بانی پی ٹی آئی نے کہا آخری پتہ باقی ہے، ابھی استعمال نہیں کروں گا: علیمہ خان
علیمہ خان کی بیان پر روشنی
راولپنڈی(ڈیلی پاکستان آن لائن) بانی پی ٹی آئی کی بہن علیمہ خان کا کہنا ہے کہ گولی کیوں چلی اس کی معافی نہیں ملے گی۔ میں لوگوں کو روکنے میں ناکام رہی، بشری بی بی نے قیادت کی، اور باقی رہنماؤں کو بھی آگے آنا چاہیے تھا۔
یہ بھی پڑھیں: لاہور ہائی کورٹ نے مبینہ اغوا شدہ خاتون کو زندہ یا مردہ برآمد کر کے پیش کرنے کا حکم دیدیا
بانی پی ٹی آئی کا ردعمل
علیمہ خان کے مطابق، بانی پی ٹی آئی ڈی چوک کے واقعے پر شاک میں ہیں اور انہوں نے کہا ہے کہ سب سے پہلی ایف آئی آر محسن نقوی اور شہباز شریف کے خلاف کرو۔ بانی نے کہا کہ میرے پاس ایک لازمی کارڈ ہے جسے ابھی استعمال نہیں کروں گا، سانحہ ڈی چوک پر سپریم کورٹ اور بین الاقوامی اداروں کے پاس رپورٹ لے کر جائیں گے۔
یہ بھی پڑھیں: سانگھڑ: کپڑے دھوتے تالاب میں ڈوب کر 3 خواتین جاں بحق
میڈیا سے گفتگو
روزنامہ امت کے مطابق، اڈیالہ جیل کے باہر میڈیا سے گفتگو میں علیمہ خان نے مزید کہا کہ کسی نے کہا کہ بانی کو زہر دیا جا رہا ہے جبکہ کسی نے کہا کہ ان کی ذہنی صحت خراب ہے۔ ملاقات کے دوران بانی نے کہا میری صحت بالکل ٹھیک ہے، انہیں 50 گھنٹے تک بند رکھا گیا، اور اخبار اور ٹی وی کی سہولت واپس لے لی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: کراچی: کمسن پر بدترین تشدد کرنے والا گرفتار
سانحہ اسلام آباد کا ذکر
علیمہ خان کے مطابق، سانحہ اسلام آباد پر بانی نے کہا کہ وہ بہت زیادہ شاک میں تھے۔ انہیں یہ بھی بتایا گیا کہ 12 لاشیں صرف اس لئے ہیں کہ بہت سے لوگ لاپتا اور جیلوں میں ہیں۔ لواحقین کی ایک بڑی تعداد اپنے بچوں کو تلاش کر رہی ہے، جبکہ بہت سی لاشیں ابھی تک لاپتا ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: لڑکوں کے بعد اب پاکستان اور بھارت کی لڑکیاں 5 اکتوبر کو کرکٹ کے میدان میں آمنے سامنے ہوں گی
ہسپتالوں کی صورتحال
بانی نے کہا کہ سب کو ہسپتال جانا چاہئے لیکن انہیں بتایا گیا کہ جو ہسپتال جاتا ہے اسے اٹھا لیا جاتا ہے۔ ہمارے لوگ آئینی حق استعمال کر رہے تھے، یہ جو ظلم ہوا ہے، لوگوں کو بلا کر دن میں سنائپر سے گولیاں مروائی گئیں اور رات میں پوری بریگیڈ بلا کر حملہ کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: عرب حکمرانوں کی شکار کے لیے پاکستان آمد، مقامی زمینداروں اور انتظامیہ کی اوچھی حرکات، سابق آئی جی ذوالفقار احمد چیمہ نے آشکار کر دیں
ماضی کے واقعات سے تشبیہ
بانی نے مزید کہا کہ یہ بالکل لال مسجد اور اکبر بگٹی جیسا آپریشن ہے، بعد میں غصہ بڑھ گیا تھا، اور اب بھی غصہ برقرار ہے۔ 9 مئی کے مسئلے پر بھی لوگ شاک میں تھے، پہلے 8 فروری کو لوگوں کا حق چھینا گیا اور اب یہ ظلم بھرا واقعہ ہوا تو لوگوں میں شدید غصہ ہے۔
لہو بہا کا بیان
علیمہ خان نے کہا کہ جب سنائپر سے فائرنگ ہوئی تو لاشیں پڑی تھیں۔ ہم نے کہا تھا کہ کنٹینرز سے کال دیں کہ مظاہرین پیچھے چلے جائیں، مگر کسی نے یہ نہیں سوچا کہ یہاں گولیاں ماریں گے۔ میں لوگوں سے کہہ رہی تھی کہ پیچھے ہٹ جائیں گولیاں چل رہی ہیں، لیکن لوگ آگے بڑھ رہے تھے۔ اب بھی یہ سوال موجود ہے کہ گولی کیوں چلی؟








