سرکاری سکولوں میں موبائل فون کے استعمال پر پابندی عائد
محکمہ تعلیم کا نیا اقدام
راولپنڈی (ڈیلی پاکستان آن لائن) محکمہ تعلیم نے سرکاری سکولوں میں تدریسی اوقات کے دوران موبائل فون کے استعمال پر پابندی لگا دی۔
یہ بھی پڑھیں: تمباکو وبا سنگین ہو گئی، ہر سال ایک لاکھ 64ہزار پاکستانیوں کی موت کی وجہ اور سالانہ 700 ارب روپے معاشی نقصان کا انکشاف
نئی گائیڈ لائنز کی تفصیلات
موقر قومی اخبار کی رپورٹ کے مطابق، ڈسپلن و شفاف تدریسی نظام کے لئے 20 نکاتی گائیڈ لائنز جاری کر دی گئی ہیں۔ ڈسٹرکٹ، تحصیل ایجوکیشن افسران اور سکول سربراہان کو ہدایت کی گئی ہے کہ ان گائیڈ لائنز پر عمل درآمد یقینی بنائیں۔
یہ بھی پڑھیں: ماضی کو بھلانا ہوگا، مستقبل کا سوچنا ہوگا، ترجیح ہمارا صوبہ ہونا چاہیے: فیصل کریم کنڈی
اساتذہ اور طلبہ کے لئے ہدایت
محکمہ تعلیم کے مراسلے کے مطابق، اساتذہ، طلبہ اور نان ٹیچنگ سٹاف تدریسی اوقات میں اپنے موبائل فون ہیڈ ٹیچر کو جمع کرائیں گے۔ سٹاف کے لئے ڈریس کوڈ اور بند شوز لازمی ہیں، اور ٹیچرز و طلبہ کو اپنے نام کا بیچ لگانا ہوگا۔
یہ بھی پڑھیں: نواز شریف اور وزیراعلیٰ مریم نواز سے سعودی عرب کے سفیر نواف بن سعید المالکی کی اہم ملاقات
یونیفارم کی پابندیاں
سب نیوی بلیو جرسی اور طلبہ یونیفارم پہنیں گے۔ مرکزی گیٹ پر اوقات کار کا بورڈ ہو گا، ہر کلاس کا سی آر ہوگا، اور سکول میں مختلف نعروں کے لئے تین یا چار پینافلیکس لگیں گے۔
یہ بھی پڑھیں: 26 ویں آئینی ترمیم پارلیمنٹ کی بالا دستی کیلئے ضروری تھی:مریم نواز
نقصان و حاضری کے نظام
طلبہ رجسٹر استعمال کریں گے، وائٹ بورڈ کے ایک کارنر پر حاضر و غیر حاضر طلبہ اور مضمون کا خانہ ہوگا، اور پڑھایا جانے والا مضمون اور اہم نکات بورڈ پر درج کیے جائیں گے۔
روزانہ چیکنگ اور حاضری
طلبہ کے ناخن اور بال کٹنگ روزانہ چیک کی جائے گی، اساتذہ گھڑی پہنیں گے، اور اسمبلی میں ہیڈ سمیت تمام ٹیچرز کی حاضری لازمی ہوگی۔








