پی ٹی آئی احتجاج سے گرفتار 116 شرپسندوں کے اعترافی بیانات سامنے آگئے
پی ٹی آئی کے احتجاج میں گرفتار شرپسندوں کے اعترافی بیانات
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے ڈی چوک میں احتجاج کے دوران گرفتار ہونے والے 116 شرپسندوں کے اعترافی بیانات سامنے آگئے۔
یہ بھی پڑھیں: انڈیا اور افغانستان سے بیٹھ کر پاکستان میں سوشل میڈیا پر دہشت گردی پر مبنی مواد چلایا جارہا ہے، طلال چودھری
گرفتاری کی تفصیلات
26 نومبر کو ڈی چوک پر کریک ڈاؤن کے نتیجے میں گرفتار ہونے والے ملزمان میں سے 116 کے اعترافی بیانات کی ویڈیو سامنے آگئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعظم شہبازشریف نے شیخہ اسماء الثانی پاکستان کے پہاڑوں اور سیاحت کے لیے برانڈ ایمبیسیڈر مقرر کردیا
افغان شہریوں کا کردار
ڈی چوک سے گرفتار ہونے والے 'شرپسندوں' میں افغان شہری بھی شامل ہیں جنہوں نے اعتراف کیا کہ انہیں اسلحہ فراہم کیا گیا تھا اور جب شیلنگ ہوئی تو انہوں نے پولیس و رینجرز پر فائرنگ کی۔
یہ بھی پڑھیں: ویرات کوہلی کی مسلسل دوسری سنچری، سچن ٹنڈولکر کا ورلڈ ریکارڈ توڑ دیا
ویڈیو میں سامنے آنے والے اعترافات
ویڈیو میں متعدد افغان باشندوں نے اپنا تعلق افغان صوبے سے بتایا، جبکہ ایک نے دعویٰ کیا کہ بشری بی بی اور علی امین گنڈا پور نے پیسوں کا لالچ دے کر انہیں یہاں بلایا تھا۔ پھر ان کے سامنے ایک گاڑی آئی جس میں اسلحہ موجود تھا۔
یہ بھی پڑھیں: ایران میں مہنگائی اور کرنسی بحران کے خلاف احتجاج، 29 افراد ہلاک
مزید اعترافات کی توقع
ایک اور گرفتار ملزم نے دعویٰ کیا کہ انہیں کلاشنکوف دی گئی تھی جس سے انہوں نے ہوائی فائرنگ کی اور جب شیلنگ ہوئی تو پھر پولیس و رینجرز پر فائرنگ کی۔
نئی اطلاعات
دوسری جانب ذرائع کا کہنا ہے کہ ڈی چوک سے گرفتار مزید ملزمان بھی اعترافی بیانات دینے کو تیار ہیں۔








