بی بی سی کی 100 خواتین: ‘سیکس کی علامت’ کہلائی جانے والی اداکارہ جنہوں نے اپنی شہرت کو ایڈز کے خلاف استعمال کیا

جب میں نے شیرون سٹون سے سوال کیا کہ اگر انھیں موقع ملے کہ وہ ایک نوجوان شیرون سٹون کو استقامت کے بارے میں پیغام دیں، تو ان کے ردعمل نے ہم دونوں کو حیران کر دیا۔

ہم سیاست، مصوری اور ہالی وڈ پر بات کر چکے تھے لیکن اچانک انھوں نے اپنا ہاتھ آنکھوں پر رکھ دیا اور طویل وقفہ لینے کے بعد رونا شروع کر دیا۔

'تم یہ کر لوں گی۔' 66 سالہ ہالی وڈ اداکارہ کہتی ہیں کہ وہ خود کو یہ پیغام دیں گی۔ اداکارہ، انسانی حقوق کی سرگرم کارکن، مصنفہ اور پروڈیوسر جو اب ایک مصورہ بھی ہیں ان لمحات کو یاد کرتی ہیں جب برین ہیموریج نے 23 سال قبل ان کی زندگی تقریباً ختم کر دی تھی۔

شیرون نے دہرایا کہ 'تم نہیں جانتی لیکن تم اس سب سے گزر جاؤ گی۔ میں اس پیغام کو اپنے آنکھوں کی پلکوں پر چھپوا لیتی۔'

بی بی سی کی 100 خواتین: 'سیکس کی علامت' کہلائی جانے والی اداکارہ جنہوں نے اپنی شہرت کو ایڈز کے خلاف استعمال کیا

انھوں نے اس وقت کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ 'میں زمین پر گری ہوئی تھی اور ایمبولنس نہیں بلوا پا رہی تھی۔ جب میں ہسپتال سے گھر لوٹی تو میں نے میگزین میں پڑھا کہ 30 دن تک یہ معلوم نہیں تھا کہ میں زندہ رہوں گی یا مر جاؤں گی۔'

ان کی خون کی ایک شریان پھٹ چکی تھی جس کی وجہ سے دماغ میں خون بہنے سے سٹروک ہوا۔ وہ کہتی ہیں کہ ان کے زندہ بچنے کا ایک فیصد امکان بتایا گیا تھا اور انھیں چلنا پھرنا اور بولنا دوبارہ سے سیکھنا پڑا۔

شیرون نے ان تمام مشکلات کو گنوایا جن کا انھیں سامنا کرنا پڑا جن میں معاشی مشکلات سمیت اپنے سابق شوہر سے گود لیے جانے والے بچے کی کفالت کا عدالتی جھگڑا بھی شامل تھا۔

میرے سوال تک شیرون نے وضاحت دی کہ انھوں نے اس بات پر یقین نہیں کیا تھا کہ وہ اس سب سے گزر چکی ہیں۔ 'بہت وقت ہو چکا ہے اور سب ٹھیک ہے، اب ہر کوئی ساحل تک پہنچ چکا ہے۔'

اس سال Uses in Urdu ورلڈ سروس کی 100 خواتین کا عنوان 'استقامت' ہے اور جب شیرون کو میں نے بتایا کہ وہ بھی اس فہرست میں شامل ہیں تو ان کا چہرہ چمک اٹھا۔

1992 میں 'بیسک انسٹنکٹ' نامی ایروٹک فلم سے شہرت کی بلندیوں کو چھونے والی شیرون سٹون کو 'سیکس کی علامت' سمجھ لیا گیا تھا لیکن انھوں نے اپنی شہرت کو ایچ آئی وی اور ایڈز جیسی بیماریوں پر تحقیق کے لیے عطیات حاصل کرنے کے لیے استعمال کیا۔

وہ کہتی ہیں کہ 'مجھے اس بات پر فخر ہے کہ اس فلم میں میرا جو تصور تھا، کہ میں بہت سیکسی ہوں، اسے میں نے ایک ایسی بیماری کے خلاف جنگ میں استعمال کیا جس سے متاثرہ لوگ اپنی جنسی خواہشات کی وجہ سے سزا پا رہے تھے، کیوں کہ مجھے بھی سزا مل رہی تھی۔'

2013 میں ایچ آئی وی اور ایڈز کے خلاف کام کی وجہ سے شیرون سٹون کو نوبل امن سمٹ ایوارڈ سے نوازا گیا۔ یہ ایوارڈ نوبل امن انعام پانے والے ثقافتی اور انٹرٹینمنٹ کی دنیا کی ان شخصیات کو دیتے ہیں جو معاشی انصاف اور امن کے لیے خدمات سرانجام دیتے ہیں۔

بی بی سی کی 100 خواتین: 'سیکس کی علامت' کہلائی جانے والی اداکارہ جنہوں نے اپنی شہرت کو ایڈز کے خلاف استعمال کیا

گزشتہ سال شیرون سٹون کو اقوام متحدہ کے نامہ نگاروں کی ایسوسی ایشن نے سال کے عالمی شہری کے ایوارڈ سے بھی نوازا۔

واضح رہے کہ ’بیسک انسٹنکٹ‘ فلم کی کامیابی کے بعد شیرون سٹون کو 1995 میں ’کیسینو‘ فلم میں پرفارمنس پر آسکر کے لیے بھی نامزد کیا گیا تھا جبکہ انھوں نے ایک گولڈن گلوب ایوارڈ بھی جیت رکھا ہے۔

میں نے ان کا انٹرویو اٹلی میں کیا جہاں ٹیورن شہر کے فلمی میوزیم نے انھیں لائف ٹائم اچیوومنٹ ایوارڈ دیا ہے۔

خیراتی اور فلاحی کاموں کے ساتھ ساتھ شیرون سٹون سیاست کی دنیا پر بھی کھل کر بات کرتی ہیں۔ وہ نونتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ناقد ہیں اور انھوں نے امریکی الیکشن کی رات کملا ہیرس کی حمایت میں اپنی ایک تصویر بھی سوشل میڈیا پر پوسٹ کی جس میں شیرن کو ’مسز پریزیڈنٹ‘ کی عبارت والا ٹاپ پہنے دیکھا گیا۔

وہ کہتی ہیں کہ ’میں دنیا کو اپنے ملک کی اکثریت کے مقابلے میں بہت مختلف انداز سے دیکھتی ہوں۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ میں محب وطن نہیں ہوں۔‘

تاہم وہ کہتی ہیں کہ وہ صدر کے عہدے کا احترام کرتی ہیں کیوں کہ ’جمہوریت میں ایسا ہی ہوتا ہے۔‘

بی بی سی کی 100 خواتین: 'سیکس کی علامت' کہلائی جانے والی اداکارہ جنہوں نے اپنی شہرت کو ایڈز کے خلاف استعمال کیا

شیرون اب بطور مصورہ اپنی زندگی کے ایک نئے باب کا آغاز کرنے جا رہی ہیں اور دنیا بھر میں اپنی بنائی ہوئی تصاویر فروخت کر رہی ہیں۔ ان کا یہ شوق کورونا کی وبا کے دوران شروع ہوا تھا اور اب وہ لاس اینجیلیس میں اپنے گھر کے قریب ایک سٹوڈیو میں کام کرتی ہیں۔

ہم نے آن لائن ڈیٹنگ کے بارے میں بھی بات کی کیوں کہ جی ہاں، ہالی وڈ کی سپر سٹار خود بھی ڈیٹنگ ایپس استعمال کرتی ہیں جیسا کہ بہت سے لوگ محبت کی تلاش میں کرتے ہیں۔ بمبل نامی سائٹ پر انھیں کچھ وقت کے لیے معطل بھی کر دیا گیا تھا کیوں کہ چند صارفین کو لگا کہ ان کا پروفائل جعلی ہے۔

بی بی سی کی 100 خواتین: 'سیکس کی علامت' کہلائی جانے والی اداکارہ جنہوں نے اپنی شہرت کو ایڈز کے خلاف استعمال کیا

تاہم وہ کہتی ہیں کہ ’ویب سائٹ سے سب کچھ نہیں ملتا، جیسے کیمسٹری۔‘

ان کا کہنا تھا کہ برین ہیموریج کے بعد وہ ایک مختلف انسان تھیں اور انھوں نے اپنی خوراک تک بدل لی۔

اب ہالی وڈ بھی بدل چکا ہے۔ ماضی میں، شیرون کے مطابق خواتین مردوں کی تصوارتی دنیا کا مرکز ہوتی تھیں اور مرد ہی زیادہ تر فلمیں بنایا کرتے تھے۔

وہ کہتی ہیں کہ ’میرے خیال میں اب ہم ایک ایسی جگہ پر ہیں جہاں خواتین ایسے کردار کر رہی ہیں جہاں وہ فطری اداکاری کر رہی ہیں۔‘

میں نے شیرون سے سوال کیا کہ ان کے نزدیک ’استقامت‘ کیا ہے۔ انھوں نے جواب دیا کہ ’اپنی مرضی سے چننے کا حق کہ اگر ہمیں تکلیف یا خوشی میں سے کچھ چننا ہو تو ہم خوشی کو ہی چنتیں رہیں۔ اپنے موجود میں حاضر رہنا۔ اگر آپ گر جائیں تو اٹھ کھڑے ہونا۔ کوئی آپ کو دھکا دے اور پھر اب مدد کرنا چاہے تو انھیں اس کی اجازت دیں۔‘

انٹرویو ختم ہونے کے قریب تھا تو ان کا میک اپ دوبارہ سے کیا گیا۔ انھوں نے پانی پیا، پھر اٹھ کر مجھے گلے لگایا اور ایک نوجوان شیرن کو پیغام دینے کے سوال پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ’وہ بہت گہرا سوال تھا۔‘

Related Articles

Back to top button
Doctors Team
Last active less than 5 minutes ago
Vasily
Vasily
Eugene
Eugene
Julia
Julia
Send us a message. We will reply as soon as we can!
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Mehwish Sabir Pakistani Doctor
Ali Hamza Pakistani Doctor
Maryam Pakistani Doctor
Doctors Team
Online
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Dr. Mehwish Hiyat
Online
Today
08:45

اپنا پورا سوال انٹر کر کے سبمٹ کریں۔ دستیاب ڈاکٹر آپ کو 1-2 منٹ میں جواب دے گا۔

Bot

We use provided personal data for support purposes only

chat with a doctor
Type a message here...