پی ٹی آئی احتجاج :وزیراعلیٰ پنجاب کی شہید کانسٹیبل کے ورثا کو 2.9 کروڑ، زخمیوں کو 10 لاکھ دینے کی منظوری
پنجاب حکومت کا خصوصی پیکیج
لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) پنجاب حکومت نے پی ٹی آئی کے پرتشدد احتجاج میں شہید و زخمی ہونے والے سکیورٹی اہلکاروں کے لئے خصوصی پیکیج کا اعلان کردیا۔
یہ بھی پڑھیں: اکشے کھنا اور کرشمہ کپور کی شادی ہوتے ہوتے کیوں رہ گئی تھی؟
کابینہ کا اجلاس
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نوازشریف کی زیر صدارت صوبائی کابینہ کے اجلاس میں پی ٹی آئی احتجاج کے دوران پولیس اور رینجرز پر بے رحمانہ حملوں کی شدید مذمت کی گئی اور شہید سکیورٹی اہلکاروں کے لئے فاتحہ خوانی کی گئی۔
یہ بھی پڑھیں: بانی پی ٹی آئی سے ملاقات نہ کرانے پر علی امین گنڈاپور کی توہین عدالت کی درخواست پر جیل حکام سے جواب طلب
مالی امداد کی منظوری
پنجاب کابینہ نے پولیس کے شہید کانسٹیبل کے لئے مجموعی طور پر 2 کروڑ 90 لاکھ روپے اور زخمی ہونے والے پولیس اور رینجرز اہلکاروں کے لئے 10 لاکھ روپے کے پیکیج کی منظوری دی۔
یہ بھی پڑھیں: مشکل کی اس گھڑی میں سیلاب زدگان کو تنہا نہیں چھوڑیں گے: صوبائی وزیر سہیل شوکت بٹ
وزیراعلیٰ کا بیان
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے کہا کہ پی ٹی آئی ورکرز کے تشدد سے شہید کانسٹیبل کے چھوٹے چھوٹے بچے ہیں، بے رحمانہ تشدد سے 172 پولیس اہلکار زخمی ہوئے، جن میں بیشتر کی حالت نازک ہے۔ سی ایم ایچ راولپنڈی میں زیر علاج زخمی اہلکاروں کی حالت دیکھ کر شرم آتی ہے کہ مارنے والے ہمارے لوگ ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: شدید گرمی اور لوڈشیڈنگ کے باوجود عید پر قربانی کا گوشت کیسے محفوظ کر سکتے ہیں؟ ماہرین نے بتا دیا۔
تشدد کی شدت کا ذکر
مریم نواز نے کہا کہ زخمیوں کو دیکھ کر پی ٹی آئی کے متشدد ورکرز کی بربریت کا اندازہ ہوا۔ کیلوں والے ڈنڈوں اور رائفل کے بٹ سے جتھوں نے سکیورٹی اہلکاروں کو الگ الگ کرکے مارا۔ بے رحمانہ تشدد سے زیر علاج اہلکاروں کی کھوپڑیاں، ٹانگیں اور بازو فریکچر ہوئے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستانی سفارتخانہ ابو ظہبی کی خصوصی نشست: “پشاور سے بخارا تک افغان سلطنت کی خواتین سکالرز کی زندگیاں”
متاثرہ اہلکاروں کی حالت
انہوں نے کہا کہ ایس پی کو کیلوں والے ڈنڈوں سے اس قدر بے رحمی سے مارا گیا کہ اس کی کھوپڑی اور دماغ میں چوٹ آئی اور آنکھ سوج گئی۔ زندگی میں کبھی ایسی بربریت اور ظلم و تشدد کا مظاہرہ نہیں دیکھا۔ ایک پولیس اہلکار کو قریب سے گولی ماری گئی، جو اس کے جسم کے آر پار ہوگئی۔
سکیورٹی کے نئے انتظامات
انہوں نے کہا کہ پنجاب میں 10 ہزار تربیت یافتہ سکیورٹی اہلکاروں کی انسداد فسادات کے لئے خصوصی فورس قائم کی جائے گی۔ ڈیرہ غازی خان اور میانوالی چیک پوسٹوں پر حملے بڑھ گئے ہیں، وزیر اعلیٰ نے سکیورٹی انتظامات بہتر بنانے کی ہدایت کردی۔








