سرکاری سکولوں میں موبائل فون کے استعمال پر پابندی عائد
محکمہ تعلیم کا نیا اقدام
راولپنڈی (ڈیلی پاکستان آن لائن) محکمہ تعلیم نے سرکاری سکولوں میں تدریسی اوقات کے دوران موبائل فون کے استعمال پر پابندی لگا دی۔
یہ بھی پڑھیں: لاہور میں 3 روز کے دوران 54 کروڑ روپے سے زائد کی ڈور اور گڈی فروخت، کائٹ ایسوسی ایشن کا دعویٰ
نئی گائیڈ لائنز کی تفصیلات
موقر قومی اخبار کی رپورٹ کے مطابق، ڈسپلن و شفاف تدریسی نظام کے لئے 20 نکاتی گائیڈ لائنز جاری کر دی گئی ہیں۔ ڈسٹرکٹ، تحصیل ایجوکیشن افسران اور سکول سربراہان کو ہدایت کی گئی ہے کہ ان گائیڈ لائنز پر عمل درآمد یقینی بنائیں۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعلیٰ کی پنجاب یونین آف جرنلسٹ کے نومنتخب عہدیداروں کو مبارکباد
اساتذہ اور طلبہ کے لئے ہدایت
محکمہ تعلیم کے مراسلے کے مطابق، اساتذہ، طلبہ اور نان ٹیچنگ سٹاف تدریسی اوقات میں اپنے موبائل فون ہیڈ ٹیچر کو جمع کرائیں گے۔ سٹاف کے لئے ڈریس کوڈ اور بند شوز لازمی ہیں، اور ٹیچرز و طلبہ کو اپنے نام کا بیچ لگانا ہوگا۔
یہ بھی پڑھیں: دریائے ستلج میں پانی کی سطح میں مسلسل اضافے کے باعث قصور شہر خطرے میں آگیا
یونیفارم کی پابندیاں
سب نیوی بلیو جرسی اور طلبہ یونیفارم پہنیں گے۔ مرکزی گیٹ پر اوقات کار کا بورڈ ہو گا، ہر کلاس کا سی آر ہوگا، اور سکول میں مختلف نعروں کے لئے تین یا چار پینافلیکس لگیں گے۔
یہ بھی پڑھیں: چین کے نئی نسل کے ایٹمی ری ایکٹر نے ایک ہزار دنوں کا فعال آپریشن مکمل کرلیا
نقصان و حاضری کے نظام
طلبہ رجسٹر استعمال کریں گے، وائٹ بورڈ کے ایک کارنر پر حاضر و غیر حاضر طلبہ اور مضمون کا خانہ ہوگا، اور پڑھایا جانے والا مضمون اور اہم نکات بورڈ پر درج کیے جائیں گے۔
روزانہ چیکنگ اور حاضری
طلبہ کے ناخن اور بال کٹنگ روزانہ چیک کی جائے گی، اساتذہ گھڑی پہنیں گے، اور اسمبلی میں ہیڈ سمیت تمام ٹیچرز کی حاضری لازمی ہوگی۔








