کرم: فائرنگ سے مزید 6 افراد جاں بحق، ہلاکتیں 130 ہوگئیں
پارا چنار میں جھڑپیں جاری
پارا چنار (ڈیلی پاکستان آن لائن) ضلع کرم میں قبائل کے درمیان گیارہویں روز بھی جھڑپیں جاری ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعلیٰ کا سرکاری ہسپتالوں کے لیے نئی ادویات کی فہرست تیار کرنے کا حکم، 80 ارب روپے فراہم کر رہے ہیں، نااہل اور کام چوروں کو گھر جانا ہوگا: مریم نواز
جھڑپوں کے نتیجے میں جانی نقصان
پولیس کے مطابق جھڑپوں میں مزید 6 افراد جاں بحق اور 8 زخمی ہوگئے جس کے بعد اب ضلع کرم میں فائرنگ کے واقعات میں مرنے والے افراد کی تعداد 130 ہوگئی ہے جبکہ 186 افراد زخمی ہوچکے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: سرکاری ہسپتالوں میں سٹیٹ آف دی آرٹ ریفرل سسٹم نافذ کرنے کا فیصلہ، وزیراعلیٰ مریم نوازنے جامع پلان طلب کر لیا
سڑکوں کی بندش اور رسد کی قلت
پشاور پاراچنار مرکزی شاہراہ سمیت آمد و رفت کے راستے بند ہیں۔ ضلع کرم کی مرکزی شاہراہ اور پاک افغان خرلاچی بارڈر پر بھی آمد و رفت بند ہے۔
شاہراہوں کی بندش سے تیل، اشیائے خورونوش اور ادویات کی شدید قلت پیدا ہوگئی ہے۔
سیکیورٹی فورسز کی تعیناتی
ڈپٹی کمشنر جاوید اللہ محسود کے مطابق لوئر کرم کے مختلف مقامات پر پولیس اور سکیورٹی فورسز کے دستے تعینات ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ باقی علاقوں میں بھی آج فائر بندی کی بھرپور کوشش کی جائے گی۔








