ندامت پر مبنی روئیے کے ذریعے آپ اپنے ماضی یا مستقبل کو تبدیل کر لیں گے تو پھر آپ کسی اور ہی سیارے کی مخلوق ہیں جہاں کی حقیقت مختلف ہے
مصنف کی معلومات
مصنف: ڈاکٹر وائن ڈبلیو ڈائر
ترجمہ: ریاض محمود انجم
قسط: 71
یہ بھی پڑھیں: مولانا فضل الرحمان نے بانی چیئرمین پی ٹی آئی سے ملاقات کی خبروں کی تردید کردی
ندامت، پشیمانی اور فکرمندی
بے کار جذبات
"اگر آپ کا یہ خیال ہے کہ ندامت و پشیمانی پر مبنی روئیے اور طرزعمل کے ذریعے آپ اپنے ماضی یا مستقبل کو تبدیل کر لیں گے تو پھر آپ کسی اور ہی سیارے کی مخلوق ہیں جہاں کی حقیقت مختلف ہے۔"
یہ بھی پڑھیں: کراچی کے مین ہول سے ملنے والی 4 لاشوں کی ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ میں بڑا انکشاف
زندگی کے فضول جذبات
آپ اپنی زندگی میں دو فضول، بیکار اور بے مصرف جذبات کا شکار رہتے ہیں، ایک جذبے کا تعلق آپ کے ماضی سے ہے جسے ندامت، شرمندگی اور پچھتاوا کہتے ہیں کہ "کاش میں نے یہ کام نہ کیا ہوتا۔" دوسرے جذبے کا تعلق مستقبل سے ہے جسے فکرمندی کہتے ہیں کہ "اب کیا ہوگا؟" یہ وہ 2 جذبات ہیں جو نہایت ہی بیکار، بے مصرف اور فضول ہیں یعنی فکرمندی اور ندامت، پشیمانی…… اور پھر ندامت، پشیمانی اور فکرمندی۔
یہ بھی پڑھیں: ماہا حسن کا بچپن میں ہراساں کیے جانے کا انکشاف
ندامت اور فکرمندی کا تعلق
جب آپ اپنے وجود میں موجود ان 2 خامیوں، کمزوریوں اور نقصان دہ عادات کا جائزہ لیتے ہیں، ان کا تجزیہ کرتے ہیں تو آپ کو یہ معلوم ہونا شروع ہو جاتا ہے کہ یہ کیسے باہمی طور پر مربوط ہیں۔ درحقیقت یہ ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں:
ندامت، پشیمانی (ماضی) | فکرمندی (مستقبل)
یہ بھی پڑھیں: کسی کا باپ بھی چاہے تو 18ویں ترمیم ختم نہیں کرسکتا، بلاول بھٹو زرداری
موجودہ لمحے میں اثر
آپ کے وجود کے اندر یہ دونوں جذبے موجود ہیں۔ ندامت، پشیمانی سے مراد یہ ہے کہ آپ اپنے ماضی کے روئیے اور عادت کے باعث اپنے موجودہ لمحے میں غیرفعال اور بے عمل ہو جاتے ہیں جبکہ فکرمندی ایک ایسی رکاوٹ ہے جو آپ کو موجودہ لمحے میں مستقبل کے تناظر میں غیرفعال اور بے عمل کر دیتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بھارت کے اعلانات غیر مناسب ، ترکی بہ ترکی جواب دیا جائے گا: وزیر خارجہ
ذہن کی کشمکش
یہ صورتحال آپ پر اس طرح حملہ آور ہوتی ہے کہ آپ کو اس پر کوئی قابو نہیں رہتا۔ ایک ایسے واقعے کے بارے جو ابھی واقعہ ہوا ہو، اگر آپ ندامت اور پشیمانی محسوس کرتے ہیں یا پھر کسی ایسے واقعے کے متعلق فکرمندی کا اظہار کرتے ہیں جو واقع ہو چکا ہو تو پھر آپ ان دنوں جذبوں کا واضح طورپر مشاہدہ کر سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: فیصلہ کن ون ڈے: جنوبی افریقا کی پاکستان کے خلاف بیٹنگ جاری
رابرٹ جونز برڈیٹ کا نظریہ
اس مرحلے پر رابرٹ جونز برڈیٹ اپنی کتاب "Golden Day" میں لکھتا ہے:
"انسان کو اس کے موجودہ (حال) حالات پاگل بننے پر مجبور نہیں کرتے بلکہ انسان پاگل اس لیے ہو جاتا ہے کہ ماضی کا کوئی واقعہ اسے خوفزدہ کر دیتا ہے یا پھر مستقبل میں ہونے والا واقعہ اس کے لیے خوفناک ثابت ہوتا ہے۔"
یہ بھی پڑھیں: کسی دہشتگرد تنظیم سے بات نہیں کرنی چاہیے، کوئی خطے میں اپنی بدمعاشی ثابت کریگا تو پاکستان بھر پور جواب دیگا: سپیکر پنجاب اسمبلی
ندامت اور فکرمندی کا مشاہدہ
اپنے روزمرہ معمولات زندگی اور تعلق داری میں آپ کو ندامت اور پشیمانی کے بارے بے شمار مثالیں نظر آتی ہیں۔ یہ کائنات ایسے لوگوں سے بھری پڑی ہے جو یا تو ان امور کے متعلق دہشت محسوس کرتے ہیں جن کو انجام نہیں دینا چاہیے تھا یا ان امور کے متعلق حیرت اور پریشانی میں مبتلا ہو جاتے ہیں جو رونما ہو بھی سکتے ہیں اور رونما نہیں بھی ہو سکتے…… آپ بھی ان لوگوں میں شامل ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: سندھ ہائیکورٹ: کاروکاری کے الزام میں قتل نوجوان کی نعش ڈھونڈنے کیلئے کمیٹی بنانے کا حکم
خود کو پاک کرنا
اگر آپ بھی کثرت سے ندامت، پشیمانی اور فکرمندی کے جذبات سے مغلوب ہیں تو پھر آپ کی ذات ہمیشہ کے لیے ان سے پاک ہو جانی چاہیے۔ ان ندامتوں، پشیمانیوں اور فکرمندیوں پر مشتمل جراثیموں سے اپنی زندگی کو پاک کر بیٹھئے جن کے باعث آپ کو بہت سے امراض لاحق ہو جاتے ہیں۔ (جاری ہے)
نوٹ
یہ کتاب "بک ہوم" نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں) ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔








