سرکاری سکولوں میں موبائل فون کے استعمال پر پابندی عائد
محکمہ تعلیم کا نیا اقدام
راولپنڈی (ڈیلی پاکستان آن لائن) محکمہ تعلیم نے سرکاری سکولوں میں تدریسی اوقات کے دوران موبائل فون کے استعمال پر پابندی لگا دی۔
یہ بھی پڑھیں: پریذیڈنٹ ون ڈے کپ، ایس این جی پی ایل، ایشال ایسوسی ایٹس اور سٹیٹ بینک کی کامیابی
نئی گائیڈ لائنز کی تفصیلات
موقر قومی اخبار کی رپورٹ کے مطابق، ڈسپلن و شفاف تدریسی نظام کے لئے 20 نکاتی گائیڈ لائنز جاری کر دی گئی ہیں۔ ڈسٹرکٹ، تحصیل ایجوکیشن افسران اور سکول سربراہان کو ہدایت کی گئی ہے کہ ان گائیڈ لائنز پر عمل درآمد یقینی بنائیں۔
یہ بھی پڑھیں: راولپنڈی میں شادی شدہ خاتون کے قتل کا انکشاف، عدالت نے قبر کشائی کا حکم دے دیا
اساتذہ اور طلبہ کے لئے ہدایت
محکمہ تعلیم کے مراسلے کے مطابق، اساتذہ، طلبہ اور نان ٹیچنگ سٹاف تدریسی اوقات میں اپنے موبائل فون ہیڈ ٹیچر کو جمع کرائیں گے۔ سٹاف کے لئے ڈریس کوڈ اور بند شوز لازمی ہیں، اور ٹیچرز و طلبہ کو اپنے نام کا بیچ لگانا ہوگا۔
یہ بھی پڑھیں: جلاؤ گھیراؤ اور مار دو ملک کا مقدر نہیں ،دیہاتی خواتین کیلیے لائیو سٹاک پروگرام لا رہے ہیں : عظمٰی بخاری
یونیفارم کی پابندیاں
سب نیوی بلیو جرسی اور طلبہ یونیفارم پہنیں گے۔ مرکزی گیٹ پر اوقات کار کا بورڈ ہو گا، ہر کلاس کا سی آر ہوگا، اور سکول میں مختلف نعروں کے لئے تین یا چار پینافلیکس لگیں گے۔
یہ بھی پڑھیں: صدر اور وزیراعظم خود آ کر نہروں کی تعمیر کے منصوبے کو منسوخ کرنے کا اعلان کریں : ایاز لطیف پلیجو کا عوامی ریلی سے خطاب
نقصان و حاضری کے نظام
طلبہ رجسٹر استعمال کریں گے، وائٹ بورڈ کے ایک کارنر پر حاضر و غیر حاضر طلبہ اور مضمون کا خانہ ہوگا، اور پڑھایا جانے والا مضمون اور اہم نکات بورڈ پر درج کیے جائیں گے۔
روزانہ چیکنگ اور حاضری
طلبہ کے ناخن اور بال کٹنگ روزانہ چیک کی جائے گی، اساتذہ گھڑی پہنیں گے، اور اسمبلی میں ہیڈ سمیت تمام ٹیچرز کی حاضری لازمی ہوگی۔








