بانی پی ٹی آئی نے کہا آخری پتہ باقی ہے، ابھی استعمال نہیں کروں گا: علیمہ خان
علیمہ خان کی بیان پر روشنی
راولپنڈی(ڈیلی پاکستان آن لائن) بانی پی ٹی آئی کی بہن علیمہ خان کا کہنا ہے کہ گولی کیوں چلی اس کی معافی نہیں ملے گی۔ میں لوگوں کو روکنے میں ناکام رہی، بشری بی بی نے قیادت کی، اور باقی رہنماؤں کو بھی آگے آنا چاہیے تھا۔
یہ بھی پڑھیں: ڈیرہ غازی خان میں علاقائی دفتر کا افتتاح، دور دراز علاقوں میں عوام کو انصاف فراہم کر رہے ہیں: وفاقی محتسب
بانی پی ٹی آئی کا ردعمل
علیمہ خان کے مطابق، بانی پی ٹی آئی ڈی چوک کے واقعے پر شاک میں ہیں اور انہوں نے کہا ہے کہ سب سے پہلی ایف آئی آر محسن نقوی اور شہباز شریف کے خلاف کرو۔ بانی نے کہا کہ میرے پاس ایک لازمی کارڈ ہے جسے ابھی استعمال نہیں کروں گا، سانحہ ڈی چوک پر سپریم کورٹ اور بین الاقوامی اداروں کے پاس رپورٹ لے کر جائیں گے۔
یہ بھی پڑھیں: پچھلے سال کے مقابلے موجودہ بجٹ میں ٹیکس کم کئے، وزیر خزانہ
میڈیا سے گفتگو
روزنامہ امت کے مطابق، اڈیالہ جیل کے باہر میڈیا سے گفتگو میں علیمہ خان نے مزید کہا کہ کسی نے کہا کہ بانی کو زہر دیا جا رہا ہے جبکہ کسی نے کہا کہ ان کی ذہنی صحت خراب ہے۔ ملاقات کے دوران بانی نے کہا میری صحت بالکل ٹھیک ہے، انہیں 50 گھنٹے تک بند رکھا گیا، اور اخبار اور ٹی وی کی سہولت واپس لے لی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: عمران خان کی 6 اور بشریٰ بی بی کی ایک مقدمے میں عبوری ضمانتوں میں توسیع
سانحہ اسلام آباد کا ذکر
علیمہ خان کے مطابق، سانحہ اسلام آباد پر بانی نے کہا کہ وہ بہت زیادہ شاک میں تھے۔ انہیں یہ بھی بتایا گیا کہ 12 لاشیں صرف اس لئے ہیں کہ بہت سے لوگ لاپتا اور جیلوں میں ہیں۔ لواحقین کی ایک بڑی تعداد اپنے بچوں کو تلاش کر رہی ہے، جبکہ بہت سی لاشیں ابھی تک لاپتا ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ٹرمپ نے بھارتی نژاد کو ایف بی آئی کا سربراہ نامزد کردیا
ہسپتالوں کی صورتحال
بانی نے کہا کہ سب کو ہسپتال جانا چاہئے لیکن انہیں بتایا گیا کہ جو ہسپتال جاتا ہے اسے اٹھا لیا جاتا ہے۔ ہمارے لوگ آئینی حق استعمال کر رہے تھے، یہ جو ظلم ہوا ہے، لوگوں کو بلا کر دن میں سنائپر سے گولیاں مروائی گئیں اور رات میں پوری بریگیڈ بلا کر حملہ کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: ایران نے امریکا اور اسرائیل کے خلاف جوابی کارروائی کو ’’آپریشن وعدہ صادق 4‘‘ کا نام دے دیا
ماضی کے واقعات سے تشبیہ
بانی نے مزید کہا کہ یہ بالکل لال مسجد اور اکبر بگٹی جیسا آپریشن ہے، بعد میں غصہ بڑھ گیا تھا، اور اب بھی غصہ برقرار ہے۔ 9 مئی کے مسئلے پر بھی لوگ شاک میں تھے، پہلے 8 فروری کو لوگوں کا حق چھینا گیا اور اب یہ ظلم بھرا واقعہ ہوا تو لوگوں میں شدید غصہ ہے۔
لہو بہا کا بیان
علیمہ خان نے کہا کہ جب سنائپر سے فائرنگ ہوئی تو لاشیں پڑی تھیں۔ ہم نے کہا تھا کہ کنٹینرز سے کال دیں کہ مظاہرین پیچھے چلے جائیں، مگر کسی نے یہ نہیں سوچا کہ یہاں گولیاں ماریں گے۔ میں لوگوں سے کہہ رہی تھی کہ پیچھے ہٹ جائیں گولیاں چل رہی ہیں، لیکن لوگ آگے بڑھ رہے تھے۔ اب بھی یہ سوال موجود ہے کہ گولی کیوں چلی؟








