پی ٹی آئی احتجاج میں شرپسندوں نے ہم پر شدید فائرنگ کی:زخمی سب انسپکٹر
پرتشدد مظاہروں کے دوران سکیورٹی اہلکاروں کی حالت
اسلام آباد ( ڈیلی پاکستان آن لائن ) پی ٹی آئی کے پرتشدد مظاہروں کے دوران کئی سکیورٹی اہلکار شدید زخمی ہوئے، جن میں سب انسپکٹر ڈی پی او سکواڈ محمد ارشاد صدیقی بھی شامل ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: سابق ڈی جی آئی ایس پی آر فیض حمید، عمران خان کے خلاف کسی بھی مقدمے میں سرکاری گواہ نہیں بن رہے، فیض حمید کے وکیل کا دعویٰ
محمد ارشاد صدیقی کا واقعے سے متعلق بیان
روزنامہ امت کے مطابق، شرپسندوں کی جانب سے سب انسپکٹر محمد ارشاد سر پر پتھر لگنے سے زخمی ہوگئے تھے۔ سب انسپکٹر محمد ارشاد صدیقی نے واقعے کا ذکر کرتے ہوئے کہا، "24 نومبر کو ٹاور ہل پوائنٹ موٹروے پر میں ڈیوٹی پر تعینات تھا جہاں شرپسند مظاہرین نے رکاوٹیں عبور کرنے کی کوشش کی، ہم نے مشتعل افراد کو 25 نومبر تک پرامن طور پر روکنے کی کوشش کی، لیکن 25 نومبر کو اسلحہ سے لیس افراد نے ہم پر حملہ کر دیا۔"
یہ بھی پڑھیں: فلم “لو یو گورو” کی نمائش 6 جون 2025 سے دنیا بھر کے سنیما گھروں میں
شرپسندوں کے حملے کی تفصیلات
محمد ارشاد صدیقی نے مزید وضاحت کی کہ حملہ کرنے والے عسکری ونگ نے ان پر شدید فائرنگ کی اور ارد گرد درختوں کو آگ لگا دی۔ اس حملے کے دوران، شرپسندوں نے ایس ایچ او طاہر اقبال کو یرغمال بنا کر تشدد کا نشانہ بنایا اور انہیں گہری کھائی میں پھینک دیا۔
صحت یابی اور عزم
سب انسپکٹر نے کہا کہ "ایس ایچ او کو ریسکیو کرنے پر شرپسندوں نے ہم پر دوبارہ حملہ کیا جس دوران میرے سر پر پتھر لگا اور میں بے ہوش ہوگیا۔ مجھے سر پر گہری چوٹ آئی، لیکن اب میں ٹھیک ہوں اور ایک نئے عزم کے ساتھ ڈیوٹی انجام دینے کو تیار ہوں۔"








