اک انقلابِ خونیں کی دیتا ہوں میں نوید۔۔۔
مہرِ فلک کی بے خبری
مہرِ فلک کو اِس کی بھی شاید خبر نہ ہو
دُودِ چراغِ شب ہی عدوۓ سحر نہ ہو
یہ بھی پڑھیں: ایجی ٹیشن کی سیاست کا کبھی قائل نہ تھا، قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے حمایت اور مخالفت کی جانی چاہیے، اور وہ ہاتھا پائی پر آگئے۔
رقیب کی معلومات
خبریں یہ کیسے ملتی ہیں میرے رقیب کو
یہ نامہ بر رقیب کے زیرِ اثر نہ ہو
یہ بھی پڑھیں: این ڈی ایم اے نے بارشوں اور سیلاب سے نقصانات کی رپورٹ جاری کر دی
دل کی حالت
کھِلتے نہیں ہیں دامنِ دل میں گلِ جنوں
جب تک کہ اشکِ خونیں میں سوزِ جگر نہ ہو
یہ بھی پڑھیں: گورنر سندھ کامران ٹیسوری سے متحدہ عرب امارات کے سفیر حماد عبید الزہبی کی ملاقات
زندگی کی تعریف
اُس زندگی کو زندگی میں کس طرح کہوں
جو زندگی کہ یاد میں تیری بسر نہ ہو
یہ بھی پڑھیں: کیپٹن کرنل شیر خان شہید نے ثابت کیا وطن کی حرمت ہر چیز سے مقدم ہے: وزیر اعلیٰ مریم نواز
انقلاب کی نوید
اک انقلابِ خونیں کی دیتا ہوں میں نوید
ممکن نہیں نظام یہ زیرو زبر نہ ہو
یہ بھی پڑھیں: سیانے کہتے ہیں مشکل وقت آئے تو سائیڈ پر ہو جاؤ، آ گے جیسا آپ مناسب سمجھیں، وہ خوش دلی سے ملے، کہنے لگے ”تمھیں ایک آفر دیتا ہوں“
نصیب کی بات
جاگیں نصیب کیسے کہو کُچھ تو رہبرو
جس نسلِ بد نصیب میں اک دیدہ ور نہ ہو
رقصِ شرر
چنگاریاں سی اُٹھتی ہیں سینے میں جعفری
خاکسترِ فسردہ میں رقصِ شرر نہ ہو
کلام :ڈاکٹر مقصود جعفری (نیو یارک)








