کراچی میں سیمنٹ وکٹ کی کرکٹ ختم نہیں ہونی چاہیے تھی، شاہد آفریدی
شاہد آفریدی کا ٹیلنٹ اور ترقی پر اظہار خیال
کراچی(ڈیلی پاکستان آن لائن) پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان شاہد آفریدی نے کہا ہے کہ پاکستان میں ٹیلنٹ کی کوئی کمی نہیں، لیکن یہ بدقسمتی سے تیزی سے ضائع ہو جاتا ہے۔ انہوں نے کراچی میں سیمنٹ وکٹ کرکٹ کے خاتمے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہی وہ وکٹیں تھیں جہاں سے بہترین بلے باز پیدا ہوتے تھے۔
یہ بھی پڑھیں: سپریم کورٹ میں آئندہ ہفتے 968 مقدمات سماعت کیلئے مقرر
نوجوان کھلاڑیوں کی اہمیت
آفریدی نے نوجوان کھلاڑی صائم ایوب کو پاکستان کا مستقبل قرار دیا اور کہا کہ وہ تینوں فارمیٹس میں ملک کے لیے ٹاپ پرفارمر بننے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ ساتھ ہی انہوں نے آل راؤنڈر عامر جمال کو عبدالرزاق کی یاد تازہ کرنے والا کھلاڑی قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ پاکستان کے لیے اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ہمارا کوئی ذاتی ایجنڈا اور انا نہیں، اپنی مسلح افواج پر فخر ہے: زرتاج گل
سوشل میڈیا کا اثر
شاہد آفریدی نے کھلاڑیوں کو مشورہ دیا کہ سوشل میڈیا پر وقت ضائع کرنے کے بجائے اپنی پرفارمنس پر توجہ دیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پلیئرز کو کرکٹ صرف ان کی کارکردگی کی بنیاد پر کھلائی جاتی ہے، نہ کہ ان کے سوشل میڈیا فالورز کی وجہ سے۔
یہ بھی پڑھیں: ویمنز ورلڈ کپ، بھارت جنوبی افریقا کو شکست دے کر عالمی چیمپئن بن گیا
بھارت کے ساتھ کرکٹ تعلقات
بھارت کے ساتھ کرکٹ تعلقات پر آفریدی نے کہا کہ مضبوط موقف اختیار کرنے کے لیے پاکستان کو اپنے پیروں پر کھڑا ہونا ہوگا۔ آئی سی سی پر تنقید کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ کرکٹ کو سب کے لیے کھیلنا ہے یا صرف پیسے کو ترجیح دینا ہے۔ چیمپئنز ٹرافی کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ اگر بھارت پاکستان نہیں آتا تو ہمیں بھی وہاں نہیں جانا چاہیے۔
یہ بھی پڑھیں: میں اس قیدی کے ساتھ اظہار یکجہتی کرتا ہوں، جس کے ساتھ کوئی ملاقات کرنا ہی نہیں چاہتا، سینیٹر ایمل ولی خان
نوجوانوں کے لئے پیغام
شاہد آفریدی نے نوجوانوں کو پیغام دیا کہ عمر صرف ایک عدد ہے، خوابوں کی تعبیر کے لیے خود پر اور اللّٰہ پر یقین رکھنا ضروری ہے۔ انہوں نے اپنے ابتدائی دنوں کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ جب کے پی سے کراچی آئے تو یہاں انہیں بہترین ماحول ملا اور کراچی کی ترقی میں اردو بولنے والوں کا اہم کردار رہا۔
یہ بھی پڑھیں: بشریٰ بی بی کی عبوری ضمانت میں توسیع، تمام مقدمات کے چالان طلب
ذاتی تجربات اور سبق آموز باتیں
شاہد آفریدی نے انکشاف کیا کہ اگر عمران خان نہ ہوتے تو وہ کرکٹ میں کبھی نہ آتے۔ انہوں نے کہا کہ پہلے فاسٹ بولنگ کرتے تھے لیکن بعد میں اسپن بولنگ شروع کی۔ اپنی مشہور ریکارڈ ساز اننگز کے حوالے سے انہوں نے بتایا کہ وہ بغیر کسی پلان کے کھیلی تھی۔
یہ بھی پڑھیں: سلمان اکرم راجہ کی نامزدگی نے نیا تنازہ کھڑا کر دیا، کیا عمران خان نے اپنے پارٹی آئین کی خلاف ورزی کی۔۔۔؟ تہلکہ خیز انکشاف
بہتری کا راز
آفریدی نے کہا کہ بہتری کے لیے سب سے اہم بات اپنی غلطیوں کو تسلیم کرنا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ کچھ لوگوں کو یہ بات برداشت نہیں ہوتی تھی کہ وہ ٹیم میں کیوں ہیں، لیکن وہ ہمیشہ اپنے کھیل پر توجہ مرکوز رکھتے تھے۔
نوجوان کرکٹرز کے لیے حوصلہ افزائی
شاہد آفریدی کی یہ باتیں نوجوان کرکٹرز اور شائقین کے لیے ایک سبق اور حوصلہ افزا پیغام ہیں۔








