کوپ 29 اور شہباز شریف کا موثر مقدمہ
ماحولیاتی اہداف کے حصول کے لئے فنانسنگ کی ضرورت
"پاکستان اور افریقہ سمیت کلائمٹ چینج سے شدید متاثر خطوں کو ماحولیاتی اہداف کے حصول کے قابل بنانے کے لئے فنانسنگ ناگزیر ہے۔ امیر ممالک ذمہ داری نبھاتے ہوئے مساوات کی بنیاد پر فیصلے کریں، یہ زیادتی و ناانصافی ختم کی جائے کہ صرف غریب ملک ہی قیمت چکاتے رہیں، ترقی یافتہ ممالک بھی زہریلی گیسوں کے اخراج میں نمایاں حصہ ڈالیں۔"
یہ بھی پڑھیں: نواز شریف کی عبدالمالک بلوچ سے ملاقات
کاپ 29 میں پاکستان کا موقف
کاپ 29 میں پاکستان نے اپنا یہ اصولی اور مبنی برق حق موقف پوری قوت سے پیش کیا۔ وزیراعظم جناب شہباز شریف نے نہ صرف اپنا بلکہ دیگر متاثرہ ممالک کا مقدمہ بھی بھر پور انداز میں پیش کیا۔
یہ بھی پڑھیں: اشیائے خورونوش کے نرخ میں کمی پر پوری ٹیم کو شاباش، عوام سے اپیل ہے جس شاپ پر ریٹ لسٹ نہ ہو، خریداری نہ کریں: وزیراعلیٰ مریم نواز
ماحولیاتی بحران اور ترقی پذیر ممالک
13 نومبر 2024 کو وزیراعظم شہباز شریف نے کوپ 29 سے خطاب میں واضح کیا کہ صرف پاکستان ہی نہیں بلکہ، متعدد دیگر ممالک بھی ماحولیاتی ممالک سے متاثر ہیں۔ اگر دنیا نے توجہ نہ دی تو مزید درجنوں ممالک پر بھی تباہ کن اثرات مرتب ہوں گے۔
یہ بھی پڑھیں: کس نے ڈھائے وہ منظر، کس نے مٹائے وہ منظر۔۔۔
امیر ممالک کی ذمہ داریاں
2022 میں پاکستان میں لاکھوں ایکڑ زمین اور فصلیں تباہ ہوئیں، اور امیر ممالک نے کوپ 27 اور کوپ 28 میں کئے گئے وعدے آج تک پورے نہیں کئے۔ پاکستان کا کاربن کے اخراج میں حصہ نہ ہونے کے برابر ہے، مگر ہمیں ماحولیاتی آلودگی کے بدترین اثرات کا سامنا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ویسٹ انڈیز نے سکاٹ لینڈ کو آئی سی سی ویمنز ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں شکست دے دی
مالی وسائل کی کمی
پاکستان سمیت غریب ممالک کا اصرار ہے کہ انہیں موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے نمٹنے کے لئے سالانہ کم از کم ایک ٹریلین ڈالر درکار ہیں، لیکن اس ہدف پر اتفاق رائے نہیں ہوسکا۔
یہ بھی پڑھیں: علم، شعور اور اخلاق، سنگھار سے زیادہ اہمیت رکھتا ہے
ماحولیاتی معاہدے کے نتائج
کاپ 29 میں ترقی یافتہ ممالک نے کلائمٹ فنانس میں اپنا پورا حصہ ڈالنے کے لئے کوئی واضح پالیسی نہیں دی۔
یہ بھی پڑھیں: ڈونلڈ ٹرمپ نے دعوت قبول کر لی ، بدھ کو جوبائیڈن سے ملاقات ہو گی
یونائٹڈ نیشنز کی اپیل
اقوام متحدہ نے حکومتوں سے اپیل کی ہے کہ وہ کاپ 29 میں طے پانے والے مالیاتی معاہدے کو بنیاد بنا کر آگے بڑھیں۔
یہ بھی پڑھیں: مجھے عمران خان سے ملنے سے روکنے کا مقصد پارٹی میں تقسیم اور اختلافات بڑھانا ہے، وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور
پاکستان کی موجودہ صورتحال
پاکستان کو اس وقت دہری مشکلات کا سامنا ہے، حکومت کو معاشی استحکام کی کوششوں میں چیلنجز کا سامنا ہے۔
سیاسی قیادت اور قومی مکالمہ
وزیراعظم نے واضح کیا کہ احتجاج کے نام پر بدامنی پھیلانے والوں کو انصاف کے کٹہرے میں لانا ہوگا۔ قومی ترقی اور کلائمٹ چینج جیسے سنگین مسائل کے حل کے لئے قومی مکالمہ وقت کی ضرورت ہے۔
نوٹ: یہ مصنفہ کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔








