وہ بدقسمت گھر جس میں ایک ہفتے میں 22 بار آگ لگ گئی، خوف و ہراس پھیل گیا
پراسرار آگ کے واقعات
چندی گڑھ (ڈیلی پاکستان آن لائن) بھارتی ریاست ہریانہ کے ضلع سونی پت کے ایک گاؤں میں ایک حیران کن واقعہ سامنے آیا ہے، جہاں ایک کسان کے گھر میں مسلسل پراسرار آگ لگنے کے واقعات نے خوف و ہراس پھیلا دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: خوابوں کی تکمیل کیلئے گھر چھوڑ کر بھاگی تھی: شہناز گل
کسان کے گھر میں آتشزدگی کا سلسلہ
آٹھ دنوں میں کسان کے گھر میں 22 بار آگ لگ چکی ہے، جس نے نہ صرف متاثرہ خاندان بلکہ پورے علاقے کو پریشان کر دیا ہے۔ بھارتی ٹی وی نیوز 18 کے مطابق گھر کے مختلف حصوں میں میز، کپڑے اور دیگر اشیاء بار بار آگ کی لپیٹ میں آ جاتی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: امریکی وفد کب پاکستان پہنچے گا اور اس میں کون کون شامل ہو گا؟ ذرائع نے اہم تفصیلات شیئر کر دیں۔
مالی نقصان اور پریشانی
یہاں تک کہ ایک بند تجوری میں رکھی ہوئی چاندی کے زیورات بھی شدید گرمی کی وجہ سے پگھل گئے۔ متاثرہ خاندان سخت پریشانی کا شکار ہے اور راتوں کو جاگنے پر مجبور ہے تاکہ اس پراسرار صورتحال سے نمٹ سکے۔
یہ بھی پڑھیں: ٹرمپ مسئلہ کشمیر حل کرنے کیلئے اقدام کریں، یہ دو ملکوں میں نیوکلیئرفلیش پوائنٹ ہے: پاکستانی سفیر
علاقے میں خوف و ہراس
سونی پت کے فارمنا گاؤں میں کسان ہری کشن کے گھر میں اچانک لگنے والی آگ کے واقعات نے پورے گاؤں میں خوف و ہراس پھیلا دیا ہے۔ آگ کی پراسرار نوعیت نے مقامی لوگوں میں خوف پیدا کر دیا ہے، جس کی وجہ سے وہ کسان کے گھر سے کوئی بھی سامان لینے سے گریز کر رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان میں پیٹرول کی بڑھتی ہوئی قیمتیں اور اصل حقیقت
تحقیقات اور حالات
تحقیقات کے باوجود ان آگ کے واقعات کی کوئی حتمی وجہ سامنے نہیں آ سکی، جس کی وجہ سے خوفزدہ خاندان کے پاس اس پراسرار آگ کا کوئی جواب نہیں۔ خاندان کا کہنا ہے کہ کوئی بھی ان کے گھر سے متاثرہ سامان اور ملبہ ہٹانے کے لیے تیار نہیں ہے۔
یہ بھی پڑھیں: کیڈٹ کالج جعفرآباد میں یومِ والدین کی شاندار تقریب، آئی جی ایف سی کی شرکت
معاشی مشکلات
خاندان کے افراد نے بتایا کہ ان کے پاس آٹھ بھینسیں ہیں، جن کے دودھ کی فروخت ان کی آمدنی کا بنیادی ذریعہ ہے۔ تاہم، اس وقت صرف دو بھینسیں دودھ دے رہی ہیں اور گاؤں والوں نے ان سے دودھ خریدنا بند کر دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بدعنوانی کے خاتمے کیلیے زیرو ٹالرنس پالیسی اپنائی
خطرات اور خدشات
خاندان کے افراد نے انکشاف کیا کہ وہ رات کو سخت پریشانی کا سامنا کرتے ہیں، خاص طور پر جب بچے سو رہے ہوتے ہیں۔ آگ کے خطرات اور خاندان کی سلامتی کے حوالے سے خدشات بڑھ گئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: تحریک انصاف نے 24نومبر کا احتجاج منسوخ کرنے پر غور شروع کر دیا، سینئر صحافی کا بڑا دعویٰ
سائنسی یا توہم پرستی؟
کچھ لوگ ان واقعات کو توہم پرستی قرار دے رہے ہیں، جبکہ دیگر ان کے پیچھے قدرتی یا سائنسی وجوہات کی تلاش کی حمایت کر رہے ہیں۔ متاثرہ خاندان کا دعویٰ ہے کہ جب انہوں نے ابتدائی طور پر آگ لگنے کے واقعات کی ویڈیوز اپنے موبائل فونز پر ریکارڈ کیں تو آگ خود بخود بجھ جاتی تھی۔
پولیس کی مداخلت کا مطالبہ
خاندان نے پولیس سے مطالبہ کیا ہے کہ ان غیر معمولی واقعات کی تحقیقات کے لیے ایک فرانزک ماہرین کی ٹیم کو شامل کیا جائے۔








