اک انقلابِ خونیں کی دیتا ہوں میں نوید۔۔۔
مہرِ فلک کی بے خبری
مہرِ فلک کو اِس کی بھی شاید خبر نہ ہو
دُودِ چراغِ شب ہی عدوۓ سحر نہ ہو
یہ بھی پڑھیں: آئینی ترمیم میں ایسی کوئی بات شامل نہیں جس سے انصاف کا معیار اچھا ہو، مفتاح اسماعیل
رقیب کی معلومات
خبریں یہ کیسے ملتی ہیں میرے رقیب کو
یہ نامہ بر رقیب کے زیرِ اثر نہ ہو
یہ بھی پڑھیں: وزیر خارجہ اسحاق ڈار کا ازبک ہم منصب سے رابطہ، علاقائی صورتحال پر تبادلہ خیال
دل کی حالت
کھِلتے نہیں ہیں دامنِ دل میں گلِ جنوں
جب تک کہ اشکِ خونیں میں سوزِ جگر نہ ہو
یہ بھی پڑھیں: نیچے کسی کا گھر ہے، اوپر اجازت کے بغیر آپ نہیں جاسکتے، تین بجے تک میرے ساتھ رابطے میں رہی : صحافی ہرمیت سنگھ
زندگی کی تعریف
اُس زندگی کو زندگی میں کس طرح کہوں
جو زندگی کہ یاد میں تیری بسر نہ ہو
یہ بھی پڑھیں: نشے کی لت میں پڑنے والے ظالم باپ نے 6ماہ کے بیٹے کا گلہ کاٹ دیا
انقلاب کی نوید
اک انقلابِ خونیں کی دیتا ہوں میں نوید
ممکن نہیں نظام یہ زیرو زبر نہ ہو
یہ بھی پڑھیں: وزیر اعلیٰ کا جنوبی پنجاب کے لیے خوشیوں بھرا پیغام
نصیب کی بات
جاگیں نصیب کیسے کہو کُچھ تو رہبرو
جس نسلِ بد نصیب میں اک دیدہ ور نہ ہو
رقصِ شرر
چنگاریاں سی اُٹھتی ہیں سینے میں جعفری
خاکسترِ فسردہ میں رقصِ شرر نہ ہو
کلام :ڈاکٹر مقصود جعفری (نیو یارک)








