جدید ترک ڈرونز کا شاندار ریکارڈ بھارتی فوج کیلئے دردِ سر بن گیا
بنگلا دیش کی ڈرون تعیناتی
نئی دہلی(ڈیلی پاکستان آن لائن) بنگلا دیش نے بھارت سے ملحق سرحد پر ترکیہ کے تیار کردہ بیریکٹر ٹی بی ٹو ڈرونز کا تعینات کیا ہے، جس پر بھارتی قیادت جیسے ہوش ہی کھو بیٹھی ہے۔ ان ڈرونز کے حوالے سے بنگلا دیش کے خلاف پروپیگنڈا شروع ہوگیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: جی ایچ کیو گیٹ حملہ کیس کا تفتیشی افسر دوسری بار تبدیل
بھارت کی تیاری پر سوالات
انڈیا ٹوڈے نے ایک رپورٹ میں سوال اٹھایا ہے کہ بنگلا دیش نے تو یہ قدم اٹھالیا، کیا بھارت اس کے لیے تیار ہے؟ یعنی کیا اس میں جدید ترین طرز کے ڈرون کا سامنا کرنے کی صلاحیت و سکت ہے؟ یہ جدید ترین ڈرون چھوٹے حملوں کے لیے اچھی طرح بروئے کار لائے جا سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ایم کیو ایم کا سندھ ہائی کورٹ کے ایم ڈی کیٹ ٹیسٹ دوبارہ منعقد کرانے کے حکم کا خیرمقدم
خفیہ آپریشن کا مقصد
بنگلا دیش نے کہا ہے کہ ان ڈرونز کی تعیناتی کا مقصد خفیہ آپریشن ہے نہ کہ نگرانی۔ ان کا مقصد صرف یہ ہے کہ کسی بھی حملے کا منہ توڑ جواب فوری طور پر دیا جا سکے۔
یہ بھی پڑھیں: بات انکے ساتھ ہوگی جنکے پاس طاقت ہے، 17 نشستوں والوں کے پاس کوئی اختیار نہیں: علیمہ خان
ماضی کے تجربات
یاد رہے کہ 2020 میں نگورنو کاراباخ کے معاملے میں آرمینیا سے جنگ میں آذربائیجان نے یہ ڈرون خاصی مہارت سے استعمال کرکے فتح یقینی بنائی تھی۔ اس وقت دنیا کو یہ پتہ چلا تھا کہ ترکیہ جدید ترین ٹیکنالوجیز سے مزین ڈرون تیار کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔
فوجی طاقت کا موازنہ
آرمینیا کی فوج آذری فوج سے کہیں بڑی تھی اور اس کے پاس روسی ساخت کے T72 ٹینک، میزائل، ڈرون اور دیگر ہتھیار اور ساز و سامان بھی تھے۔ لیکن آذربائیجان کی چھوٹی فوج نے خاصی مستعدی سے ترک ساختہ ڈرون استعمال کیے اور فتح یقینی بنائی۔ بیریکٹر ٹی بی ٹو ڈرونز کی شاندار کارکردگی کا ریکارڈ ہی بھارت کو پریشان کر رہا ہے۔ یاد رہے کہ یوکرین نے بھی ترکیہ سے یہ ڈرون بڑی تعداد میں حاصل کر کے استعمال کیے ہیں۔








