اک انقلابِ خونیں کی دیتا ہوں میں نوید۔۔۔
مہرِ فلک کی بے خبری
مہرِ فلک کو اِس کی بھی شاید خبر نہ ہو
دُودِ چراغِ شب ہی عدوۓ سحر نہ ہو
یہ بھی پڑھیں: بانی پی ٹی آئی سے ملاقاتیں ہوں گی تو سب کچھ تسلی بخش ہوگا: بیرسٹر گوہر
رقیب کی معلومات
خبریں یہ کیسے ملتی ہیں میرے رقیب کو
یہ نامہ بر رقیب کے زیرِ اثر نہ ہو
یہ بھی پڑھیں: اسلام آباد میں بہادر خاتون نے کار چور کو دبوچ کر واردات ناکام بنادی
دل کی حالت
کھِلتے نہیں ہیں دامنِ دل میں گلِ جنوں
جب تک کہ اشکِ خونیں میں سوزِ جگر نہ ہو
یہ بھی پڑھیں: انصاف کو عام کیا جائے، چاہتے ہیں ملک میں امن و سکون ہو: شیخ رشید
زندگی کی تعریف
اُس زندگی کو زندگی میں کس طرح کہوں
جو زندگی کہ یاد میں تیری بسر نہ ہو
یہ بھی پڑھیں: برطانوی وزیر اعظم کل سے چین کا دورہ کریں گے
انقلاب کی نوید
اک انقلابِ خونیں کی دیتا ہوں میں نوید
ممکن نہیں نظام یہ زیرو زبر نہ ہو
یہ بھی پڑھیں: عجیب سا گزر رہا ہے یہ نومبر۔۔۔
نصیب کی بات
جاگیں نصیب کیسے کہو کُچھ تو رہبرو
جس نسلِ بد نصیب میں اک دیدہ ور نہ ہو
رقصِ شرر
چنگاریاں سی اُٹھتی ہیں سینے میں جعفری
خاکسترِ فسردہ میں رقصِ شرر نہ ہو
کلام :ڈاکٹر مقصود جعفری (نیو یارک)








