عمرایوب کے بعد شبلی فراز نے بھی جوڈیشل کمیشن کی رکنیت سے استعفیٰ دیدیا
سینیٹ میں قائد حزب اختلاف کا استعفیٰ
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) سینیٹ میں قائد حزب اختلاف شبلی فراز نے جوڈیشل کمیشن کی رکنیت سے استعفیٰ دے دیا۔
یہ بھی پڑھیں: ارشد محمود ملک کی وزیراعظم آفس میں بطور تقریر نویس تقرری
استعفیٰ کی وجوہات
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق شبلی فراز نے 32 ایف آئی آرز اور عدالتی پیشیوں کے باعث استعفیٰ دیا، انہوں نے اپنا استعفیٰ چیئرمین سینیٹ کو ارسال کر دیا۔
یہ بھی پڑھیں: ایشز سیریز سے قبل آسٹریلین کرکٹ ٹیم کو بڑا دھچکا، کپتان پہلے ٹیسٹ سے باہر
قومی اسمبلی میں بھی استعفیٰ
واضح رہے کہ گزشتہ روز قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر عمر ایوب نے بھی جوڈیشل کمیشن کی رکنیت سے استعفیٰ دے دیا تھا اور چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹرگوہر کو اپنی جگہ جوڈیشل کمیشن کا رکن نامزد کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: گھریلو تنازع پر بہن نے بہن کو گولی مار دی
استعفیٰ کی مشترکہ وجہ
ذرائع کے مطابق قومی اسمبلی اور سینیٹ کے دونوں اپوزیشن لیڈرز نے عدالتوں میں کیسز کے باعث استعفیٰ دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان کی بھارت کے خلاف جوابی کارروائی کے بعد انڈونیشیا کا 8.1 ارب ڈالر کا رافیل معاہدہ خطرے میں پڑ گیا
وارنٹ اور آگے کا لائحہ عمل
جوڈیشل کمیشن اجلاس میں شرکت کے باعث شبلی فراز اور عمر ایوب کے فیصل آباد سے وارنٹ گرفتاری جاری ہوئے تھے، سینیٹ میں رکن جوڈیشل کمیشن کی نامزدگی کا فیصلہ کل ہوگا۔
آئینی ترمیم کے بعد کی صورت حال
واضح رہے کہ 26 ویں آئینی ترمیم کے بعد اپوزیشن کی جانب سے قومی اسمبلی سے قائد حزب اختلاف عمر ایوب اور سینیٹ سے قائد حزب اختلاف شبلی فراز کو جوڈیشل کمیشن میں شامل کیا گیا تھا۔








