی چوک پر کوئی فائرنگ نہیں ہوئی، پھر کہا کہ ڈی چوک کراس کرنے کی کوشش کی اس لیے گولی چلی۔








