پی ٹی آئی احتجاج سے گرفتار33کارکنوں کی شناخت پریڈ کے آرڈر کیخلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ
اسلام آباد ہائیکورٹ کا فیصلہ محفوظ
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) اسلام آباد ہائیکورٹ نے پی ٹی آئی کے احتجاج سے گرفتار 33 کارکنوں کی شناخت پریڈ کے آرڈر کے خلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔ جسٹس ارباب محمد طاہر نے کہا کہ "یہ تو سارا عمل ہی غلط ہے جو آپ کررہے ہیں"۔
یہ بھی پڑھیں: مباحثوں میں اپنی کمزور کارکردگی کا جائزہ لیتا ہوں تو یہ بات عیاں ہوتی ہے کہ بڑوں سے اس میں رہنمائی اور پریکٹس کروانا، بار بار سننا بہت ضروری ہے۔
عدالت کا ازالہ
جوڈیشل مجسٹریٹ نے شناخت پریڈ کا آرڈر کیسے دے دیا؟ جسٹس ارباب محمد طاہر نے واضح کیا کہ جوڈیشل مجسٹریٹ تو زیادہ سے زیادہ راہداری ریمانڈ دے سکتا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: دہشتگردوں سے کوئی ہمدردی نہیں ہو سکتی، خیبرپختونخوا میں سی ٹی ڈی کیوں نہیں بنائی گئی؟ وزیر مملکت طلال چوہدری قومی اسمبلی میں کھل کر بول پڑے
سماعت کی تفصیلات
نجی ٹی وی سما نیوز کے مطابق، پی ٹی آئی احتجاج سے گرفتار 33 کارکنوں کی شناخت پریڈ کے آرڈر کے خلاف درخواست پر سماعت ہوئی۔ سرکاری وکیل نے عدالت میں بیان دیا کہ ملزمان کی شناخت پریڈ مکمل کرلی گئی۔ جسٹس ارباب محمد طاہر نے استفسار کیا کہ "ملزمان کی شناخت پریڈ کس نے کی؟" سرکاری وکیل نے بتایا کہ "اسسٹنٹ کمشنر نے بطور ایگزیکٹو مجسٹریٹ ملزمان کی شناخت کی"۔
یہ بھی پڑھیں: 12 اپریل کو لاہور میں عام تعطیل کا اعلان،نوٹیفکیشن جاری
عدالت کے ریمارکس
عدالت نے کہا کہ "یہ عدالت فیصلہ دے چکی، اب بھی ایگزیکٹو مجسٹریٹ شناخت پریڈ کررہا ہے"۔ جسٹس ارباب محمد طاہر نے وضاحت کی کہ انسداد دہشت گردی عدالت کے پاس شناخت پریڈ کا آرڈر کرنے کا اختیار تھا، شناخت پریڈ ایگزیکٹو نہیں بلکہ جوڈیشل مجسٹریٹ نے کرنا تھی۔
نتیجہ
عدالت نے کہا کہ "یہ شناخت پریڈ بے فائدہ ہے، ایک فیصلہ موجود ہے، اس کے باوجود یہ سب کچھ ہو رہا ہے"۔ آخر میں اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس ارباب محمد طاہر نے درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔








