ناقص تفتیش کی وجہ سے تکنیکی بنیاد پر شک کا فائدہ ملزمان کو دینا پڑتا ہے، جسٹس محسن کیانی
اسلام آباد میں میڈیکو لیگل قانون پر بات چیت
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا ہے کہ جج کو ناقص تفتیش کی وجہ سے تکنیکی بنیاد پر شک کا فائدہ ملزمان کو دینا پڑتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ستاروں کی روشنی میں آپ کا آئندہ ہفتہ کیسا گزرے گا ؟
قومی مکالمے کی ضرورت
نجی ٹی وی چینل ایکسپریس نیوز کے مطابق، اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا کہ دنیا میں چیزیں تبدیل ہو گئی ہیں لیکن ہم ابھی وہیں کھڑے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: چیئرمین پی سی بی محسن نقوی کی قومی کرکٹ ٹیم کے کھلاڑیوں سے ملاقات، کارکردگی کو سراہا
فرانزک اور پولیس کے درمیان علیحدگی
انہوں نے کہا کہ پوری دنیا میں فرانزک کے لوگ پولیس ڈیپارٹمنٹ سے الگ ہیں۔ فرانزک ڈیپارٹمنٹ کو پولیس سے مکمل طور پر الگ کرنا ضروری ہے۔ قتل کے ایک کیس میں لیڈی ڈاکٹر نے پوسٹ مارٹم رپورٹ میں ایک انجری بھی نہیں لکھی، لہذا نئے قانون کی ضرورت ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سام آلٹمین کی نئی ڈیوائس فیصلہ کرے گی کہ آپ انسان ہیں یا نہیں
کیسز کی تعداد اور مسائل
جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا کہ اسلام آباد کی آبادی شاید 4.5 ملین ہے جبکہ وہاں 72 ججز ہیں اور 54 ہزار کیسز زیر التواء ہیں۔ پنجاب فرانزک ایجنسی اس وقت ایک بہترین مثال ہے، جیسا کہ گجرانوالہ موٹر وے ریپ کیس میں ملزم کو پکڑنے کے لیے اس کی بہترین کارکردگی رہی۔
یہ بھی پڑھیں: آئی ایم ایف شرائط میں کچھ نیا نہیں، طے شدہ ایجنڈا مرحلہ وار نافذ کیا جا رہا: وزارت خزانہ
تحقیقات کا معیار
انہوں نے کہا کہ پوری دنیا تفتیش کے حوالے سے کہاں سے کہاں پہنچ گئی اور ہم آج بھی پرانی پوزیشن پر کھڑے ہیں۔ ہمارے ملک میں تفتیشی کو آج بھی جائے وقوعہ لکھنا نہیں آتا۔ جب کیس درست طور پر تیار نہیں ہوتا تو شک کا فائدہ تکنیکی بنیادوں پر ملزمان کو ہوتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: مودی حکومت سیز فائر توڑنا چاہتی ہے لیکن ۔۔۔‘‘ حامد میر نے اہم انکشافات کر دیئے
پولیس اور فرانزک کے عملے کی حالت
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا کہ فرانزک کا عملہ ہمیشہ پولیس سے الگ ہوتا ہے، مگر ہمارے ملک میں ایسا ممکن نہیں ہو سکا۔ 22 سال سے اسلام آباد فرانزک اتھارٹی بنی ہوئی ہے، لیکن جو کام ہونا تھا وہ نہیں ہوا۔ جج کو تکنیکی بنیاد پر شک کا فائدہ ملزمان کو دینا پڑتا ہے، جس کی وجہ سے متاثرہ افراد کو نقصان ہوتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: آئندہ 3 روز کے دوران پنجاب کے کن کن علاقوں میں شدید دھند کا امکان ہے؟ جانیے
ڈاکٹروں کی تربیت کی ضرورت
انہوں نے مزید کہا کہ ڈاکٹر مختلف وجوہات کی بنا پر ضربات (انجریز) نہیں لکھتے۔ اسلام آباد میں 2 اسپتال ہیں لیکن ڈاکٹرز کی تعداد کم ہے۔ اس وجہ سے میڈیکل سرٹیفکیٹ درست نہیں بنایا جا رہا۔ پنجاب فرانزک لیب کا ڈیٹا اسلام آباد فرانزک لیب کی نسبت کہیں بہتر ہے۔
موٹروے زیادتی کیس اور ہسپتالوں کی ضرورت
انہوں نے کہا کہ پنجاب فرانزک نے زینب کیس اور موٹروے زیادتی کیس کو ثابت کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ اسلام آباد کے دونوں ہسپتالوں میں شدید رش ہے، اور اسلام آباد میں مزید ہسپتالوں کی ضرورت ہے۔ میڈیکو لیگل سے متعلق ڈاکٹرز کو علیحدہ کیا جانا چاہیئے اور انہیں عدالتی مقدمات کے تناظر میں تربیت دینا چاہیے۔








