کسی اور خاتون کے ساتھ نا جائز تعلقات، دلہن کے اہلخانہ نے دولہے کو یرغمال بنالیا

انوکھی شادی کا واقعہ
ممبئی(ڈیلی پاکستان آن لائن) بھارتی ریاست اترپردیش میں شادی کی ایک تقریب کے دوران ایک عجیب واقعہ پیش آیا۔ دلہن کے اہلخانہ نے دولہے کو یرغمال بنالیا اور اس سے شادی کے اخراجات کی واپسی کا مطالبہ کردیا۔ دلہن کے اہل خانہ نے الزام عائد کیا کہ دولہا کسی اور عورت کے ساتھ تعلقات میں ہے، جس کے باعث شادی منسوخ کردی گئی۔
یہ بھی پڑھیں: تحریک انصاف نے 24نومبر کا احتجاج منسوخ کرنے پر غور شروع کر دیا، سینئر صحافی کا بڑا دعویٰ
دولہے کی گمشدگی
بھارتی میڈیا کے مطابق ایودھیا کا رہائشی دولہا سہن لال یادیو شادی سے کچھ دن پہلے غائب ہوگیا تھا۔ دولہے کے اہل خانہ نے ان کی گمشدگی کی رپورٹ درج کروائی جبکہ دلہن کے اہل خانہ بے خبر رہ کر شادی کی تیاریاں کرتے رہے۔ شادی کی رات مہمان پہنچے مگر دولہا غائب رہا۔
یہ بھی پڑھیں: راستے بند ، تحریک انصاف نے حکمت عملی بدل لی ، لاہور اور دیگر شہروں میں احتجاج کیسے ریکارڈ کروایا جائے گا ؟اہم تفصیلات سامنے آ گئیں
پولیس کی مداخلت
بعد ازاں پولیس کی مداخلت پر دلہن کے اہل خانہ کو تھانے بلایا گیا، جہاں انہیں حقیقت کا پتہ چلا۔ پولیس کے دباؤ کے بعد دولہا شادی کے لیے تیار ہوا اور رات ڈھائی بجے بارات لے کر دلہن کے گھر پہنچا۔ مگر دلہن کے اہل خانہ، جنہیں دولہے کے کسی اور لڑکی سے تعلقات کا پتہ چل چکا تھا، انہوں نے شادی سے انکار کر دیا اور اخراجات کی واپسی تک دولہے کو جانے نہیں دیا۔
یہ بھی پڑھیں: 404 Not Found
دولہے کا موقف
دولہا سہن لال کا کہنا تھا کہ کوئی مسئلہ نہیں تھا، ہم صرف دیر سے پہنچے۔ دلہن والے اب شادی سے انکار کر رہے ہیں اور اخراجات کی واپسی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ مجھے جانے نہیں دے رہے۔ سہن لال نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ وہ لاپتہ نہیں تھا بلکہ لکھنؤ میں تھا اور اس کا فون خراب ہوگیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: 24 نومبر کو غلامی سے نجات کےلیے نکلنا ہے، علیمہ خان کا بیان
دلہن کے والد کا ردعمل
دوسری جانب دلہن کے والد لال بہادر یادو نے بتایا کہ شادی 10 ماہ پہلے طے ہوئی تھی۔ منگنی کے تین دن بعد دولہے نے انکار کر دیا اور گاڑی کا مطالبہ کیا، جس پر ہم نے رضامندی ظاہر کی۔ پھر اس نے گاڑی کے بجائے نقد رقم مانگی، جسے ہم نے قبول کیا۔
شرائط کے تحت رہائی
شادی کی تیاریاں شروع ہو چکی تھیں۔ دولہے کے دیر سے آنے اور اس کے تعلقات کا انکشاف ہونے پر دلہن کے والد نے کہا، "ہم نے مہمانوں کو بلایا تھا، لیکن دولہا نہیں آیا۔" ان کا مزید کہنا تھا، "اگر وہ پہلے ہی بتا دیتا، تو ہم یہ تیاریاں نہیں کرتے۔ اب ہم صرف اپنے اخراجات کی واپسی چاہتے ہیں، ہمیں یہ شادی نہیں چاہیے۔" اس دوران پولیس نے دلہن کے اہل خانہ کو سمجھانے کی کوشش کی، مگر وہ اپنے موقف پر قائم رہے۔ دولہے کو اس وقت تک گھر میں رہنے دیا گیا جب تک اخراجات واپس نہیں کیے گئے۔