وقت کو پیچھے لے جانے کی خواہش: ایک ایسی لت جس سے چھٹکارا پانا آسان نہیں ہے

’مجھے خود کو لاحق مسئلے کا علم اس وقت ہوا جب میرے جسم میں بالکل قوت نہ رہی۔ میں فُٹبال کھیلنا نہیں چاہتا تھا، بس گھر کے اندر ہی رہنا چاہتا تھا۔ اس کے ساتھ مجھے شرمندگی بھی تھی کیونکہ اپنی تمام تر کوششوں کے باوجود بھی میں خود کو پورن دیکھنے سے روک نہیں پا رہا تھا۔‘
شان فلوریس کی عمر صرف 11 برس تھی جب انھیں ایک دوست نے پورن (فحش فلموں) سے متعارف کروایا۔
اب ان کی عمر 30 برس ہو چکی ہے۔ وہ اپنے ماضی کو یاد کرتے ہوئے بتاتے ہیں کہ ’مجھے فوراً ہی اس کی لت لگ گئی۔‘
شان کہتے ہیں کہ پورن ویڈیوز دیکھ کر ’میں نے سوچا کہ واہ یہ لوگ تو اپنی زندگی کا بہترین وقت گزار رہے ہیں۔‘
لیکن تجسس کے ہاتھوں مجبور ہو کر جوعادت انھیں لگی تھی اسے پھر ختم کرنا انتہائی مشکل ہو گیا۔
شان کے مطابق پھر وہ دن، دوپہر اور رات میں بھی پورن دیکھنے لگے اور یہ ان کے لیے اتنا عام ہو گیا جیسے ’دانتوں میں برش کرنا ہوتا ہے۔‘
شان نے اپنی کہانی Uses in Urdu کی سیریز ’سیکس آفٹر‘ میں بیان کی۔
وہ کہتے ہیں کہ جب اپنی تمام تر کوششوں کے باوجود وہ خود کو پورن دیکھنے سے روک نہیں پائے تو تب انھیں محسوس ہوا کہ انھیں کوئی مسئلہ لاحق ہو گیا ہے۔
ضروری نہیں کہ ہر پورن دیکھنے والا اس کی لت میں مبتلا ہو جائے لیکن شان وہ اکیلے انسان نہیں جنھیں پورن دیکھنے کی عادت خطرناک حد تک لگ چکی ہے۔
رواں برس آف کام کی ایک رپورٹ کے مطابق برطانیہ میں صرف مئی کے مہینے میں ملک کے 29 فیصد پختہ عمر کے افراد نے انٹرنیٹ پر پورن تک رسائی حاصل کی تھی۔
برطانیہ کے ٹریٹمنٹ سینٹر یوکیٹ کے مطابق ملک میں 18 لاکھ سے زیادہ افراد روزانہ پورن دیکھتے ہیں اور ان میں کچھ افراد ایسے بھی ہیں جو دن میں ایک سے زائد مرتبہ ایسے مواد تک رسائی حاصل کرتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ پورن دیکھنے کی عادت کو چھوڑنے کے لیے لوگوں کی بڑی تعداد ان سے مدد لے رہی ہے۔
دا لارل سینٹر سے منسلک برطانوی سائیکوتھراپسٹ ڈاکٹر پالا ہال کہتی ہیں کہ ’حالیہ برسوں میں پورن دیکھنے والے افراد کی ان کے سینٹر میں موجودگی تقریباً دو گُنا بڑھ گئی۔‘
ان کا کہنا ہے کہ پورن دیکھنے کی عادت ختم کرنے کے لیے نوجوانوں کی بھی بڑی تعداد معالجوں سے مدد مانگ رہی ہے۔
انھوں نے Uses in Urdu کو بتایا کہ ’آج سے دس سال قبل ہمارے کلائنٹس میں بڑی تعداد شادی شدہ مردوں کی ہوتی تھی اور ان کی عمریں بھی 40 یا 50 سال کے پیٹے میں ہوتی تھیں۔ وہ ہم سے مدد اس لیے مانگتے تھے کیونکہ ان کے پارٹنرز کو معلوم ہو گیا تھا کہ وہ جسم فروشوں کے ساتھ وقت گزار رہے ہیں۔‘
’لیکن اب ہمارے پاس آنے والے افراد کی عمریں 20 یا 30 سال کے پیٹے میں ہوتی ہیں اور یہ غیر شادی شدہ ہوتے ہیں۔ انھیں اندازہ ہو گیا ہے کہ ان کی زندگیوں اور رشتوں پر پورن دیکھنے کے غلط اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔‘
ایک بار شروع کریں تو پھر رُکنا مشکل کیوں
یوکیٹ گروپ سے وابستہ لی فرنینڈس کہتے ہیں کہ پورن کی لت سے پریشان افراد کی تعداد میں حالیہ برسوں میں ’بڑا اضافہ‘ دیکھنے میں آیا۔
ان کے پاس اب روزانہ مدد کے لیے درخواستیں آتی رہتی ہیں۔ سنہ 2020 سے پہلے ان کے پاس ہفتے بھر میں ایسی صرف ایک یا دو درخواستیں آیا کرتی تھیں۔
فرنینڈس کہتے ہیں کہ ٹیکنالوجی کی ترقی کے سبب لوگوں کے لیے پورن تک رسائی حاصل کرنا بہت آسان ہو چکا۔ ان کا ماننا ہے کہ یہی وجہ ہے کہ ان کے پاس مدد مانگنے آنے والوں کی تعداد بڑھ رہی ہے۔
ان کے مطابق ’اب کسی کے لیے بھی جیب سے موبائل نکالنا اور کسی ویب سائٹ پر پورن دیکھ لینا کوئی مشکل نہیں، چاہے ان کی عمر 12 سال ہو یا 60 سال۔ یہ ایک پریشان کُن بات ہے۔‘
ان کے مطابق لوگوں کی پورن دیکھنے کی عادت میں اضافے کی دیگر وجوہات بھی ہیں جیسے تجسس، بوریت، ڈپریشن یا جنسی ضروریات کے حوالے سے غیرمطمین ہونا۔
ہوسکتا ہے پورن دیکھنے کا آغاز ان وجوہات کے سبب بھی ہوتا ہو لیکن فرنینڈس کہتے ہیں یہ انتہائی آسانی سے لگ جانے والی عادت ہے۔
’آپ ایک مرتبہ اس (پورن کی عادت) کو شروع کریں تو پھر رُکنا بہت مشکل ہوجاتا ہے۔‘
یہ بھی پڑھیں: بینک آف انگلینڈ نے شرح سود میں کمی کا اعلان کردیا
’پورن اب صرف مخصوص ویب سائٹس تک محدود نہیں‘
ایک طرف پورن دیکھنے کی زیادتی کو بُری لت سمجھا جاتا ہے لیکن اس کی تشخیص اس طرح سے نہیں کی جا سکتی۔
جو لوگ پورن سے مستقل تعلق جوڑ لیتے ہیں ان پر اس کے منفی اثرات پڑتے ہیں۔
خاص طور پر وہ نوجوان جو ایک آزاد معاشرے میں رہتے ہیں ان کی پورن تک کم عمر میں رسائی کے خطرناک نتائج بھی سامنے آ سکتے ہیں۔
انگلینڈ میں چلڈرن کمشنر بچوں کے حقوق کی حفاظت کےلیے کام کرتے ہیں۔ ان کے دفتر کی جانب سے کی جانے والی حالیہ تحقیق میں یہ بات سامنے آئی کہ سنہ 2023 میں 10 فیصد بچے صرف نو برس کی عمر میں ہی پورن دیکھ چکے تھے جبکہ 27 فیصد بچے ایسے تھے جو 11 برس کی عمر میں پورن دیکھ رہے تھے۔
چلڈرن کمشنر ڈیم ریشل ڈیسوزا نے Uses in Urdu کو بتایا کہ ’نوجوان مجھے بتاتے ہیں کہ ان کی پورن تک رسائی ایک نارمل بات ہے اور اوسطاً 13 برس کی عمر میں بچے پہلی مرتبہ پورن دیکھ رہے ہوتے ہیں۔‘
’پورن اب صرف کچھ مخصوص ویب سائٹس تک محدود نہیں بلکہ بچے مجھے بتاتے ہیں کہ وہ سوشل میڈیا پر بھی پُرتشدد، تکلیف دہ اور ہتک آمیز سیکس دیکھ رہے ہوتے ہیں۔‘
’ایسا مواد دیکھنے کے نتائج بھی ایسے ہی ہوتے ہیں۔ میری تحقیق میں یہ بات سامنے آئی کہ امکان یہی ہے کہ اس طرح کا زیادہ پورن دیکھنے والے لوگ عملی زندگی میں بھی سیکس کرنے کا جارحانہ طریقہ اپناتے ہیں۔‘
ڈیسواز کہتی ہیں کہ جنسی تعلقات اور سیکس کی تعلیم کو نصاب کا حصہ بنانے کی ضرورت ہے تاکہ نوجوانوں کو آگاہی دی جا سکے کہ پورن میں نظر آنے والے مناظر غیر حقیقی عمل ہیں۔
سائیکوتھراپسٹ سلوا نیوز بھی اس بات سے اتفاق کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ کم عمر میں پورن دیکھنے سے لوگوں کی صحت پر بُرے اثرات پڑ سکتے ہیں تاہم ان کا کہنا ہے کہ سیکس سے متعلق تعلیم کی کمی کے سبب ہی نوجوان کہیں اور سے اس متعلق معلومات حاصل کرنے جاتے ہیں۔
وہ کہتے ہیں کہ ’اس کے بعد وہ بالوں سے پاک اندام نہانی اور نو انچ کے عضو تناسل دیکھ رہے ہوتے ہیں۔‘
’وہ پھر 30 منٹ پر محیط سیکس دیکھتے ہیں اور دیگر تمام چیزیں بھی دیکھتے ہیں اور سوچتے ہیں کہ ٹھیک ہے یہی سیکس ہے۔‘
لیکن ان تمام مسائل کے لیے ’پورن کی طرف انگلی اُٹھانا اور یہ کہہ دینا آسان ہے کہ پورن ہی مسئلہ ہے۔‘
26 سالہ کورٹنی ڈینیلا نے پہلی مرتبہ پرائمری سکول میں پورن دیکھا تھا۔ وہ پورن کی طرف اس لیے راغب ہوئیں کیونکہ ان کے پاس سیکس کی تعلیم کی کمی تھی۔
وہ کہتی ہیں کہ ان کے سکول میں بائیولوجی کی کلاسز میں توجہ سیکس کے تجربات کی بجائے تولیدی صحت پر رکھی جاتی تھی۔
وہ کہتی ہیں چونکہ سیکس کو بُری چیز سمجھا جاتا تھا اور اس پر بات نہیں ہوتی تھی اسی لیے ان کا تجسس بڑھا تھا۔
کورٹنی کے مطابق ’میں پھر سیکس ویڈیوز سرچ کرنے لگی۔ وہ میرے لیے ایک نیا دروازہ تھا جو ایک الگ ہی دنیا میں جا کر کھلا۔‘
یہ بھی پڑھیں: معروف پاکستانی ٹک ٹاکر مریم فیصل کی مبینہ قابل اعتراض ویڈیو لیک ہو گئی
’پورن سے غیر حقیقی توقعات وابستہ ہوئیں‘
کورٹنی نے شروع میں وقفے وقفے سے پورن دیکھنا شروع کیا۔ کبھی کبھی ویک اینڈ پر یا کبھی کبھار سکول سے پہلے لیکن پھر روزانہ پورن دیکھنا ان کے معمول میں شامل ہو گیا۔
وہ کہتی ہیں کہ ’اور پھر تب میں نے محسوس کرنا شروع کیا کہ اس کا مجھ پر منفی اثر پڑ رہا ہے کیونکہ میں اب اس کی عادی ہوتی جا رہی تھی۔‘
کورٹنی نے 18 سال کی عمر میں اپنی ورجنیٹی (کنوارہ پن) کھو دیا۔ اس ایک لمحے کو انھوں نے بہت خوفناک یاد کے طور پر بیان کیا۔
وہ کہتی ہیں کہ ’ایسا کبھی محسوس نہیں ہوا کہ حقیقی زندگی اس سے مختلف ہے جو مجھے فحش مواد دیکھنے یا خود لذتی سے ملی۔‘
کورٹنی کو بالآخر احساس ہوا کہ وہ پورن پر بہت ذیادہ اور غیر ضروری انحصار کرنے لگی ہیں۔
انھوں نے کہا کہ ’میں نے ہمیشہ اس حوالے سے اپنے اندر کشمکش پائی کہ کیا میں واقعتاً ایسا کرنے سے خود کو روک پاؤں گی اور میں نے ہمیشہ خود کو بے اختیار محسوس کیا۔‘
آخر کار اپنی عمر کی بیسویں دہائی کے اوائل میں انھوں نے فحش مواد دیکھنا چھوڑ کر اپنی سمت درست کرنے کا فیصلہ کیا۔ انھوں نے اپنے منگیتر کے ساتھ مل کر عہد کیا کہ وہ اپنی شادی ہونے تک اب فحش مواد نہیں دیکھیں گے۔
پورن کے ساتھ صحت مند تعلق رکھنا ممکن
شان کو ضرورت سے زیادہ پورن دیکھنے کی عادت نے انھیں تھکن سے دوچار کر دیا۔
’میرے خیال میں جو اثر اس (فحش مواد) نے مجھ پر ڈالا وہ یہ تھا کہ اس نے میرے آگاہی کے احساس کو تباہ کر دیا اور صرف میرے جسم اور جنسی تعلقات نہیں بلکہ میرے عضو تناسل میں بھی بگاڑ پیدا کر دیا۔‘
تاہم ماہرین کے مطابق یہ تسلیم کرنا بھی ضروری ہے کہ بہت سے لوگوں کے لیے پورن کے ساتھ صحت مند تعلق رکھنا ممکن ہے اور یہ کچھ لوگوں کے لیے فائدہ مند بھی ہوسکتا ہے۔
مثال کے طور پر برٹش بورڈ آف فلم کلاسیفیکیشن (BBFC) کی طرف سے کی گئی تحقیق سے سامنے آیا کہ پورن ایسے نوجوانوں کو خود کو بہتر طور پر سمجھنے کا موقع فراہم کرتا ہے جو اپنی جنسیت کے بارے میں غیر یقینی کیفیت کا شکار ہوتے ہیں۔
’ہمیں یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیے کہ پورن کے ساتھ غیر صحت مند تعلق صرف اس وقت ہوتا ہے جب اس کو دیکھنے اور نہ دیکھنے کے فیصلے پر کسی کا اختیار ختم ہو جائے اور فحش دیکھے بغیر وہ اپنی روزمرہ کی زندگی میں معمول کے کام انجام نہ دے سکے۔‘
ہر وہ شخص جو خود کو اس زمرے میں پائے اس سے ہماری درخواست ہو گی کہ وہ اس سے نکلنے کے لیے پیشہ ورانہ مدد حاصل کرے۔
کورٹنی کا کہنا ہے کہ ’اس نے مجھے بہت کچھ سیکھنے کا موقع دیا۔ مجھے پتا چلا کہ حقیقت پسندانہ سیکس کیا ہوتا ہے۔ میں نے اپنے جسم سے پیار کرنا سیکھا اور یہ سمجھ لیا کہ اپنا موازنہ دوسری خواتین کے جسموں سے نہیں کرنا چاہیے۔‘
’میں نے محبت کرنا سیکھی اور یہ سمجھا کہ لوگوں پر بلاوجہ اعتراض نہیں کرنا۔ انھیں صرف جنسی شے کے تناظر میں نہیں بلکہ ان کو بطور فرد دیکھنا ہے۔
’اگر میں وقت کو پیچھے لے جا سکتی تو میں پورن دیکھنا شروع نہ کرتی۔‘
شان کے لیے اس سب سے نکلنا ان کے اب تک کے بہترین فیصلوں میں سے ایک ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ اس لت کی وجہ سے میرے رابطے ختم ہو گئے۔ اب میں ان لوگوں سے جڑنے کی کوشش کر رہا ہوں جن سے میں محبت کرتا ہوں اور مجھے واقعی ان کی پروا ہے۔‘