دنیا کی سب سے اصول پسند فوج میں انکار کی لہر: وہ اسرائیلی فوجی جو اب غزہ میں لڑنے کے خواستگار نہیں ہیں

اس پلاٹون میں ہر فرد کسی ایسے شخص کو جانتا ہے جو ہلاک ہو چکا ہے۔ 26 سالہ یوال گرین ایسے تین لوگوں کو جانتے ہیں۔ وہ اسرائیلی فوج میں ریزرو اہلکار تھے جب انھیں پہلی بار سات اکتوبر کو حماس کے حملے کا علم ہوا۔
وہ کہتے ہیں کہ 'اسرائیل چھوٹا ملک ہے۔ سب ایک دوسرے کو جانتے ہیں۔' حماس کے حملے میں 1200 افراد ہلاک ہوئے جبکہ 251 کو اغوا کر لیا گیا۔ 97 مغوی اب تک بازیاب نہیں ہو سکے جن میں سے نصف کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ زندہ ہیں۔
یوال کو یاد ہے کہ انھوں نے غزہ کی سرحد کے قریب شہری علاقوں میں تباہی دیکھی۔ 'گلیوں میں لاشیں پڑی تھیں، گاڑیوں کے ٹائر گولیوں سے پنکچر ہو چکے تھے۔'
اس وقت انھیں اس بات پر کوئی شک نہیں تھا کہ ملک پر حملہ ہوا ہے اور انھیں دفاع میں شامل ہونا ہے، مغویوں کو واپس لانا ہے۔ لیکن پھر غزہ میں جنگ کا آغاز ہو گیا اور انھوں نے تصویر کا دوسرا رخ دیکھا۔ انھیں وہ رات یاد ہے جب انھوں نے ایک سڑک کے کنارے کووں کو انسانی باقیات کھاتے ہوئے دیکھا تھا۔
وہ کہتے ہیں کہ 'قیامت کا تصور کریں، ہر طرف تباہ حال عمارتیں، جو آگ، میزائل، ہر چیز کی وجہ سے برباد ہو چکی ہیں۔ یہ اس وقت غزہ کی تصویر ہے۔'
سات اکتوبر کے حملے کے ایک سال بعد خود رضاکارانہ طور پر جنگ میں شامل ہونے والے یوال آج لڑنے سے انکار کر رہے ہیں۔
وہ اسرائیلی فوج میں ریزرو اہلکاروں سمیت مستقل فوجیوں کے ایک ایسے گروہ کا حصہ ہیں جو مغویوں کی رہائی تک لڑنے سے انکار یا ایسا کرنے کی دھمکی دے رہے ہیں۔ ان کی کل تعداد 165 ہے جنھوں نے ایک خط پر دستخط بھی کر رکھے ہیں۔ لیکن ایسا ہونے کے لیے حماس سے جنگ بندی ضروری ہے۔
تاہم تقریبا چار لاکھ 65 ہزار ریزرو اہلکاروں کی موجودگی میں یہ ایک اقلیت ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ایک اور وجہ تھکاوٹ بھی ہے۔
اسرائیلی میڈیا کی خبروں کے مطابق بہت سے فوجی اب واپس ڈیوٹی پر نہیں آ رہے۔ ٹائمز آف اسرائیل اور دیگر چند نشریاتی اداروں کے مطابق عسکری ذرائع نے کہا ہے کہ طویل سروس کی وجہ سے تھکاوٹ کا سامنا کرنے والے وہ فوجی جو ڈیوٹی پر نہیں آ رہے اب 15 سے 25 فیصد تک ہیں۔
اگرچہ عوامی سطح پر ایسے فوجیوں کی پذیرائی نہیں ہوتی جو بظاہر ضمیر کی آواز کی وجہ سے ڈیوٹی سرانجام دینے سے انکار کرتے ہیں تاہم یہ واضح ہے کہ عوامی خط لکھنے والے فوجیوں کے بہت سے مطالبات کو عوامی حمایت حاصل ہے۔
حال ہی میں اسرائیل ڈیموکریسی انسٹیٹیوٹ کی جانب سے کیا جانے والا ایک سروے عندیہ دیتا ہے کہ 45 فیصد یہودی اسرائیلی جنگ کا خاتمہ چاہتے ہیں جبکہ 43 فیصد کی خواہش ہے کہ اسرائیلی فوج حماس کے مکمل خاتمے تک جنگ جاری رکھے۔
اس سروے سے ملک میں سیاسی تقسیم بھی واضح ہوتی ہے کیوں کہ 26 فیصد کا ہی یہ ماننا ہے کہ ملک میں یگانگت موجود ہے جبکہ 44 فیصد کا کہنا تھا کہ ایسا کچھ نہیں ہے۔
اس کی ایک وجہ بائیں بازو کی جانب جھکاؤ رکھنے والوں کا یہ ماننا ہے کہ جنگ کو انتہائی دائیں بازو کی سیاسی جماعتوں کی وجہ سے طول دیا جا رہا ہے جن کی حمایت وزیر اعظم نتن یاہو کو اقتدار میں رہنے کے لیے درکار ہے۔
حتی کہ سابق وزیر دفاع گالانٹ جنھیں گزشتہ ماہ برطرف کر دیا گیا، اور جو نتن یاہو کی ہی جماعت کے رکن ہیں، نے مغویوں کی بازیابی میں ناکامی کو وزیر اعظم سے اختلافات کی ایک وجہ قرار دیا تھا۔
انٹرنیشنل کرمنل کورٹ کی جانب سے مبینہ جنگی جرائم کے الزام میں نتن یاہو اور گالانٹ کے وارنٹ گرفتاری جاری کیے جا چکے ہیں تاہم نتن یاہو نے بارہا کہا ہے کہ وہ مغویوں کی بازیابی کا مکمل ارادہ رکھتے ہیں اور اس سے پیچھے نہیں ہٹے۔
انکار کا بیج
یوال کے انکار کی وجہ جنگ شروع ہونے کے بعد واضح ہوئی۔ اسرائیلی پارلیمنٹ کے ڈپٹی سپیکر نے اس وقت کہا تھا کہ ’غزہ کی پٹی کو کرہ زمین سے مٹا دینا چاہیے۔‘ ایک معروف راہب نے غزہ میں فلسطینیوں کے بارے میں کہا تھا کہ ’اگر آپ ان کو نہیں ماریں گے، تو وہ آپ کو مار دیں گے۔‘ انھوں نے کہا تھا کہ ’فوجیوں کو صرف وہی کرنا چاہیے جس کا انھیں حکم دیا جائے۔‘
تاہم اس زبان نے یوال کو پریشان کر دیا۔
’لوگ اس طرح سے غزہ کی پوری آبادی کو قتل کرنے کی بات کر رہے تھے جیسے یہ کوئی قابل فہم بات ہو۔ اس ماحول میں فوجی غزہ میں ایک ایسے وقت میں داخل ہوئے جب صرف ایک ماہ قبل ان کے دوست ذبح کیے گئے تھے اور ہر دن فوجیوں کی ہلاکت کے بارے میں سن رہے تھے۔ فوجیوں نے بہت کچھ کیا۔‘
غزہ سے اسرائیلی فوجیوں کی ایسی سوشل میڈیا پوسٹیں سامنے آئی ہیں جن میں قیدیوں سے بدسلوکی کی جا رہی ہے، عمارات کو نقصان پہنچایا جا رہا ہے اور عام فلسطینیوں کا مذاق اڑایا جا رہا ہے۔
اس کے علاوہ فوجیوں کی جانب سے خواتین کے لباس اور زیرجامہ کے علاوہ لوگوں کے زیراستعمال سامان کے ساتھ تصاویر کھنچوانے کے واقعات بھی سامنے آئے۔
یوال کہتے ہیں کہ ’اس نفرت انگیز غیر انسانی ماحول میں لڑنے کی کوشش کی۔‘ تاہم ان کے لیے معاملہ اس وقت سنجیدہ ہوا جب انھیں ایک ایسا حکم ملا جس کی وہ تعمیل نہیں کر سکتے تھے۔
’ہمیں ایک گھر کو جلانے کا حکم ملا اور میں اپنے کمانڈر کے پاس گیا اور میں نے پوچھا کہ ہم یہ کیوں کر رہے ہیں؟ مجھے تسلی بخش جواب نہیں ملا۔ میں کسی قابل فہم وجہ کے بغیر کسی کے گھر کو نہیں جلانا چاہتا تھا۔ یا یہ جانے بغیر کہ اس کا کوئی عسکری مقصد ہے یا نہیں۔ تو میں نے انکار کر دیا اور واپس آ گیا۔‘
غزہ میں یہ ان کا آخری دن تھا۔ اسرائیلی فوج نے اپنے جواب میں مجھے بتایا ہے کہ ان کی کارروائیاں ’عسکری ضروریات پر مبنی ہوتی ہیں اور بین الاقوامی قوانین کی پاسداری کرتی ہیں۔‘ جواب کے مطابق ’حماس غیر قانونی طور پر شہری علاقوں میں عسکری تنصیبات قائم کرتی ہے۔‘
Uses in Urdu نے ایسے تین اسرائیلی فوجیوں سے بات کی جنھوں نے لڑائی میں مزید حصہ لینے سے انکار کیا۔ ان میں سے دو نے اپنا نام ظاہر کرنے کی اجازت دی تاہم تیسرے نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بات کی۔
ان تینوں نے ہی اس بات پر زور دیا کہ انہیں اپنے ملک سے محبت ہے لیکن جنگ کے تجربے اور مغویوں کی رہائی کے لیے معاہدہ کرنے میں ناکامی کی وجہ سے انہوں نے اخلاقی طور پر نہ لڑنے کا فیصلہ کیا۔
یہ بھی پڑھیں: سپریم کورٹ میں 13سے زیادہ ججز نہیں ہونے چاہئیں، فواد چوہدری
’لوگ سکون سے بدسلوکی اور قتل کے بارے میں بات کرتے‘
نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر جس فوجی نے ہم سے بات کی وہ حماس کے حملے کے وقت تل ابیب ایئر پورٹ پر موجود تھے۔ وہ بتاتے ہیں کہ ’مجھے گھر واپسی کا سفر یاد ہے۔ میں ریڈیو سن رہا تھا اور لوگ فون کر رہے تھے کہ میرے والد کو اغوا کر لیا گیا، میری مدد کریں، کوئی مدد نہیں کر رہا۔ یہ واقعی ایک ڈراونے خواب جیسا تھا۔‘
انہیں یہ احساس تھا کہ اسرائیلی فوج یعنی آئی ڈی ایف، ایسے ہی لمحات کے لیے ہے۔ مقبوضہ غرب اردن میں گھروں میں چھاپے مارنے کے لیے نہیں یا پتھر پھینکنے والے نوجوانوں کا پیچھا کرنے کے لیے نہیں۔ ’پہلی بار مجھے احساس ہوا کہ میں نے واقعی اپنے دفاع کے لیے فوج میں شمولیت اختیار کی۔‘
جیسے جیسے جنگ آگے بڑھی، ان کے یہ خیالات بدلنے لگے۔ ’مجھے یہ احساس ہونے لگا کہ یہ جنگ اسرائیلی عوام کی زندگی محفوظ بنانے کے گرد نہیں گھوم رہی۔‘
ان کے مطابق یہ خیالات ان کے مشاہدے پر مبنی ہیں۔ ’میں نے خود کو یہ بتانے کی کوشش کی کہ جو لوگ جنگ کی وجہ سے متاثر ہوتے ہیں، ان کے ساتھ ایسا ہی ہوتا ہے۔‘
تاہم انہیں یاد ہے کہ ان کے ساتھی اور کمانڈر تک، کیسے بے یار و مددگار فلسطینیوں کو پیٹنے کے بارے میں ’فخریہ انداز‘ میں بتایا کرتے تھے۔ انہوں نے اس سے بھی زیادہ خوفناک باتیں سنیں۔ ’لوگ بہت سکون سے بدسلوکی اور قتل تک کے بارے میں بات کرتے تھے جیسے یہ کوئی تکنیکی معاملہ ہے۔ میں بہت حیران ہوا۔‘
اس فوجی کا کہنا تھا کہ انہوں نے ایسے قیدیوں کو خود دیکھا جن کی آنکھوں پر پٹی باندھ کر انہیں حرکت کرنے کی اجازت نہیں دی جاتی تھی اور اتنی کم مقدار میں کھانا دیا جاتا جو چانکا دینے والا تھا۔
جب ان کا پہلا دورہ ختم ہوا تو انہوں نے فیصلہ کیا کہ واپس نہیں جائیں گے۔ آئی ڈی ایف نے مجھے مئی میں جاری ہونے والے ایک بیان کا حوالہ دیا جس میں کہا گیا کہ ’کسی بھی قیدی سے بدسلوکی ممنوع ہے۔ اسرائیلی فوج کا یہ بھی کہنا تھا کہ قیدیوں کو تین وقت کا کھانا مہیا کیا جاتا ہے اور قیدیوں کے ہاتھ صرف اس وقت باندھے جاتے ہیں جب سکیورٹی خطرات ہوں اور ہر دن جائزہ لیا جاتا ہے کہ زیادہ سختی سے ہاتھ تو نہیں باندھے گئے۔‘
تاہم اقوام متحدہ کے مطابق اسرائیلی محافظوں کی جانب سے قیدیوں کے ساتھ مبینہ بدسلوکی اور جنسی ہراسانی کی خبریں غیر قانونی حرکات ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: چینی منصوبوں پر 12 ہزار مستقل فوجی اہلکار تعینات کئے ہیں: احسن اقبال
’بربریت کی افزائش‘
29 سالہ مائیکل اوفر سات اکتوبر کے دن ہلاک ہونے والے دو لوگوں کو جانتے ہیں جن میں سے ایک کی لاش کو غزہ میں ایک پک اپ ٹرک میں گھمایا گیا تھا، اور یہ جنگ کے دوران سب سے زیادہ شیئر ہونے والی تصویر بن گئی۔
مائیکل بائیں بازو کی جانب جھکاؤ رکھتے تھے اور اسرائیل اور فلسطین تنازع میں سیاسی حل کے حامی تھے۔ تاہم، اپنے ساتھیوں کی طرح انھیں بھی اس وقت محسوس ہوا کہ ریزرو ڈیوٹی پر جانا درست قدم ہے۔ ’میں جانتا تھا کہ عسکری کارروائی ضروری ہو چکی ہے، لیکن مجھے یہ پریشانی لاحق تھی کہ اس کی کیا شکل ہو گی۔‘
ان کا کام ایک بریگیڈ کے وار روم میں بطور آپریشنز افسر تھا، جہاں سے وہ غزہ میں ڈرون کے ذریعے حاصل شدہ فوٹیج دیکھتے اور اعلی حکام تک پہنچاتے تھے۔
وہ بتاتے ہیں کہ انھوں نے بھی ساتھیوں کی بات چیت کے بعد فیصلہ لیا۔ ’سب سے ہولناک جملہ جو کسی نے مجھ سے کہا تھا وہ یہ تھا کہ آخری جنگ میں بچوں کو بخژ دیا گیا تھا جو سات اکتوبر کو دہشت گرد بن کر نکلے۔ شاید یہ چند کے لیے درست ہو گا لیکن ہر کسی کے لیے نہیں۔‘
وہ کہتے ہیں کہ ’اتنے شدت پسندانہ خیالات اقلیت رکھتی ہے لیکن اکثریت بھی اس قیمت کی جانب سے صرف نظر کرتی ہے جو جنگ کے دوران ادا کی جا رہی ہے۔‘ انھیں فلسطینی علاقوں، خصوصا غزہ، میں جنگ کے بعد یہودی آبادیاں قائم کرنے کے بیانات سے بھی اختلاف تھا، جو انتہائی دائیں بازو سے تعلق رکھنے والے حکومتی وزرا کا اعلان کردہ مقصد ہے۔
اعداد و شمار سے علم ہوتا ہے کہ اسرائیلی فوج میں ایک بڑی تعداد ان افسران اور فوجیوں کی ہے جو قوم پرست مذہبی جھکاؤ رکھتے ہیں۔
یہ انتہائی دائیں بازو کی یہودی قوم پرست جماعتوں کے حامی ہیں جو فلسطینی علاقوں میں بھی آبادکاری کی خواہش کا اظہار کرتی ہیں۔ یہ فلسطینی ریاست کے قیام کے بھی مخالف ہیں۔ اسرائیل سینٹر برائے پبلک افیئرز کی تحقیق کے مطابق، ملٹری اکیڈمی سے ایسے افسران کی تعداد 1990 میں ڈھائی فیصد سے بڑھ کر 2014 میں 40 فیصد ہو چکی تھی۔
دس سال قبل اسرائیل ڈیموکریسی انسٹیٹیوٹ میں کام کرنے والے پروفیسر مورڈیچی نے خبردار کیا تھا کہ ’فوج میں یہودی نسل کی برتری اور دشمن کو غیر انسانی طریقے سے دیکھنے کے تناظر میں بربریت کی افزائش کا موقع موجود ہے۔‘
مائیکل اوفر کے لیے فیصلہ کن لمحہ تب آیا جب فوجیوں نے گزشتہ سال دسمبر میں تین اسرائیلی مغویوں کو ہلاک کر دیا۔
یہ تینوں افراد اسرائیلی فوجیوں کی جانب بڑھ رہے تھے، اور ان میں سے ایک نے ایک چھڑی اٹھا رکھی تھی جس پر سفید کپڑا بندھا ہوا تھا، جسے جنگی حالات میں امن کی علامت سمجھا جاتا ہے۔
اسرائیلی فوج کے مطابق، فوجیوں کو خطرہ محسوس ہوا اور انھوں نے گولی چلا دی، جس سے دو اسرائیلی مغوی ہلاک ہو گئے جبکہ تیسرے کو زخم آئے۔ تاہم، زخمی اسرائیلی شہری پر دوبارہ گولی چلا کر اسے ہلاک کر دیا گیا، اگرچہ کہ اسرائیلی فوجیوں کے کمانڈر نے گولی نہ چلانے کا حکم دیا تھا، جسے ایک فوجی نے نظر انداز کر دیا۔
مائیکل کا کہنا تھا کہ ’میں نے سوچا ہم کتنی اخلاقی پستی میں گر چکے ہیں کہ یہ بھی ہو سکتا ہے۔ اور میں نے یہ بھی سوچا کہ یہ پہلی بار نہیں ہو رہا ہوگا یعنی معصوم لوگوں کو مارا گیا۔ یہ صرف پہلی بار ہے کہ ہم اس کے بارے میں سن رہے ہیں کیوں کہ یہ اسرائیلی مغوی تھے۔ اگر متاثرین فلسطینی ہوں تو ہمیں اس کے بارے میں کبھی پتہ نہیں چلتا۔‘
آئی ڈی ایف نے اس بات کی وضاحت کی ہے کہ جو فوجی لڑنے سے انکار کرتے ہیں ان کے ساتھ انفرادی طور پر نمٹا جاتا ہے۔ وزیر اعظم نتن یاہو نے بار بار زور دیا ہے کہ آئی ڈی ایف ’دنیا کی سب سے زیادہ اصول پسند فوج ہے۔‘
یہ بات یاد رکھنے کے قابل ہے کہ اسرائیل کی زیادہ تر آبادی کے لیے آئی ڈی ایف تحفظ کی ایک ضمانت کے طور پر کام کرتی ہے، جو 1948 میں اسرائیل کے قیام میں مددگار ثابت ہوئی۔ 18 سال سے زیادہ ہر یہودی شہری کے لیے فوج میں کچھ عرصہ کام کرنا لازمی ہے، جب کہ مسیحی اور ڈروز شہریوں کے لیے بھی اپنی لازمی سروس مکمل کرنا ضروری ہے۔
انکار کرنے والے فوجیوں کو مختلف چیلنجز کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے۔ چند اہم سیاست دان، جن میں کابینہ کے ارکان بھی شامل ہیں، نے ان کے خلاف کارروائی اور گرفتاری کا مطالبہ کیا ہے۔ تاہم حکومت نے اب تک کوئی عملی قدم نہیں اٹھایا، کیونکہ یوال کے مطابق ’فوج جانتی ہے کہ ایسا کرنے سے ہمارے کام کی جانب توجہ مرکوز ہو جائے گی اور وہ خاموشی سے چیزوں کو ختم کرنا چاہتی ہے۔‘
دوسری طرف، ایسے اسرائیلی شہری جو سروس کے آغاز پر ہی انکار کرتے ہیں، سخت سزاؤں کا سامنا کرتے ہیں، جن میں آٹھ شہری فوجی جیل میں قید کی سزا بھگت چکے ہیں۔
یہودی ریاست کا مستقبل
31 سالہ میجر سیم لپسکی نے بھی غزہ کی جنگ میں حصہ لیا ہے۔ وہ انکار کرنے والوں کی مخالفت کرتے ہیں اور الزام لگاتے ہیں کہ یہ لوگ ’سیاسی ہیں اور موجودہ حکومت کے مخالف ہیں۔‘
وہ خود اسرائیل میں مرکزی دائیں بازو کے حامی ہیں، لیکن انتہائی دائیں بازو کے نہیں، جن کی نمائندگی اتمار بین گویر جیسے مشیر کرتے ہیں، جن پر نسلی امتیاز اور دہشت گردی کی حمایت کا الزام ہے۔
میجر لپسکی اس بات کا اعتراف کرتے ہیں کہ غزہ میں عام شہری متاثر ہوئے ہیں، اور وہ مردہ لوگوں اور معذور بچوں یا خواتین کی تصویر کشی کی تردید نہیں کرتے۔
جنوبی اسرائیل میں ان کے گھر پر گفتگو کے دوران ان کے دونوں بچے قریب کے کمرے میں سو رہے تھے۔ وہ کہتے ہیں کہ ’جنگ لڑنے کا اور کوئی طریقہ نہیں جس میں ایسی تصاویر سامنے نہ آئیں۔‘ پھر انہوں نے ایک اصطلاح استعمال کی جو انہوں نے ماضی کے اسرائیلی سربراہوں سے سنی ہے: ’آپ گھاس اڑنے کے ڈر سے اپنے لان کی گھاس کاٹنا چھوڑ نہیں سکتے۔ یہ ممکن نہیں۔‘
لیکن وہ الزام حماس پر لگاتے ہیں، جنہوں نے ان کے الفاظ میں ’خواتین، بچوں اور فوجیوں کو قتل کیا۔‘
ایسی صورتحال میں، غزہ کی جنگ نے اسرائیل کی ریاست کے مستقبل پر بحث کو روک رکھا ہے۔ یہ بحث حقیقتاً آزاد خیال اور تیزی سے طاقتور ہونے والے انتہائی دائیں بازو کے درمیان ہے، جسے نتن یاہو کی کابینہ میں نمائندگی حاصل ہے۔ حکومت کی جانب سے 2023 میں عدلیہ کے اختیارات کو محدود کرنے کی کوشش کو مدنظر رکھتے ہوئے، جنگ کے بعد سیاسی طلاطم خیز دور آنے کی توقع کی جا رہی ہے۔
اس بحث کے دونوں اطراف کے لوگ اسرائیل کی روح کے دفاع کی بات کرتے ہیں۔ میجر لپسکی سے میری ملاقات جس شام ہوئی، وہ واپس جانے کی تیاری کر رہے تھے۔ ان کے خیال میں حماس کی مکمل شکست تک امن ناممکن ہے۔
دوسری جانب انکار کرنے والے فوجی اپنے اصول پر کھڑے رہنے کا عزم ظاہر کرتے ہیں۔ مائیکل اوفر شاید اسرائیل چھوڑ دیں کیوں کہ ان کو یہ یقین نہیں ہے کہ وہ اب اس ملک میں خوش رہ سکتے ہیں۔ ’مجھے نہیں لگتا کہ میں اپنے بچوں کے لیے جو مستقبل چاہتا ہوں، وہ اس ملک میں ممکن ہے۔‘
یوال ڈاکٹر بننے کی تربیت حاصل کر رہے ہیں اور امید رکھتے ہیں کہ اسرائیل میں امن پسندوں اور فلسطینی شہریوں کے درمیان کوئی نہ کوئی معاہدہ طے پا جائے گا۔ وہ کہتے ہیں کہ ’میرے خیال میں اس تنازع میں دو ہی اطراف ہیں، اسرائیلی اور فلسطینی نہیں بلکہ ایک وہ جو تشدد کے حامی ہیں اور ایک وہ جو بہتر حل تلاش کرنا چاہتے ہیں۔‘
شاید بہت سے اسرائیلی اس بات سے اتفاق نہ کریں لیکن یوال اپنے خیالات سے باز آنے والے نہیں۔