پی ٹی آئی کے احتجاجی مظاہرین نے برازیلی ساختہ آنسو گیس کے شیل پولیس پر برسائے، ڈی پی او اٹک کا دعویٰ
راولپنڈی میں پی ٹی آئی کا احتجاج
راولپنڈی (ڈیلی پاکستان آن لائن) ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر (ڈی پی او) اٹک ڈاکٹر غیاث گل نے دعویٰ کیا ہے کہ پی ٹی آئی کے احتجاجی مظاہرین نے برازیلی ساختہ آنسو گیس کے شیل پولیس پر برسائے۔
یہ بھی پڑھیں: ستاروں کی روشنی میں آپ کا آج (پیر) کا دن کیسا رہے گا ؟
برازیلی آنسو گیس کے شیل کا انکشاف
راولپنڈی پولیس لائنز میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ برازیلی ساختہ آنسو گیس کے شیل پاکستان میں موجود ہی نہیں، وہ انہوں نے درآمد کئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: میو ہسپتال میں نرسنگ افسران پر کرپشن الزامات، محکمہ صحت کی تحقیقات شروع
مظاہرین کے اثرات
ڈی پی او نے کہا کہ اٹک میں مظاہرین کا ایک شخص بھی زخمی نہیں ہوا، جبکہ 26 نومبر کی رات کو پولیس پر فائرنگ کی گئی لیکن ہم نے جانفشانی سے معاملے کو سنبھالا۔
یہ بھی پڑھیں: صحافی مطیع اللہ جان سے منشیات کے چارجز ختم کرنے کی استدعا، فیصلہ محفوظ
پولیس کی قابلیت
انہوں نے بتایا کہ برازیلی ساختہ آنسو گیس کے شیلز پولیس کے پاس موجود شیلز سے 3 سے 4 گنا زیادہ تیز ہیں، اور مظاہرین کے ہینڈلرز پولیس کی وائرلیس فریکوئینسی متاثر کرتے رہے۔
یہ بھی پڑھیں: صدر مملکت نے نہال ہاشمی کو گورنر سندھ تعینات کرنے کی منظوری دے دی
اخلاقی گراوٹ کا ذکر
انہوں نے کہا کہ پتلون کے ساتھ تصویر بنا کر شہد اور غازیوں کی تذلیل کی جارہی ہے، اور یہ بدقسمتی ہے کہ آج ہم کس قدر اخلاقی گراوٹ کا شکار ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: بارسلونا میں عمران خان کی کال پر احتجاجی مظاہرہ
گرفتار مظاہرین کا ریکارڈ
ڈی پی او نے بتایا کہ گرفتار مظاہرین عسکری ونگ کے کارندے ہیں، جنہوں نے پولیس پر فائرنگ کی، اور ان مظاہرین میں سے 89 ایسے ہیں جن کا پاکستان میں کوئی ریکارڈ نہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ایران نے امریکہ اور اسرائیل کی دھمکیوں کا جواب دے دیا
کیمیائی مواد کی موجودگی
انہوں نے مزید کہا کہ مظاہرین کی گاڑیوں میں موجود کین میں کیمیکل موجود تھا، اور اندازہ لگایا گیا ہے کہ 8 فیصد لوگ مظاہرین میں ایسے تھے جو مظاہرین پر حملوں میں ملوث تھے۔
یہ بھی پڑھیں: فیض حمید کے خلاف کارروائی 14 دسمبر سے پہلے شروع ہو جائے گی، فیصل واوڈا کا دعویٰ
منظم عسکری عناصر
انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کے احتجاجی مظاہرین میں شامل عسکری سکواڈ کے نمائندے 500،500 کی ٹولیوں میں چل رہے تھے، اور یہ لوگ 3 سے 4 منٹ میں پہاڑوں پر چڑھنے کی صلاحیت رکھتے تھے۔
یہ بھی پڑھیں: آپریشن ”بنیان مرصوص“ کی تاریخی کامیابی پر ملک بھر میں یوم تشکر
پولیس کے خلاف مہلک طاقت کا استعمال
ڈی پی او نے کہا کہ غازی بروتھا کے مقام پر جیٹ انجن کے ذریعے پولیس پر آنسو گیس چلائی گئی، اور پولیس مظاہرین کے خلاف مہلک طاقت کا استعمال نہیں کرسکتی۔
پولیس اہلکاروں کی حفاظت
ڈی پی او نے کہا کہ پی ٹی آئی تین بار احتجاج کرتے ہوئے اٹک میں آئی ہے، جس کے نتیجے میں 250 پولیس اہلکار زخمی ہوئے ہیں۔ ان اہلکاروں کی فیملیز ہیں، اور ہم کس کس کو جواب دیں گے؟








