چورنڈ اوورسیز فاؤنڈیشن کی طرف کلین پراجیکٹ کا افتتاح ہوگیا
چورنڈ اوورسیز فاؤنڈیشن کی کلین پراجیکٹ کا افتتاح
منڈی بہاوالدین (ویب ڈیسک) چورنڈ اوورسیز فاؤنڈیشن کے زیر اہتمام کلین پراجیکٹ کا افتتاح کیا گیا۔ افتتاحی تقریب میں چورنڈ علاقے سے بڑی تعداد میں شہریوں نے شرکت کی اور اوورسیز کی کوششوں کو خراج تحسین پیش کیا۔
یہ بھی پڑھیں: پشاور ہائیکورٹ کا رمضان میں سحری اور افطاری کے وقت لوڈ شیڈنگ نہ کرنے کا حکم
پروگرام کی تفصیلات
تفصیلات کے مطابق، چورنڈ اوورسیز فاؤنڈیشن نے منڈی بہاوالدین کے نواحی گاؤں چورنڈ میں قلیل عرصے میں اچھی شہرت حاصل کی ہے۔ تنظیم نے چورنڈ کے نام سے کلین پروگرام شروع کیا، جو جلد ہی اپنے پایہ تکمیل تک پہنچ گیا۔ پورے گاؤں میں ڈسٹ بین نصب ہوچکے ہیں اور آج باقاعدہ افتتاح کے بعد عملی طور پر کام شروع ہوگیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: 26ویں آئینی ترمیم کا کام کسی اور چیف جسٹس کی موجودگی میں ممکن نہیں تھا، بلاول بھٹو کا برطانوی نشریاتی ادارے کو انٹرویو
تقریب کا آغاز
تقریب کا باقاعدہ آغاز تلاوت کلام پاک سے ہوا، اس کے بعد ہدیہ نعت اور اوورسیز فاؤنڈیشن کے ممبر مزمل صابری نے فنڈ بریفنگ دی۔
یہ بھی پڑھیں: جرمنی سے ملنے والی 1800 سال پرانی ایسی چیز جو یورپ میں عیسائیت کی تاریخ بدل سکتی ہے
معززین کی شرکت
معروف مذہبی شخصیت قاری حق نواز چشتی نے اوورسیز فاؤنڈیشن کی تعریف کی اور مکمل حمایت کا یقین دلایا۔ حکیم میاں محمد زمان اور محمد آشرف صوبے کا نے بھی اوورسیز فاؤنڈیشن کے متعلق بریفنگ پیش کی اور تنظیم کے مقاصد بیان کیے۔
یہ بھی پڑھیں: پنجاب میں بزنس آن لائن ہے، وزیراعلیٰ مریم نواز سے چین کے سرمایہ کاروں کے وفد کی ملاقات
فیڈ بیک سیشن
نوید افضل نے حاضرین سے فاؤنڈیشن کے متعلق فیڈ بیک لیا، جسے سب کی جانب سے بہترین قرار دیا گیا اور اس کام کی تعریف کی گئی۔

یہ بھی پڑھیں: واٹس ایپ میں وائس میل جیسے مسڈ کالز میسجز سمیت متعدد نئے فیچرز متعارف
چورنڈ اوورسیز فاؤنڈیشن کا قیام
یاد رہے کہ چورنڈ اوورسیز فاؤنڈیشن کا قیام 22 ستمبر 2024 کو اوورسیز چورنڈ کی مشاورت سے عمل میں آیا تھا۔ تنظیم ہر ماہ ویلفیئر کے سلسلے میں اپنی رپورٹ شائع کرے گی، جس میں گاوں کے لیے کی جانے والی سرگرمیوں، جمع شدہ رقم اور خرچ کی گئی رقم کی معلومات شامل ہوں گی۔

ویلفیئر کے مقاصد
چورنڈ اوورسیز فاؤنڈیشن کے مقاصد میں چورنڈ گاوں کو مثالی بنانا، بلاتفریق صفائی کا انتظام کرنا، کوڑے کرکٹ کو ٹھکانا، ڈرم اور رکشہ کا باقاعدہ انتظام، سب کی مشاورت سے گاوں کو سیف سٹی بنانے کے لیے کیمروں کی تنصیب، لائٹنگ کا انتظام، شجرکاری، اور واٹر سسٹم کی بہتری شامل ہے۔









