بہاؤ چیخ رہے ہیں تڑپ رہے ہیں بھنور۔۔。
آخری آس
بس ایک آخری جینے کی آس چھوڑ گیا
جو اس کے نام ہے منسوب سانس چھوڑ گیا
یہ بھی پڑھیں: 99 فیصد دولت انسانیت پر نچھاور، بل گیٹس کا بڑا فیصلہ
فراتِ حسن
فراتِ حسن کو وہ بد حواس چھوڑ گیا
جنوں پسند تھا صحرا میں پیاس چھوڑ گیا
یہ بھی پڑھیں: امریکا اور تاجکستان میں حملوں کی ذمہ دار افغان حکومت ہے، پاکستان اپنے دفاع پر کوئی سمجھوتا نہیں کرے گا، دفتر خارجہ
محفل کی رونق
سنا ہے اس کو ستاتی ہے رونقِ محفل
وہ اک مکین جو گھر کو اداس چھوڑ گیا
یہ بھی پڑھیں: جنوبی افریقا، جوہانسبرگ میں فائرنگ سے 9 افراد ہلاک، 10 زخمی
نیا ادب
ادب کے نام پہ شاعر جدید لہجے کا
سماعتوں میں غزل بے لباس چھوڑ گیا
یہ بھی پڑھیں: میں ایک چھوٹی سوچ والے معاشرے میں ’بڑی’ لڑکی ہوں، ریمپ واک پر تنقید کے بعد متھیرا ناقدین پر سخت برہم
سفر کی دھوپ
سفر میں دھوپ کے سورج نے یوں فریب دیا
ہمیں ہمارے ہی سائے کے پاس چھوڑ گیا
یہ بھی پڑھیں: راولپنڈی؛ افغانستان سے لائی گئی لڑکی کا شادی سے انکار، پولیس سے مدد طلب کر لی
حسیں خواب
بنے گئے ہیں حسیں خواب نوکِ مژگاں پر
کسان آنکھ میں اب کے کپاس چھوڑ گیا
یہ بھی پڑھیں: وفاقی بیوروکریسی میں اہم تقرر و تبادلے
بلندیوں کی باتیں
بلندیوں پہ تھا وہ میرے ساتھ چڑھتے ہوئے
ڈھلان اترتے ہوئے نا سپاس چھوڑ گیا
یہ بھی پڑھیں: موسم سرما میں گھریلو صارفین کے لیے گیس کی فراہمی کا شیڈول جاری
اداس منظر
بہاؤ چیخ رہے ہیں تڑپ رہے ہیں بھنور
ندی میں کون یہ منظر اداس چھوڑ گیا
یہ بھی پڑھیں: ستاروں کی روشنی میں آپ کا آج (جمعرات) کا دن کیسا رہے گا؟
ادب برائے تفنن
ادب برائے تفنن کا بادہ کش اشہر
سخن کی میز پہ جوٹھے گلاس چھوڑ گیا
کلام
کلام : نوشاد اشہر اعظمی (بلریا گنج اعظم گڑھ، بھارت)








